30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تاج سجا لیا اور مدنی حلیہ اپنا کر دعوت اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہو گئے، مدنی ماحول نے جہاں انہیں اپنی قبر وآخرت کی بہتری کی مدنی فکر سے مالامال کیا وہیں ان کے دل میں اہلِ خانہ کی اصلاح کی تڑپ پیدا ہوگئی، وہ وقتاًفوقتاً انفرادی کوشش کرتے اور گھروالوں کو آخرت کی تیاری کے لیے سنّتوں بھرے اجتماعات میں شریک ہونے کا مدنی ذہن دیتے ، ان کی انفرادی کوشش سے ایک مرتبہ مجھے دعوتِ اسلامی کے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی آخری نشست سننے کی سعادت نصیب ہوگئی، کرم بالائے کرم یہ کہ۴۱۴۱ھ مطابق 1994 ء میں بنتِ عطار باجی کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، ان سے ملاقات کی سعادت حاصل کرنے کے بعد علاقے میں ہونے والے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شریک ہونے کا مزید مدنی ذہن بن گیا، یوں میں بھی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے لگی، کبھی کبھا ر نفس وشیطان اور سستی و کاہلی مجھ پر غالب آجاتی تھی جس کی وجہ سے میں اجتماع میں شریک نہ ہو پاتی مگر اکثر و بیشتر اس کی برکات سے مالا مال ہوتی تھی، خوفِ خدا اور عشقِ مصطفٰے رکھنے والی باپردہ اسلامی بہنوں کی رفاقت کیا ملی میرے دل میں مدنی انقلاب برپاہو گیا، میں نے فیشن سے ناطہ توڑا اور اپنی اندھیری قبر کوپیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جلووں سے روشن کرنے کے لیے سنّتوں کی عامل بن گئی، کل تک نمازیں قضا کردیتی تھی اور کوئی افسوس نہیں ہوتا تھا مگر اب نہ صرف نمازوں کی پابند بن گئی ہوں بلکہ دیگر اسلامی بہنوں کو بھینماز کی دعوت دیتی ہوں ، اب اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے حکم پر عمل کرتے ہوئے باپردہ رہنے کی کوشش کرتی ہوں ، دل و دماغ پر چھایا فیشن پرستی کا شوق ختم ہوگیا ہے ، مزید گانے باجے اور فلمیں ڈرامے دیکھنے کی بجائے مدنی ماحول کی برکت سے مدنی چینل دیکھنا میرا معمول بن چکا ہے، تادمِ تحریر عالمی مجلس مشاوت کی رُکن ہونے کی حیثیت سے آقائے دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتیں عا م کرنے میں کوشاں ہوں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہرعاقل وبالغ مسلمان مرد وعورت پر نماز فرض ہے ، نماز نفس وشیطان کے حملوں سے بچاتی ہے ، بے حیائی اور بُری بات سے روکتی ہے ، نمازی سے شیطان خوف زدہ رہتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ یہ بَدبخت نماز پڑھنے سے روکتاہے ، تاکہ بے نمازی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی میں مبتلا ہوکر رحمت ِخداوندی سے محروم ہوجائے، پھر یہ اسے نِت نئے گناہوں کے جال میں پھانس سکے ، یادرکھیے! بے نمازی کے بارے میں سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ
منقول ہے ، جہنَّم میں ایک وادی ہے جس کا نام لَمْلَم ہے، اس میں اونٹ کی گردن کی طرح موٹے موٹے سانپ ہیں ، ہر سانپ کی لمبائی ایک ماہ کی مَسافَت کے برابر ہے ۔ جب یہ سانپ بے نَماز ی کو ڈَسے گا تو اُس کا زہر اس کے جسم میں ستَّر سال تک جوش مارتا رہے گا اورجہنَّم میں ایک وادی ہے جس کا نام جَبُّ الْحُزْن ہے اس میں کالے خچّرکی مانند بچّھوہیں۔ اس کے ستَّر ڈنک ہیں اور ہر ڈنک میں زہر کی تھیلی ہے ۔ وہ بچّھوجب بے نَمازی کو ڈنک مارتا ہے تو اُس کا زہر اس کے سارے جسم میں سَرایت کرجاتاہے اوراس زَہر کی گرمی ایک ہزار سال تک رہتی ہے ۔ اس کے بعد اس کی ہڈّیوں سے گوشت جَھڑتا ہے اور اس کی شرمگاہ سے پیپ بہنے لگتی ہے اورتمام جہنَّمی اُس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ (قُرَّۃُ العُیُون معہ الرَّوضُ الفائِق ص، ۳۸۵)
باب المدینہ (کراچی) کی مقیم اسلامی بہن کے مکتوب کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کی حیاسے معمور فضاؤں میں داخل ہونے سے قبل نمازوں کی پابندی سے محروم تھی، فیشن کرنے کی عادت تھی، فلمیں ، ڈرامے بھی شوق سے دیکھتی تھی، میری زندگی میں سنّتوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع