30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس میں بیان فرمانے کے لیے بابُ المدینہ (کراچی) سے بانی دعوت اسلامی شیخ طریقت امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ا بوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تشریف لا رہے ہیں ، اس سنّتوں بھرے اجتماع میں اسلامی بہنوں کے لیے پردے کا اہتمام کیا جائے گا۔ چنانچہ میں مقررہ دن اجتماع کی برکات لوٹنے کے لیے اجتماع گاہ پہنچ گئی۔ اجتماع کا آغاز تلاوت و نعت شریف سے ہوا اس کے بعد امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا سنتوں بھرا بیان شروع ہوا، بیان کے اختتام پر جب بیعت کرائی گئی تو میں بھی سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں شامل ہو کر آپ کے دامن کرم سے وابستہ ہو گئی مزید آخرمیں جب دُعاکا سلسلہ شروع ہوا تو میں نے بھی اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے معافی مانگی اور نیکیوں بھری زندگی گزار نے کا ارادہ کر لیا اس موقعے پر اسلامی بہنوں نے شفقت فرمائی اور ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کا مدنی ذہن دیا یوں میں اجتماع میں شرکت کرنے لگی اور رفتہ رفتہ میں مدنی ماحول کے رنگ میں رنگتی چلی گئی، مدنی کاموں میں حصہ لینا میرامعمول بن گیا ۔ تادمِ بیان عالمی مجلسِ مشاورت کی رکن ہونے کی حیثیت سے حسب ِتوفیق سنّتیں عام کرنے میں مصروف ہوں۔
نہ چھوٹے ہاتھ سے دامن کبھی عطار کا یا رب
رہوں میں با ادب اور با وفا عطار کا یا رب
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مدنی ماحول سے نابلد تھی۔۱۴۰۹ ھ مطابق 1989ء میں میری شادی ایسے گھرانے میں ہوئی جو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک تھا، گھر کے افراد سنّتوں بھرے اجتماعات میں شوق سے شرکت کرتے، وقتاً فوقتاً گھر میں قراٰن خوانی اور اجتماعِ ذکر و نعت کی ترکیب ہوتی، بالخصوص ہر سال بڑی گیارہویں شریف کے موقع پر انتہائی محبت وعقیدت کے ساتھ حضور غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ایصال ثواب کے لیے گھر میں اجتماعِ غوثیہ ہوتا، نیاز کا اہتمام کیاجاتا ، حمد ، نعت شریف اور منقبت پڑھی جاتیں ، گھر میں ایک روح پرور منظر ہوتا چونکہ میں اسکی برکتوں سے ناآشنا تھی اور میرے لیے یہ سب نیا تھا اس لیے مجھے یہ سب عجیب سا لگتا، میری سوئی ہوئی قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی، ایک مرتبہ گھر میں بڑی گیارہویں شریف کے اجتماع کا انعقاد تھا، دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ اسلامی بہنیں بھی شریک تھیں ، ایک اسلامی بہن نے اعلی حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا کلام ’’پُل سے اتارو راہ گزر کوخبر نہ ہو ‘‘ پڑھا ، پُرسوز آواز میں یہ اشعار سن کر میرے دل پر ایک رِقت طاری ہوگئی ، جوں جوں ایک عاشق رسول کا لکھا ہوا کلام سنتی گئی، میرے دل کی کیفیت بدلتی گئی، الغرض اس پُرتاثیر کلام نے میرے اندر مدنی انقلاب برپا کردیا، نعت شریف پڑھنے کا شوق دل میں پیدا ہوگیا، جب اجتماع اختتام پذیر ہوا، تو میں نے آگے بڑھ کر نعت خواں اسلامی بہن سے ملاقات کی اور اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ میں بھی نعت شریف پڑھنا چاہتی ہوں ، انہوں نے شفقت فرماتے ہوئے میری رہنمائی فرمائی یوں میں نعت شریف پڑھنے کی برکتوں سے مالامال ہونے لگی۔
اس کے بعد میں نے دعوتِ اسلامی کے مدرسۃ المدینہ للبنات میں اپنی مدنی منّی کو پڑھانے کا ارادہ کرلیا ایک دن جب میں اس کے دا خلے کے سلسلےمیں مدرسۃ المدینہ حاضر ہوئی تو وہاں پر اسلامی بہنوں سے ملاقات ہوئی، میں نے اپنی مدنی منّی کے داخلے کے بارے میں عرض کی تو انہوں نے کہا مدنی فیس دینے ہوگی اور وہ مدنی فیس یہ ہے کہ آپ کو اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع