30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بزرگانِ دین سے نہایت محبت و عقیدت رکھنے والے تھے، وقتاً فوقتاً ہمیں بھی اولیا ء کرام کی کرامتیں سناتے اور ان کی عظمت و شان کے متعلق بتاتے یوں بچپن ہی سے اللہ عَزَّوَجَلَّکے نیک بندوں کی محبت دل میں گھر کر چکی تھی، والد صاحب کی خواہش تھی کہ ہمیں کسی باشرع پیر صاحب کا مرید بنا دیں اسی غرض سے ہمیں ایک پیرصاحب کے آستانے پر لے گئے مگر پیرصاحب کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی، جس کی وجہ سے ہم مرید ہوئے بغیرلوٹ آئے، ہمیں کیا خبر تھی کہ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مرید ہونے کی سعادت ہماری قسمت میں ہے، سبب کچھ یوں بنا کہ ہمارے شہر گجرات میں ایک عظیم الشان سنّتوں بھرے اجتماع کا انعقاد ہوا جس میں بیان کرنے کے لیے امیرِاہلسنّت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَویضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تشریف لائے، اسلامی بہنوں کے لیے سنّتوں بھرے بیان سے مستفیض ہونے کے لیے پردے کا انتظام کیا گیا تھا۔
جب ہمیں اس اجتماع کے بارے میں علم ہوا تو اس کی برکتوں سے مالامال ہونے کے لیے مقررہ دن اجتماع گاہ پہنچ گئے، کثیر تعداد میں اسلامی بہنیں موجود تھیں ، جنہیں دیکھ کر بہت اچھا لگا، مزید جب امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے بیان کا آغاز ہوا تو میں نے بغور اسے سنا، ایک ولی کامل کی پُر تاثیر آواز کانوں کے راستے دل میں اتر گئی، زندگی میں پہلی بارایسا بیان سناکہ جس نے میرے دل میں ہلچل مچا دی اورنیکیوں کی طرف مائل کر دیا، اجتماع کے اختتام پر جب مرید ہونے کے بارے میں ترغیب دلائی گئی تو موقع غنیمت جانتے ہوئے میں بھی امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادریہ عطاریہ میں داخل ہو گئی، ایک ولی کامل سے نسبت کیا قائم ہوئی، دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کا مدنی ذہن بن گیا خوش قسمتی سے ایک دن مجھے کہیں سے فیضانِ سنّت مل گئی، جب اس کا مطالعہ کیا تو دل باغ باغ ہو گیا، امیرِاہلسنّت کے خوفِ خدا اور عشقِ مصطفٰے کے متعلق پڑھا تو ایمان تازہ ہوگیا، آپ کی محبت دل میں جاگزیں ہو گئی مزیدجب اس میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کے متعلق پڑھا تو میں نے اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماع کا مقام معلوم کیا اور اس میں شرکت کرنا اپنا معمول بنالیا، جہاں سنّتوں بھرے بیانات سننے کی برکت سے میری کیفیت بدل گئی وہیں توبہ کی توفیق ملی، دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماعات سے ڈھیروں ڈھیر برکتیں ملنے لگیں ، فرائض عبادات کے ساتھ ساتھ نوافل پڑھنے اور سنّتوں پر عمل کرنے کی سعادت بھی ملنے لگی، تادم تحریر عالمی مجلس مشاورت کی رکن ہونے کی حیثیت سے مدنی کام کرنے کی سعادت پا رہی ہوں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیواور اسلامی بہنوں ! مذکورہ مدنی بہار میں والد صاحب کی تربیت کی برکت سے اُن اسلامی بہن کے دل میں بچپن ہی سے اولیا ءکرام کی محبت موجزن ہو گئی تھی، یہ ایک مسلّمہ بات ہے کہ اولاد کے اچھے اخلاق و کردار میں والدین کابہت بڑا کردار ہوتا ہے، عمومی طور پر گھر میں جیسا ماحول ہوتا ہے بچہ اس سے ضرور اثر لیتا ہے اگر گھر میں سنّتوں بھرا مدنی ماحول ہو گا تو بچے بھی سنّتوں پر عمل کرنے کی طرف راغب ہوں گے، لہٰذا اپنے مدنی منّوں اور منّیوں کواچھے آداب سکھانے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مابین عدل قائم رکھنا چاہیے چنانچہ،
حضرت سیدناانس رَضِی اللہ تَعالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: اپنی اولاد کا اِکرام کرو اور اُنہیں اچھے آداب سکھاؤ۔ (ابن ماجہ، کتاب الأدب، باب بر الوالدإلخ، ۴ / ۱۸۹، حدیث: ۳۶۷۱)
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِی اللہ تَعالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: باپ کے ذمہ بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع