30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہو تا اور سفر اختیار کر تا ہے ۔ اگر وہ کسی اسٹیشن پر اتر جاتا ہے تو ٹرین رکی نہیں رہتی بلکہ آگے بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ کو ئی مسافر کیسا ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو اس کے اتر کر چلے جانے سے ٹرین کے سفر پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ ٹرین مسلسل چلتی رہتی ہے ۔ اگر کچھ مسافر اتر تے ہیں تو دوسرے چڑھ جاتے ہیں ۔کچھ اسی انداز سے’’ دعوتِ اسلامی ‘‘ (سوئے مدینہ)اپنا سفر جاری رکھے ہو ئے ہے ۔ اس کی ٹرین سے مشابہت اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ کو ئی فرد اسکا جزو لاینفک نہیں کہ اسکے جانے سے ’’دعوتِ اسلامی ‘‘ سلامت نہ رہے ۔ بلکہ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘ کی گاڑی ان شاء اللّٰہ عزوجل سلامت روی سے چلتی رہے گی اگر کو ئی چلتی گاڑی سے چھلانگ لگاتا ہے تو اپنا نقصان کر تا ہے نہ کہ گاڑی کا ۔ لہٰذا ہر ایک اس حقیقت پر نظر رکھتے ہو ئے اپنے آپ کو مدنی کاموں میں مصروف رکھ کر اپنی نجات کا سامان کرے اور یہ بات بھی اپنے ذہن میں محفوظ کر لے کہ آج جو کام وہ کر رہا ہے اس کے علاوہ کو ئی اور بھی کر سکتا ہے ۔
لہٰذا اپنی انفرادی شخصیت بنانے کی دُھن کیوجہ سے تقسیمِ کار کے عمل کو درست طور پر نافذ نہ کر نے والا اپنے رویے میں تبدیلی پیدا کرے اور اس بات کو تسلیم کرے کہ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘ محض اس کی محتاج نہیں بلکہ اس کے جانے کے بعد ایسے کئی اسلامی بھائی ہیں جو اس کا نعم البدل بن کر اس سے بہتر کار کردگی پیش کر سکتے ہیں ۔حُبِّ جاہْ کے شکار ایسے اسلامی بھائی کو چاہیے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرے اور اس سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگے کہ اس ربِّ بے نیاز عزوجل کو اس بات کی پرواہ ہی کب ہے کہ کو ئی خاص شخص اس کے دین کا کام کرے ۔ وہ پر ور دگارِ غنی و صمد عزوجل اپنے بندوں میں سے جس سے چاہتا ہے اپنے دین کی خدمت لے لیتا ہے ۔ وہ اسلامی بھائی اس بات کا بھی خوف رکھے کہ اگر اس کی حبِّ جاہ اورمرتبے کی خواہش کی وجہ سے کو ئی دینی نقصان ہو گیا تو اس مُنْتَقِم حقیقی عزوجل کی پکڑبڑی شدیدہے ۔
قر آ نِ پاک تنبیہ فرماتا ہے :
اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ(۱۲) (پ ۳۰، سورۃ البروج : ۱۲ )
ترجمہ کنز الایمان : بیشک تیرے ربّ کی گرفت بہت سخت ہے ۔
لہٰذا آخرت کی عزت و سر بلندی کی خاطر دنیا میں برتری کی خواہش ترک کر کے تکبر و بڑائی اور دینی نظام میں فساد سے بچے اور اللّٰہ تعالیٰ کا یہ فرمان پیش ِ نظر رکھے ۔
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ- (پ۲۰، القصص : ۸۳)
ترجمۂ کنز الایمان : یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لئے کر تے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد ۔
اس لئے ہر اسلامی بھائی عاجزی اختیار کرے اور اپنی’’ دعوتِ اسلامی ‘‘کا مخلص مبلغ بن کر اپنی اور ساری دنیا کے لو گوں کی اصلاح کی کو شش کرے اور اخلاص کا تقاضا یہ ہے کہ تقسیم کارکے ذریعے ماتحت اسلامی بھائیوں کو آگے لاتے ہوئے مدنی کام میں اضافے اور بہتری کا سبب بنے ۔
کسی کام میں مخلص ہونے کی مثال ہمارے علمائِ کرام یوں دیتے ہیں کہ ایک شخص کسی کنویں میں گرے ہو ئے آدمی کو نکالنے کی کو شش کر رہا ہو اور اس کا مقصود اس کی جان بچانا ہو ۔ اتنے میں ایک اور شخص آئے اور کسی تر کیب سے اس آدمی کو کنویں سے نکال کر اس کی جان بچالے ۔ اب پہلا شخص اگر اس پر دل میں خوشی محسوس کرے تو سمجھ لے کہ وہ اس کنویں میں گرے ہو ئے کی جان بچانے میں مخلص تھا کیونکہ یہ مقصود تو حاصل ہو گیا خواہ کسی دوسرے کے ذریعے ہی سہی اور اگر اس کا دل اس پر ناخوش ہو کہ دوسرے نے کیوں نکالا مجھے نکالنا تھا تووہ سمجھ لے کہ وہ اس گرے ہوئے کی جان بچانے میں مخلص نہ تھا بلکہ اپنے نمبر بنانے اور اپنی واہ واہ کر وانے کا خواہش مند تھا ۔
لہٰذا ہر مبلغ مخلصانہ کر دار اد ا کرے اور یہ ذہن بنائے کہ اس کا مقصود کفر و ضلالت اور جہالت و معصیت کے کنووں میں گرے ہو ئے بے شمار لو گوں کو ان کنووں سے نکالنا اور انہیں ایمان و صالحیت کے منبروں پر بٹھا کر قبر و جہنم کی آگ سے بچانا ہے ۔ اب یہ مقصد خواہ اس کی اپنی ذات کی وجہ سے حاصل ہو یا تقسیمِ کار کی برکت سے کسی اور مبلغ کے ذریعے، بہر صورت اس مدنی مقصد کے حصول پر نظر ہو اپنی واہ واہ اور نمبر بنانے کی خواہش ہر گز نہ ہو ۔اس بات کو مزید اس مثال سے سمجھا جاسکتاہے کہ ایک مبلغ کو بین الاقوامی سنتوں بھرے اجتماع میں بیان کرنے کا موقع دیا گیا ۔ اس کو آنے میں تاخیر ہوگئی لہٰذا نگران مجلس نے دوسرے مبلغ سے بیان کروا لیا ۔ پہلا مبلغ غور کرے کہ اس کو خوشی ہورہی ہے یا غم ۔خوشی کی حالت اخلا ص اورغم کی کیفیت اپنی واہ واہ کروانے کی خواہش پر دال ہے ۔
اسی طرح مدت پوری ہونے پر یا کسی بھی سبب سے ایک کی جگہ دوسرے اسلامی بھائی کو نگرانی یا ذمہ داری دے دی جائے تو اب وہ اپنی قلبی کیفیت پر غور کرے اگر دل حسد اوربغض وتکبر کا شکا رہے تو جان لے کہ اخلاص نہ تھایہی مثال کتاب لکھنے والے کی ہے اگر اس کے نام کے بجائے لکھی گئی کتاب پر دوسرے کا نام شائع ہوجائے اور وہ غم محسوس کرے تو سمجھ جائے کہ کتاب لکھنے میں اخلاص نہ تھا ۔یاد رہے ذمہ داری پھولوں کی سیج نہیں بلکہ خار دار راہ ہے ۔ دنیا میں حقوق کی ادائیگی اورآخرت میں پرسش انتہائی نازک معاملہ ہے ۔
نگرانوں کے لیے دس فکرانگیز فرامین مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
(1) تم سب نگران ہو اورتم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ (مجمع الزوائد، ج۵ ، ص۲۰۷)
(2) جو نگران اپنے ماتحتوں سے خِیانت کرے وہ جہنّم میں جائے گا ۔ (مسند امام احمد بن حنبل، ج۵ ، ص۲۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع