دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Madani Kamon Ki Taqseem | مدنی کاموں کی تقسیم

book_icon
مدنی کاموں کی تقسیم

کے ساتھ مدنی کام کرنے والے اسلامی بھائیوں کے حوصلے پست ہو جاتے، بے اعتمادی کا ماحول پیدا ہو تا ، دلوں میں بغض و کینہ راہ پاتا، مخالفتوں کا بازار گرم ہو تا اور بد نظمی کا شکار ہو کر برسوں کی کو شش سے پروان چڑھنے والامدنی کام دنوں میں برباد ہو جاتا ہے ۔

حرصِ جاہ ومال کی تباہی

            صادِق و مصدُوق رسولِ مقبول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ صدق شان ہے ۔’’دو بھوکے بھیڑیے جو بکریوں کے کسی ریوڑ پر چھوڑے جائیں اس ریوڑ میں اتنی تباہی نہیں مچاتے جتنی آدمی کی مرتبے و مال کی حرص اس کا دین تباہ کر دیتی ہے ۔‘‘ (الجامع الصغیرللسیوطی علیہ الرحمۃ ، الحدیث ۷۹۰۸ ، ص۴۸۳ )

            ایک حدیث شریف میں ہے’’مال و مرتبے کی محبت دل میں اس طرح منافقت پیدا کردیتی ہے جس طرح پانی سبزہ اگاتا ہے ۔‘‘(احیاء العلوم ، ج ۳ ، ص ۲۹۴ )

            کاش! کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا و خوشنودی کا حریص ، اخلاص ، عاجزی اور استقامت کا پیکر بناکر مرتبے و مال کی حرص و محبت ، دنیا کی جھوٹی عزت کی وقعت اور خواہشِ تعریف و شہرت ہمارے دلوں سے نکال دے کہ ان بری صفتوں میں ہمارے قلوب کی خرابی اور آخرت کی بربادی ہے ۔جیسا کہ

شہرت کی ہلاکت خیزی

            حضرت سیدنا بشر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ’’جو شخص یہ بات پسند کر تا ہے کہ لوگوں میں مشہور ہو وہ آخرت کی حلاوت نہیں پاسکتا ۔‘‘ (احیاء العلوم ، ج ۳ ، ص ۲۹۳)

            اسی طرح شہرت کی اس خواہشِ بد میں ـــــــــــــــدین و ایمان کی تباہی اور دو جہاں کی ذلت و رسوائی کا بھی شدید اندیشہ ہے ۔چنانچہ حضرتِ بشر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  فرماتے ہیں کہ ’’میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو شہرت چاہتا ہو اور اس کا دین تباہ اور وہ خود ذلیل و رسوا نہ ہوا ہو ۔‘‘(ایضاً)

            حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مر وی ہے کہ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’آدمی کی برائی کے لئے یہی کافی ہے کہ لو گ اس کے دین یا دنیا کے حوالے سے اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کریں مگر جس کو اللّٰہ عزوجل محفوظ رکھے، بے شک اللّٰہ عزوجل تمہاری صورتوں کی طرف نظر نہیں فرماتا بلکہ تمہارے قلوب واعمال ملاحظہ فرماتا ہے ۔‘‘(ایضاًص۲۹۲)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان روایات سے پتہ چلا کہ شہرت کے حصول کی خواہش و کو شش سے احتراز ہی میں عافیت ہے کیونکہ اس کے شر سے بچنا بے حد دشوار ہے مگرجس کو اللّٰہ عزوجل  محفوظ فرمائے ۔اور ہم کمزوروں کے لئے تو گمنامی و عدمِ شہرت اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت ہے ۔

گمنامی نعمت ہے

            حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ نے اپنے بندے پر جو انعامات فرمائے ہیں ان میں سے بعض کے بارے میں فرمائے گا، کیا میں نے تم پر انعام نہ کیا ؟میں نے تمہیں چھپائے نہ رکھا؟ کیا میں نے تمہارا ذکر پوشیدہ نہ رکھا؟ (ایضاً ص ۲۹۴)

            شہرت کے نقصانات اور گمنامی کے فضائل کی وجہ سے ہمارے اسلاف علیہم الرحمۃ گمنامی کو شہرت پر ترجیح دیا کر تے اور شہرت و مرتبہ پانے سے خوفزدہ رہتے تھے ۔

             حضرت سیدنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی احیاء العلوم میں نقل فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت سیدنا حو شب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  رورہے تھے اور فرماتے تھے کہ افسوس! میرا نام جامع مسجد تک پہنچ گیا ۔ (احیاء العلوم ، ص ۲۹۳)

            حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ’’دنیا میں صرف ایک دن میری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں وہ اسطرح کہ ایک رات میں نے شام کے کسی گاؤں کی مسجد میں گزاری اور میرے پیٹ میں تکلیف تھی ، مؤذن نے مجھے پاؤں سے پکڑ کر گھسیٹا اور مسجد سے نکال دیا ۔‘‘ (ایضاً ص۲۹۴)

            سبحان اللہ عزوجل! اخلاص کے پیکر ہمارے بزرگانِ دین علیہِمْ رحمۃُ الْمَتین کی حبِ جاہ و مرتبہ سے خالی ، عاجزی و انکساری والی کیسی مدنی سوچ ہوا کر تی تھی کہ اعلیٰ مراتب پر فائزہونے کے باوجود لو گوں کی جانب سے قدر ناشناسی پر بھی خوش اور تکلیف و گزند پر بھی رضا مند رہتے ۔ مگر آہ! ہماری قلبی بد حالی کا یہ عالم ہے کہ دنیا میں مقام و مرتبہ پانے کے حریص و خواہش مند، اپنی عزت افزائی ہی میں خوش و خرم اور لوگوں کی جانب سے پذیرائی ہی ہمیں محبوب و پسند ہے ۔اے کاش ! ہمیں بھی بزرگانِ دین علیہِمْ رحمۃُ الْمَتین کی عاجزی و اخلاص پر مشتمل ایسی مبارک سوچ نصیب ہو جائے کہ اسی میں ہمارے لئے دونوں جہاں کی بھلائی ہے ۔

            حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں اگر تجھ سے ہو سکے کہ تو مشہور نہ ہو‘ تو ایسا کر ۔اس میں کچھ حرج نہیں کہ تو مشہور نہ ہو اور اس میں بھی کچھ حرج نہیں کہ تیری تعریف نہ کی جائے اور اس میں بھی کو ئی حرج کی بات نہیں کہ تو لوگوں کے نزدیک مذموم (یعنی مذمت کیا جانے والا)ہو جبکہ تو اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک محمود ہو ۔

  وسوسہ : یہاں یہ وسوسہ پیدا ہو سکتا ہے کہ ہمارے یہی اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰجو شہرت کی مذمت فرمارہے ہیں ، ان کی اپنی شہرت کے تو ہر طرف ڈنکے بج رہے ہیں ۔

علاجِ وسوسہ : سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی اس وسوسے کا علاج کر تے ہوئے فرماتے ہیں کہ طلبِ شہرت مذموم ہے اور اگر اللّٰہ عزوجل اپنے کسی بندے کو دین پھیلانے کے لئے بغیر طلب و تکلف کے شہرت عطا فرمادے تو یہ مذموم نہیں ۔  (ایضاً ص ۲۹۴)

پسنجر ٹرین کا مسافر

            انفرادی شخصیت بنانے والے کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی پسنجر ٹرین(Passenger train) میں ایک مسافر کی حیثیت سے سوار

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن