30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مل جل کر تقسیم کاری(Distribution ) کے ذریعے کام کر نے کی ایک بہترین مثال شہد کی تیاری کے سلسلے میں مکھیوں کی تگ و دو ہے ۔کثیر فوائد کا حامل شہد ہمارے لئے اللّٰہ عزوجل کی بہت بڑی نعمت ہے ۔مگر اس کی تیاری ایک بے حد محنت طلب ، صبر آزما اور مشکل معاملہ ہے ۔معلومات کے مطابق تقریباً نصف کلو گرام شہد تیار کرنے کے لئے شہد کی مکھیوں کو بعض اوقات مجموعی طور پر تین لاکھ میل کا سفر طے کر نا ہو تا ہے ۔ ایک مکھی کی عمر چند ماہ سے زیادہ نہیں ہو تی لہٰذااگر ایک مکھی چاہے کہ وہ تنہا ایک پونڈ شہد تیار کر لے تو زندگی بھر کی کو ششوں کے باوجود بھی وہ ایسانہیں کر سکتی لیکن جب بہت ساری مکھیاں مل جل کر اپنی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہو ئے یہ کام کر تی ہیں تو کم وقت میں ایک بڑی مقدار میں شہد تیار ہو جاتا ہے ۔
اس طرح تقسیم کاری (Distribution )میں ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے مستفید ہو نے کے بھی بہترین مواقع نصیب ہو تے ہیں جیسا کہ حکایت مشہور ہے کہ ایک عمارت میں آگ لگ گئی ۔لو گ اپنی اپنی جانیں بچاکر وہاں سے نکلنے لگے ۔اس عمارت میں دومعذور افراد بھی تھے جن میں سے ایک لنگڑا اور دوسرا اندھا تھا ۔ دونوں نے اپنی کمزوریوں سے مفاہمت کر تے ہو ئے جانیں بچانے کے لئے بڑی انوکھی ترکیب سے کام لیا چنانچہ اندھے نے لنگڑے کو اپنے کندھے پر سوار کر لیا اور لنگڑا اندھے کی رہنمائی کر نے لگا ۔ یوں وہ دونوں ہی آگ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔
دوسری طرف آگ بجھانے والے عملے کا ایک فرد پانی کی سپلائی کا والْو ْValve(یعنی پائپ )سنبھالے ہو ئے ہے، ایک سیڑھی پر چڑھ کر پانی کا چھڑکاؤ کر رہا ہے اور ایک مزید پانی لئے اس طرف بڑھتا چلا جارہا ہے ۔ اس طرح تقسیمِ کارکی مدد سے اجتماعی کوشش کے ذریعے ایک خطر ناک آگ پر قابو پاکر بہت سی قیمتی جانیں اور بیش قیمت اموال بچالئے گئے ۔
یونہی زندگی کے کسی بھی شعبے(Department) میں دیکھ لیجئے ، حکومتی محکموں (Government Departments) سے لیکر پرائیویٹ اداروں (Private Institutes) تک جہاں بھی تقسیم کا ر پایا جائیگا اس کے فوائد نمایاں ہونگے ۔
دعوتِ اسلامی کو تقسیمِ کار کی ضرورت ہے
الغرض کو ئی بھی ادارہ، کارخانہ(Factory )یا تنظیم ہو ، جہاں بھی بڑی تعداد میں لوگ کام کر تے ہیں وہاں تقسیمِ کار کی ضرورت ہو تی ہے ۔ لہٰذا ہماری چہیتی تحریک ’’دعوت ِ اسلامی‘‘(جسکا مدنی پیغام تادمِ تحریر دنیا کے 66ممالک میں پہنچ چکا ہے) کو بھی تقسیمِ کار کی ضرورت ہے ۔ تقسیم کار کے ذریعے ہم دعوتِ اسلامی کے تمام مدنی کام احسن، سہل اور منظم انداز میں کر سکتے ہیں ، کم وقت میں مطلوبہ نتائج حاصل کر کے اپنا کام تیز تر کر تے ہوئے زیادہ سے زیادہ علاقوں میں اسلام کا یہ مدنی پیغام عام کر سکتے ہیں ، کثیر تعداد میں نئے اسلامی بھائی تربیت و تجربہ حاصل کر کے ذمہ داران کے نعم البدل بن سکتے ہیں نیز احکامات کی بر وقت ترسیل اور کارکردگی لینے کی مضبوط ترکیب بھی تقسیمِ کار کی مر ہونِ منت ہے ۔
الحمد للّٰہعزوجل ’’دعوتِ اسلامی ‘‘ کے سنتوں کی تربیت کیلئے راہِ خدا عزوجل میں سفر کر نے والے مدنی قافلے تقسیم کار اور نعم البدل کی تیاری کی بہترین تصویر پیش کرتے ہیں مثلاً صبح کا مدنی مشورہ ہی لے لیجئے جس میں امیرِ قافلہ شرکائِ قافلہ میں ڈبل بارہ گھنٹوں کے کام تقسیم کر دیتے ہیں کہ کون کس وقت درس یا بیان کرے گا ، کون کس نماز کے بعد اعلان کرے گا ، اور کھانے اور مسجد وغیرہ کی خیر خواہی کون کرے گا ۔اس سے فوائد ہاتھوں ہاتھ سامنے آ نے لگتے ہیں اور مدنی قافلے میں سفر کی برکت سے جو درس دینا نہیں جانتے وہ معلم بن جاتے اور اعلان کر نے کے قابل ہو جاتے ہیں اور پہلے سے یہ صلاحیت رکھنے والے مبلغ بن جاتے ہیں ۔ جو کسی سے بات کر نے کی لیاقت و ہمت نہیں رکھتے نیکی کی دعوت دینے والے اور انفرادی کو شش کر نے والے بن جاتے ہیں ۔اسی طرح علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت بھی اعلیٰ درجے کی تقسیمِ کار پر مشتمل ہو تا ہے ۔جسکی برکتوں سے بھی ہر سمجھدار و باشعورا سلامی بھائی خوب آگاہ ہے ۔
ان تمام مثالوں اور فوائد سے تقسیم کی اہمیت سمجھ جانے کے باوجود ہو سکتا ہے کہ جاہ پسند نفْسِ بد اس میں رکاوٹ بنے کیونکہ نفس اِنفرادیت کی خواہش کا خُو گر ہے جیسا کہ سیدنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں کہ’’ ہر انسان (کا نفس) بالطّبع کمال میں منفرد ہو نے کو پسند کر تا ہے ۔‘‘ اس انفرادیت کی خاطر وہ اپنے مرتبہ و منزلت کے اعتقاد کے ساتھ لوگوں کے دل مسخر کر نے اور اپنی شہرت قائم رکھنے کی کوشش کر تا ہے جسیـ’’حبِ جاہ ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔مگر کام تقسیم کر نے میں نفس کیلئے مشکل یہ ہے کہ کسی شخصیت کی انفرادیت قائم نہیں رہتی ۔ یہی وجہ ہے کہ جس شخص کا منفرد ہو نے کا مزاج بن جاتا ہے وہ تقسیمِ کار کے عمل پر پورا نہیں اترتا ، اگر بظاہر وہ تقسیم کا انداز اختیار کر بھی لے جب بھی اپنی شخصیت کو نمایاں رکھتا ہے ۔اسے اس بات کا خوف رہتا ہے کہ کہیں کو ئی دوسری شخصیت اوپر آکر میری انفرادیت و شہرت اور مرتبہ ومَنْزلت ختم نہ کر دے ۔
پھر وہ اپنی اس جُھوٹی انفرادیت و شہرت اور مرتبہ و منزلت قائم رکھنے کی ہوس میں ظلم پر اترآتا اپنی بر تری ثابت کر نے اور ماتحت اسلامی بھائیوں کو کمتر اور نیچا دکھانے کے لئے نت نئے انداز اختیار کرتا ، طرح طرح کی چالیں چلتا اور اس کو شش میں دینی نقصان کی بھی پر واہ نہیں کر تا ۔ ایسا اسلامی بھائی چاہتا ہے کہ لوگ اور ذمے داران صرف اسے ہی جانیں پہچانیں ، اس کی ہی تعریف کریں اور انکی نظر میں اسی کی اہمیت و وقعت قائم ہو ۔ اس کے ماتحت جو عمدہ کام کریں انہیں بھی اپنی طرف منسوب کر لیتا ہے ۔ اس کے اس منفی رویے سے اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع