دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Madani Kamon Ki Taqseem Kay Taqazay | مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے

book_icon
مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے

میں وضاحت فرمائیں مثلاً اہداف اوراِس کی مدّتِ تکمیل ، طریق ِکار و اختیارات اورکِن کِن مدنی کاموں کا کب کب کرناضروری ہے اور اِ س کی کارکردگی ماتحتوں سے لینے اور نگران کو پیش کرنے کا طریقِ کار کیا ہو گا؟ پِھر اِن کی زبانی اِن تمام باتوں کوسُن بھی لیں تاکہ جو کچھ کمی ہو وہ ہاتھوں ہاتھ پوری ہوسکے ۔

فوائد کے بجائے نُقْصانات

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقیناً مدنی کاموں کو تقسیم کرنے میں فوائد ہی فوائد ہیں لیکن بعض اُمُور ایسے بھی ہیں جن کا اِرتِکاب فوائد کے بجائے نقصانات کی طرف دھکیل سکتا ہے مَثَلاً

(۱)     کسی کو اُس کی طاقت و ہمّت سے زیادہ کام دینا۔

(۲)    مدنی مشوروں کا نہ ہونایا عرصہ ٔ دراز کے بعد ہونے کے نتیجے میں پُوچھ گَچھ کے نظام کا کمزور ہونا ۔

(۳)    اپنے اسلامی بھائی پر بے جاتنقید ، نکتہ چینی اور دِل آزاری کرنے والا رَوَیّہ اِختیار کرنا ۔

(۴)    اہداف، اِس کی مُدّتِ تکمیل او ر صلاحیتوں کومدِّ نظررکھے بِغیر تقسیم کاری کرنا ۔

(۵)    اپنے مدنی مشوروں میں کسی ذمہ دار کی غَلَطی کو ہدف بنا کر بار بار اُس کوشرمندہ کرنا ۔

(۶)    پُوچھ گَچھ اور مدنی تربیت جیسے اہم مدنی کام کو کسی غیر تربیت یافتہ کے ہاتھ میں دے دینا۔

(۷)    اپنے ماتحت ذِمّہ دار سے اِنْفِرادی یا اجتماعی مُلاقات میں بَد اَخلاقی کا مُظاہرہ کرنا۔

تقسیم کاری کی مضبوطی کا بہترین ذریعہ

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رہے !کہ بد اَخْلاقی تقسیم کاری کے عملِ خیر کو شدید نقصان پہنچاتی ہے ۔یہ بات آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ دینِ اسلام کے عروج و ترقی اور ترویج و اشاعت میں حُسْنِ اَخلاق کی بہاریں شامل ہیں ۔ ہمارے پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفی، شبِ اسرٰی کے دُولھا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اپنے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانْ کے ساتھ ایسا شفقت و محبت بھرا مبارک رَویہ تھا کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نہایت چاہت واُلفت و رغبت کے ساتھ آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے سو نپے ہو ئے کام بڑھ چڑھ کر بہتر سے بہتر انداز میں کر گزرنے کے لئے ہر وقت بیقرار رہتے۔لہٰذاحُسنِ اَخلاق کا اِختیار کرنا، تقسیم کاری کے عمل کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اِس کی اہمیت کے پیشِ نظر ثواب کی نیت سے چند آیات وروایات وحِکایات پیش ِ خدمت ہیں ۔

        سَرکارِ والا تَبَار، شَہنْشَاہِ اَبْرَار، مَکَّے مدینے کے سَرداربَعَطَائے پَرْوَردگار دَ و عَالَمْ کے مَالِک و مُخْتَار عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے اخلاقِ کریمہ کی تعریف و توصیف کرتے ہو ئے قرآنِ پاک پارہ ۲۹ سُوْرَۂ قَلَمْ  آیت نمبر ۴ میں ارشاد ہوتا ہے :

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان : اوربے شک تمہاری خُوبُو(خُلق)بڑی شان کی ہے

        اس آیتِ مبارکہ کے تحت’’ خزائن العرفان‘‘ میں ہے کہ اُمُّ المُؤمِنِیْن حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ ا سے دریافت کیا گیا تو آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ انے فرمایا ’’سَیِّدِ دو عَالَمْ، نُوْرِمُجَسّم، سَرَاپَا جُود و کَرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاخُلْق قرآن ہے۔‘‘

تیرے خُلق کو حق نے عظیم کہاتری خِلق کو حق نے جمیل کیا

کو ئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا تیرے خالقِ حُسن و اَدا کی قسم

(حدائقِ بخشش از امامِ اہلسنّت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتْ)

   

         اِس قدر اعلیٰ ترین اَخلاق کے مالک ہونے کے باوجود سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ دُعا فرمایاکرتے ۔اَللّٰھُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِیْ فَأَحْسِنْ خُلُقِیْترجمہ : اے  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ !تُو نے میری صُورت تَو اچھی بنائی ہے میرے اَخلاق بھی اچھے کر دے۔(المسند لامام احمد بن حنبل، مسند عبد اللہ  بن مسعود، الحدیث۳۸۲۳، ج۲، ص۶۶)

مقصدِ بِعْثَت

        رَحْمَتِ عَالَمْ، نُورِ مُجَسّم، رَسُولِ مُکَرّم، سَراپَا جُود و کَرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ارشاد فرماتے ہیں کہ  اللہ  تَعَالٰی  نے مجھے مَکَارِمِ اَخلاق ومحاسنِ اَفْعال کی تکمیل کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔(المعجم الاوسط، الحدیث۶۸۹۵، ج۵، ص۱۵۳)

نیکی حُسنِ اخلاق کا نام ہے

        رحمتِ عالم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلْقِ یعنی نیکی ، حُسنِ اَخلاق کا نام ہے۔

(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃوالادب، باب تفسیر البر والاثم، الحدیث۲۵۵۳، ص۱۳۸۲)

اخلاقِ حسنہ

        اللّٰہتبارک و تَعَالٰی  قرآن پاک میں اپنے محبوب ، دانائے غیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوبصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اُن اَخلاقِ حسنہ کا بیان فرماتا ہے کہ جن کی بدولت خصوصیت کے ساتھ صحابۂ کرام علیہم الرضوان، آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ْکے قریب رہنا اور اِرشاداتِ عالیہ پر عمل کرنا پسند کرتے تھے چنانچہ پارہ ۴ سُوْرَۂ اٰلِ عمران آیت نمبر ۱۵۹ میں ارشاد ہوتا ہے :

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن