30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سبحان اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ! قربان جائیے!یہ ہے اِحساسِ ذِمّہ داری کہ اتنی بڑی سلطنت کی فرمانروائی ، سارے مسلمانوں کی پیشوائی، مگر اِس کے باوجود بنفسِ نفیس مہمانوں کی خیر خواہی کی نگرانی ، کھانے اور اُٹھنے بیٹھنے میں سادَگی، نئے آنے والے کی حوصلہ افزائی اور مُلاقات میں عاجزی و اِنکساری ، سلطنتِ اسلامی کی بہتری و ترقّی کے لئے فکر مندی ، لوگوں کے اَحوال سے آگاہی اور تحفہ مِلنے پرخَفَگی(خَ۔فَ۔گی)یعنی ناراضگی۔
کاش! یہ حکایت ہمارے اندر احساسِ ذمہ داری کا جذبہ پیدا کردے اور ہم بھی اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کا جذبہ لئے تبلیغِ قرآن و سُنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی ‘‘کے مدنی کاموں کو بہتر انداز میں کرنے والے بن جائیں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب آپ اپنے اسلامی بھائیوں میں مدنی کام کی اہمیت کا اِحساس پیدا کرنے کی سعی کریں تواُس وقت یہ بات بہت اہم ہو گی کہ اِن میں وقت کی اہمیت کواُجاگر کیا جائے تا کہ ہمارے سارے معاملات و معمولات بروقت ہو سکیں ۔اگر وقت کے ضائِع ہونے کا اِحساس نہ ہو اتو تقسیم کاری، نعم البدل کی تیاری وغیرہ کی ساری کو ششیں رائیگاں جاسکتی ہیں ۔
افسوس ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو وقت کی اہمیت سے ناآشنا ہے اور اِس اہم ترین نعمت (وقت) کو فُضُولِیات میں برباد کرتی ہے۔پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’دو نعمتیں ہیں جن میں لوگ بہت گھاٹے میں ہیں تندرستی اور فراغت۔ ‘‘( مشکوۃالمصابیح ، کتاب الرقاق ، ج۳، ص۱۰۵، رقم : ۵۱۵۵)
کسی نے کیا خُوب کہا ہے کہ ’’سوتے ہوئے کو جگانا آسان مگر جاگے ہوئے کوجگانا مشکل ہے ۔‘‘
آپ نے بارہامُلَاحِظہ کیا ہوگا کہ کئی لوگ اُٹھنے کے باوجود کافی دیر تک بستر نہیں چھوڑتے ، غسل خانے میں گھنٹوں نکال دیتے ، کھانا کھاتے وقت بہت زیادہ وقت لیتے ، کافی دیر آئینے کے حضور حاضری دیتے ہیں ، کہیں چائے پینے بیٹھے تو فضول ولغْو گفتگو مَثَلاًمُلْکی وسِیاسِی حالات، میچوں پر تبصرے وغیرہ میں گھنٹوں وقت کا ضیاع کرتے ہیں ۔ ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو غِیْبَت، چُغْلی، مَوسِیقی، بَدْگُمانی، دِل آزاری، تُہمت وبُہتان، مَخلوط تفریح گاہ وہو ٹل ، ٹی وی وغیرہ پر فلمیں ڈرامے، کھیل کود کے غیر شرعی پروگرام دیکھ کر وقت جیسی عظیم نعمت کو برباد کرتے اور اپنی دُنیا و آخرت کا نقصان اُٹھاتے ہیں ۔لہٰذا ہمیں وقت کی قدر و منزِلت کے پیشِ نظر اِسے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی خوشنودی و رِضا کے لئے اِستعمال کرناچاہئے ۔مگر آہ!
دِن لہو میں کھونا تُجھے، شب صبح تک سونا تجھے
شرمِ نبی خوفِ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں ( عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )
(حدائقِ بخشش از امامِ اہلسنّت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزّتْ)
ہمارے اَسلاف کے نزدیک وقت کی بہت اہمیّت تھی۔ چنانچہ
صحابی کی ندامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
رسولِ انور، شاہِ بحر و بر، محبوبِ ربِّ اکبر عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جلیل الْقَدر صحابی حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ بن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’میں اُس دن بہت زیادہ شرمندہ ہوتا ہوں کہ جس دن کوئی نُمایاں کا م سر انجام نہیں دے پاتااور میرے عمل میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔( قیمۃالزمن عند العلماء (ترجمہ وتلخیص)، ص ۱۶)
حضرت سَیِّدُنا ثعلب نَحْوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کی وفات کا سبب یہ ہوا کہ آپ(رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ )جُمُعَہْ کے دِن عصر کے بعد نکلے ، ہاتھ میں ایک کتاب تھی، جسے راستے میں دیکھتے ہوئے چلے جارہے تھے کہ ایک گھوڑا اِن سے ٹکرا گیا، جِس کی وجہ سے گر پڑے ، سر میں شدید چوٹ آئی اِسی حالت میں اِنہیں گھر لے جایا گیا اور دوسرے دن اِن کا اِنتقال ہوگیا ۔
( قیمۃالزمن عند العلماء (ترجمہ وتلخیص)، ص ۲۴)
روٹی کے بجائے کیک نماکھانا کھاتے
حضرت سَیِّدُناابنِ عقیل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْجَلِیْل اپنے کھانے کا وقت بہت معمولی رکھتے ، کیک نُما سادہ کھانے کو روٹی کی نسبت اِس لئے پسند فرماتے کہ روٹی کے چبانے میں زیادہ وقت صَرف ہوتا ہے۔( قیمۃالزمن عند العلماء (ترجمہ وتلخیص)، ص ۳۲)
حضرت سَیِّدُنا مُحَدِّثْ ابنِ جوزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فُضُولیات و لَغْوِیات میں وقت ضائِع کرنے والوں کی صُحْبت سے پناہ مانگا کرتے تھے ۔( قیمۃالزمن عند العلماء (ترجمہ وتلخیص)، ص ۳۶)
حضرت سَیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ میں نے صوفیاءِکرام(رَحِمَھُمُ اللہ ) کی صُحْبت اِختیار کی۔ اُن کے دو جملوں سے بہت فائدہ حاصل کیا ایک یہ کہ ’’اَلْوَقْتُ سَیْفٌ فَاِنْ لَمْ تَقْطَعْہٗ قَطَعَکیعنی وقت وہ تلوار ہے اگرتم اس سے نہ کاٹوگے تویہ تمہیں کاٹے گا‘‘اوردوسراجملہ’’نَفْسُکَ اِنْ شَغَلْتَھَا بِالْحَقِّ وَاِلَّاشَغَلَتْکَ بِالْبَاطِلیعنی اپنے نفس کو حق کے ساتھ مشغول کر ، ورنہ وہ تُمہیں باطل کے ساتھ مشغول کردے گا ۔( قیمۃالزمن عند العلماء (ترجمہ وتلخیص)، ص ۱۵)
ہمارے عُلماءِکرام وقت کی اہمیت کا اِحساس بیدار کرنے کے لئے سُوْرَۃُ الْعَصْر بیان کرتے ہیں چنانچہ پارہ ۳۰ میں ارشاد ہوتا ہے ۔
وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)
ترجمۂ کنز الایمان : اِس زمانہ محبوب کی قسم بے شک آدمی ضرور نقصا ن میں ہے مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔
’’خزائنُ الْعِرْفان ‘‘میں دوسری آیت کے تحت خلیفہ ٔ اعلیٰ حضرت مفسّر قرآن، صدر الافاضل مُفتی سید محمد نعیم الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِی فرماتے ہیں : اِس کی عُمْر جو اِس کا رَأسُ ا لْمَال ہے اور اصل پُونجی ہے وہ ہر دم گھٹ (کم ہو)رہی ہے ۔(خزائنُ الْعِرْفان، ص۱۰۸۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع