30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتسَیِّدُنَا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ رات بھر مدینہ ٔمنوّرہ (زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیمًا)کی روشن و خوشبوداراو رمشکبار و ضیاء بار وپُر بہار گلیوں کا دورہ فرماکر اپنی رِعایا کی خبر گِیری میں مصروف تھے اور ساتھ ہی اِس بات پر بھی غور فرمارہے تھے کہ اِیران کے مغربی صوبے ’’اَہواز‘‘ کو فتح کرنے کے لئے لشکرِ اِسلام کا سِپَہ سالار کس کو منتخب کیا جائے۔ غور وفِکر کے بعد حضرت سَیِّدُنَا سلمہ بن قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کانام آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے ذِہن مبارک میں آیا ۔ اِس کام کو کرنے کے لئے اِن کی صلاحیت و قابلیت کا سوچ کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی خُوشی کی اِنتہا نہ رہی۔الغَرض حضرت سَیِّدُنَاسلمہ بن قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا مطلوبہ ہدف کامیابی سے پورا کیا اور مسلمانوں کو عظیم فَتْح نصیب ہو ئی ۔
حضرت سَیِّدُنَا سلمہ بن قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بعدِ فتح مجاہدین میں مالِ غنیمت تقسیم فرمارہے تھے۔نہایت قیمتی اور خوبصورت موتیوں کا ہار آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ میں آیا ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے شرکائِ لشکر سے مشورہ کیا کہ اگر آپ سب اِس بات کی اجازت دیں تو یہ موتیوں کا عمدہ ہار امیرالمومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کوبطورِ تحفہ بھیج دُوں ؟ سب نے بیک زَبان اقرار اور خوشی کا اِظہار کیا۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس ہار کو صندوقچی میں ڈال کر اپنی قوم کے دوافراد کو روانہ کیا ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جن افراد کو امیر المومنین عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف روانہ کیا اب ان کا واقعہ اِنہی کی زَبانی مُلاحِظہ فرمائیں ۔
’’قبیلہ اشجع‘‘ کا وہ شخص بیان کرتا ہے کہ میں اور میرا غلام بصرہ کی طرف روانہ ہو ئے ، وہاں پہنچ کر ہم نے سفر کے لئے دوسواریاں خریدیں ، اِس کے لئے اجازت اور سرمایہ ہمیں حضرت سلمہ بن قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عنایت کیا تھا ۔ہم نے زادِ راہ اِن پر لادااور مدینہ ٔمنورہ (زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا) کی طرف روانہ ہو گئے ۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ہم نے امیر المومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو تلاش کیا تو وہ ایک جگہ اپنے عصاء پر ٹیک لگائے، مسلمانوں کو کھلائے جانے والے کھانے کی نگرانی فرمارہے تھے۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے غلام یرفاء کو فرمارہے تھے ۔اے یرفاء : ان لوگوں کے سامنے مزید گوشت رکھو ۔اے یرفاء : ان لوگوں کے سامنے مزید روٹی رکھو ۔اے یرفاء : ان لوگوں کے برتن میں مزید شوربا ڈالو، جب میں اِن کے پاس آیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے مجھے ارشاد فرمایا : بیٹھو ۔میں وہیں عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا۔ میرے سامنے کھانا رکھا گیا میں نے کھانا کھایا ۔
جب لوگ کھانے سے فارغ ہوگئے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا : اے یرفاء دسترخوان اُٹھا لوپھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ چل دیئے تو میں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پیچھے ہولیا ۔جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ گھر میں داخل ہوگئے تو میں نے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کمالِ شفقت سے اِجازت عطا فرمادی ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بالوں کی بُنی ہوئی ایک چٹائی پر بیٹھ گئے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ دو ایسے تکیوں پر ٹیک لگائے ہوئے تھے جو کھجور کے پتّوں سے بھرے ہوئے تھے ۔اِن میں سے ایک تکیہ میری طرف بڑھا دیا تو میں اُس پر بیٹھ گیا۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پیچھے پردہ لٹکا ہوا تھا۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے پردے کی طرف دیکھا اور اپنے بچوں کی امّی سے ارشاد فرمایا : اے اُمِّ کُلثُوم (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ا) ہمیں کھانا دیجئے ۔میرے دل میں خیال آیا کہ امیرالمومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے لئے کو ئی خاص کھانا تیار کروایا ہو گا ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے بچوں کی امّی (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ا)نے تیل میں تلی ہوئی ایک روٹی جس پر سالن کی جگہ نمک رکھا ہوا تھا، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو پیش کی ۔پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : آؤ کھانا کھاؤ میں نے تعمیلِ حکم کے طور پر چند ایک لقمے لے لئے ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کھانا کھایا ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے کھانے کا انداز ایسا دِلرُبا تھا کہ میں نے کبھی کسی کو اِس عمدہ انداز میں کھاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ۔
پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ہمیں پانی پلاؤ، تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں سَتّو کا ایک بھرا ہوا پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا پہلے مہمان کو پلاؤ ۔میں نے پیالہ پکڑا اور تھوڑے سے سَتّو نوش کئے ۔میں نے محسوس کیا کہ جو سَتّو میں نے اپنے لئے تیار کروائے ہیں وہ اِس سے کہیں بہتر اور عمدہ ہیں ۔پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے پیالہ پکڑا اور سَتّو نوش فرمائے ۔اور یہ دُعاء پڑھی : ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَاَشْبَعَنَاوَسَقَانَا واَرْوَانَا(ترجمہ )’’شکر ہے اُس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا جس نے ہمیں کِھلایا اور سیر کیا ، پِلایا اور سیراب کیا‘‘۔
اِس کے بعد میں نے عرض کیا : یا اَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْن! رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ میں ایک مکتوب لیکر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے دریافت فرمایا کہاں سے ؟میں نے عرض کیاسلمہ بن قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی جانب سے۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : میں سلمہ بن قیس (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ) کے خط اور اُس کے قاصد کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔لشکرِ اسلام کے متعلق کچھ بتائیے۔میں نے عرض کی یا اَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی تمنّاکے مُطابِق اللّٰہ تَعَالٰینے اِسلامی لشکر کو فتح و نصرت سے ہمکِنار کیا ۔میں نے جنگ میں پیش آنے والے واقِعات بالتفصیل پیش کیے۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے تفصیلات سُن کر ارشاد فرمایا : اللہ تَعَالٰی کا شکر ہے کہ اُس نے ہم پر بے اِنتہا اپنا فضل و کرم فرمایا !پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے دریافت فرمایا : کیا تُمہارا بصرہ سے گزر ہوا ؟میں نے عرض کی ہاں یااَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ پُوچھا : مسلمانوں کا کیا حال ہے؟میں نے بتایا اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ خیریت سے ہیں ۔دریافت فرمایا : بازار میں اَشیائِ صَرف کے نَرخ کیسے ہیں ؟عرض کی : چیزیں بہت سستی ہیں ۔پوچھا گوشت کا کیا بھاؤ ہے ؟ گوشت عَربوں کی مرغُوب غِذا ہے ۔جب تک گوشت نا ملے تو اِنہیں تسلّی نہیں ہوتی۔میں نے بتایا گوشت تو وافرمِقدار میں دَستیاب ہے ۔
پھر آ پ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُس صندوقچی کی طرف دیکھا جو میں نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی ۔ پُوچھا یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ عرض کیا، جب ہمیں اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے دُشمن پر غلبہ دیا تو ہم نے مالِ غنیمت جَمْع کیا ۔ حضرت سلمہ بن قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ ہار دیکھا تو لشکر سے پوچھا : اگر یہ ہار تم میں تقسیم کردیاجائے تو کسی کا کچھ نہ بنے گا ۔اگر تم بخوشی مجھے اِجازت دے دو تو میں یہ ہار امیر المومنینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی خِدمت میں بطورِ تحفہ بھیج دُوں ۔سب نے کہاہاں ضرور بھیجئے، ہم خوش ہیں ۔ یہ کہہ کر وہ صندوقچی میں نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں پیش کردی ۔ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اِسے دیکھا اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی نظرسُرخ، زرداور سبز رنگ کے چمکتے ہوئے نگینوں پر پڑی تو غُصّے سے آگ بگولہ ہو گئے اور فرمایا : ابھی ابھی جاکر اِس ہار کو مُجاھِدین میں تقسیم کردو اورسُنو! آئندہ کبھی بھی ایسا نہ کرنا ۔(کتب تاریخ)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع