30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ایسے ماتحت اسلامی بھائی بھی موجود ہیں جوکہ نہ صرف قابلِ اعتمادا ور سمجھدار بلکہ کثیر المشاغل بھی نہیں ، تو یہ مدنی کاموں کی تقسیم کرنے کا بہترین وقت ہے۔اگر آج مدنی کام کسی کوسِپُرد کئے جاسکتے ہیں کل کا اِنتظار نہ کیجئے۔ کہیں آپ کو شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اِس سے قَبل آپ ’’مدنی کاموں کی تقسیم‘‘ نامی رسالہ کا مطالعہ فرماچکے ہوں گے۔اسلامی بھائیوں کا یہ مُطالبہ رہا کہ مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے پر کچھ بیان ہو لہٰذاحَسْبُ الْاِرْشَاد پیش کرنے کی سَعْی کرتا ہوں ۔
حضرتِ سَیِّدُنا عَمْر وبن مُرَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوَایت ہے کہ انہوں نے حضرتِ سَیِّدُنا امیرِمُعَاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا ، میں نے رَسُول اللہ عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے سُنا کہ جِسے اللّٰہ تَعَالٰی مُسلمانوں کی کِسی چیز کا والی اور حاکِم بنائے پِھر وہ مُسلمانوں کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے سامنے حِجاب کر دے تو اللّٰہ تَعَالٰی اُس کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے سامنے آڑ فرما دے گا۔‘‘چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا امیرِمُعَاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے لوگوں کی حاجت پر ایک آدمی مقرر فرما دیا۔
( ابوداوٗد ، کتاب الخراج والفیء والامارۃ، باب فیما یلزم الامام من امر الرعیۃ ، الحدیث ۲۹۴۸، ج۳، ص۱۸۸ )
مُفَسرِ شہیر، حَکیمُ ا لُامّت، حضرت ِعلّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی مِرْاٰۃ شَرْحِ مِشْکٰوۃمیں اِس حدیثِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں ، جِس کاخُلاصہ یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عَمْرو بن مُرّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرتِ سَیِّدُنا امیرِ مُعَاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کواُس وقت سُنایا جب کہ وہ سُلْطان بن چکے تھے تا کہ وہ اِس حدیث پر عمل کریں ۔
آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں : حضرتِ سَیِّدُنا امیرِ مُعَاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے شہنشاہِ کو ن و مکان، مکے مدینے کے سلطان، رسولِ ذیشان، محبوبِ رحمن عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان سُن کر ایک محکمہ (مَح۔کَ۔مہ)بنا دیا جس کے ماتحت ہر بستی میں ایک وہ افسر رکھا گیا ، جو لوگوں کی معمولی ضرورتیں خود پوری کرے اور بڑی ضرورتیں حضرتِ سَیِّدُنا امیرِمُعَاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ تک پہنچائے۔پِھر ہمیشہ اُس افسر(ذمہ دار) سے بَاز پُرس کی کہ وہ فرائض کی انجام دَہی میں کوتاہی تو نہیں کرتا۔(مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْحْ، ج۵، ص۳۷۴)
اللّٰہ تَعَالٰی کی اُن پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الَامِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے مُلا حِظہ فرمایا کہ حضرتِ سَیِّدُنا امیرِمُعَاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اوّلاً اپنے کاموں کو تقسیم کرتے ہو ئے (۱)شعبہ قائم فرمایا(۲)اس کا ذمہ دار بنایا (۳) اپنی ذمّہ داری والے کام الگ کئے (۴)اور پھر ان کاموں کی باز پُرس یعنی پُوچھ گَچھ کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے تقسیم کاری بھی فرمائی اور اُس کے تقاضے بھی پورے فرمائے بِالخُصوص باز پُرس یعنی پوچھ گچھ ۔
پُوچھ گَچھ مدنی کاموں کی جان ہے
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اس سلسلے میں تبلیغِ قراٰن و سُنّت کی عالمگیر غیر سیاسی مدنی تحریک’’ دعوتِ اسلامی ‘‘میں کارکردگی فارم اور مدنی مشوروں کا ایک بہترین مدَنی نظام قائم ہے ۔میرے شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت ، بانی ٔ دعوتِ اسلامی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : ’’پُوچھ گَچھ مدنی کاموں کی جان ہے‘‘اور یہ بات کس قدرقریب ِعقْل و فہَم ہے، اِسے اِس مِثال سے سمجھئے کہ
تقسیم کاری کے عظیم شامیانے کی مضبوطی
ایک شخص ایک بڑے میدان میں شامیانے لگاتا ہے (جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اِجتماع کے موقِع پر صحرائے مدینہ ملتان کے سینکڑوں ایکڑ رقبے پر ہزاروں شامیانے لگائے جاتے ہیں )اور بڑی ہی مَہَارت سے اِن کو کَستابھی ہے لیکن ایک سمجھدار اور تَجْرِبَہ کار شخص ایک مرتبہ کَسنے کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ ضرورتاً کسنے کے عمل کو جاری رکھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہواؤں اور دیگرعَوامِل کے سبب اِن شامیانوں کی گَرِفت کمزور پڑجاتی ہے۔ اِسی طرح جب آپ مدنی کاموں کو تقسیم کردیں تو اُس کے بعد اِس کا اہم ترین تقاضاباز پُرس /پوچھ گچھ(کَسنا)ہے ۔جس سے تقسیم کاری کا یہ عظیم شامیانہ مضبوطی کے ساتھ قائم رہے گا۔ (مدنی مشورہ سے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب’’ مَدنی کاموں کی تقسیم‘‘ کا مطالعہ فرمائیں )
بڑوں کو سنبھالو چھوٹے خود ہی سنبھل جائیں گے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ باز پُرس/پُوچھ گچھ کا مُعامْلہ(مُ۔عا۔مَ، لَہ) صِرف مَدَنی کاموں کے لئے ہی نہیں بلکہ دِیگر اہم دِینی اُمُور یعنی فرائض وواجبات وغیرہ کی پابندی کے لئے بھی شرعی تقاضوں کے مطابق ہو تاکہ ذِمّہ داران کو پابند کر کے دیگر اسلامی بھائیوں کو بھی پابندبنایا جا سکے۔چنانچہ حضرت سَیِّدُناعمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے اپنے حُکّام(حُک۔کام) یعنی افسران کو لکھا کہ میرے نزدیک سارے کاموں سے زیادہ اہم نماز ہے، جس نے اِسے محفوظ رکھا اور اِس کی پابندی کی، اُس نے اپنا دین محفوظ رکھا اور جس نے اِسے ضائِع کردیا تو وہ نماز کے سوا کو بہت ضائِع کرے گا۔ (المؤطاء لامام مالک، کتاب وقوت الصلاۃ، الحدیث۶، ج۱، ص۳۵)
اِس کے تحت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان لکھتے ہیں : ’’یعنی سَلطنت کے کام ، ملکی انتظام، نماز کے بعد ہیں ، جب نماز کا وقت آجائے تو سارے ہی کام ویسے چھوڑ دو ۔اِس سے د و مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ سُلطانِ اسلام کو چاہیے کہ رِعایا کے دینی حالات سنبھالے صرف دُنیا پر نظر نہ رکھے۔ دوسرے یہ کہ بڑوں کو سنبھا لو چھوٹے خود ہی سنبھل جائیں گے اِسی لئے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے حُکّام کوخُصُوصِیت سے مُخاطب فرمایا ۔(مِرْاٰۃ المناجیح ، ج۱، ص ۳۷۶)
لہٰذا ماتحت اور نئے اسلامی بھائیوں کو روز فکرِ مدینہ کے ذریعے مدنی انعامات کا عامل بنانے اور ہر مدنی ماہ کے ابتدائی دس(10)دن کے اندراندر ذِمہ دار کو اِس کا رسالہ جمع کرانے ، ہر تیس(30)دن میں تین(3)دن کے مدنی قافلے اور دیگر مدنی کاموں اور تنظیمی اُصولوں کا پابند بنانے کے لئے ہمیں خود کو ، ذِمّہ داران کو اور پُرانے اسلامی بھائیوں کو اِس کا پابند کرنا ضروری ہے ۔
کاش!سیدی و مُرشِدی ، بانیٔ دعوتِ اسلامی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے یہ ارشاداتِ عالیہ ہمیشہ پیشِ نظر رہیں ۔چنانچہ فرماتے ہیں : (۱)دُوسروں کوتنظیمی اُصولوں کا پابند بنانے کے لئے خودبا اُصول بننا ضروری ہے۔(۲)ترغیب دینے کے لئے سراپا ترغیب بن جائیے۔
دیتا رہوں نیکی کی دعوت چاہتا ہوں اِستقامت
گُزرے یُوں ہی عمر ساری عطاری ہوں عطاری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع