30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رُخ بنجر زمینوں اورقابلِ زراعت کھیتوں کی جانِب پھیردیا اور جگہ جگہ ضرورت کے لئے پانی کے تالاب بنادیئے نتیجہ یہ نکلا کہ ساری زمین سبزہ زار بنی اور ہر طرف ہریالی ہی ہریالی آ گئی۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسی طرح ہمیں بھی اسلامی بھائیوں کو اُن کی قابلیت و اہلیّت اوردِل چسپی کے بہاؤ کو دیکھتے ہوئے تَدَبُّر اور حِکمت کے ساتھ مَدَنی کام سِپُرد کرنے چاہئیں ۔چنانچہ منقول ہے : ’’لِکُلِّ فَنٍّ رجالٌ یعنی ہر فن کے مرد ہوتے ہیں ۔‘‘
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط کے ۱۹ حروف کی نسبت سے ۱۹ مَدَنی پھول
(۱) مُشکلات اِنسان کو تباہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ بنانے کے لئے آتی ہیں ۔
(۲) مسائل میں اُلجھنے اورخوفزدہ ہونے کے بجائے اُن کے حل کے لئے وسائل کو بہتر طور پر استعمال کیجئے۔
(۳) وقت ایک نِعْمت ہے جو ہر اِنسان کو برابر ، برابر دی گئی ہے ۔
(۴) بڑا آدمی وہ ہے جو اپنا سارا وقت ضروری کاموں میں صرف کرے۔
(۵) کو شِش ہماری مَتَاع (سرمایہ)ہے ۔
(۶) ہِمّت ہارنا اپنی ڈِکشنری سے نکال دیں ۔(امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ )
(۷) مُشکل کاموں سے جی چُرانے کے بجائے چیلنیجز کو قبول کریں ۔
(۸) یکسوئی کے تصّور کو سمجھئے اور حاصل کرنے کی کو شش کیجئے ۔
(۹) ناکامی سے مایوس نہ ہوں ۔مشہور فاتح تیمورلنگ چیونٹی کی بار بار ناکامی کی بدولت کامیابی کے راز سے آشنا ہوا تھا ۔
(۱۰) کمرۂ امتحان میں جو کام ہم تین(3) گھنٹے میں کرلیتے ہیں وہ عام طور پر تین(3) دن میں بھی مشکل ہے اس کی وجہ وقت کی تعیین(تع۔یِین)یعنی مخصوص کرنا ہے۔
(۱۱) ہر کام کے لئے وقت کی حدودمُعَیَّن(مُ۔عی۔یَنْ)یعنی مقرر کیجئے۔
(۱۲) کسی چھوٹی سی کامیابی کے بعد خرگوش کی طرح مت ہو جائیے ورنہ کچھوا اپنے عمل ِ مسلسل سے آگے نکل جائے گا۔
(۱۳) جو کام بھی کریں اس میں توازُن، تَواتُراور تَسلسُل ضرور برقرار رکھیں ۔
(۱۴) تَسَاہُل(غفلت وسُستی)ایک بیماری اور اِنتہائی نُقْصان دَہ نشہ ہے ۔
(۱۵) تَساہُل، سُست روی، اورتاخیراور’’پھر کبھی‘‘ہمارے دشمن ہیں ۔
(۱۶) ذِمّہ دار کی شخصیت کا غیر منظم ہونا بھی مُعاملات میں اُلجھاؤ اور فیصلوں میں تاخیر کا باعِث ہوتا ہے۔
(۱۷) اپنے پرائم ٹائم(خصوصی اوقات) میں اپنے پرائم کام(خصوصی کاموں ) کا تعین کیجئے ۔
(۱۸) ’’کل کریں گے‘‘یہ ایک دھوکا ہے ۔
(۱۹) پیر پر اِعتراض، مُرید کی صَلاحیتوں کا دُشمن ہے ۔
صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی شب و روز کی کمائی کا ثمرہ ہے کہ اِس وقت دعوتِ اسلامی میں افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں اورمُحبین کا توشُمار ہی نہیں ۔ شعبۂ زندگی کے کم و بیش ہر طبقے کا فرد دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہے اور ان میں ایک بہت بڑی تعداد کو امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بیعت کی سعادت بھی حاصل ہے۔اب ضرورت اِس اَمْر کی ہے کہ صلاحیتوں کے مطابق مدنی کام کی تقسیم عمل میں لائی جائے اورپِھر ِاس کے تقاضوں کو پورا بھی کیا جائے ۔آج ہمارے اِنتہائی اہم ترین ذمہ دار مدنی کاموں میں اِس قدرمصروف ہوگئے ہیں کہ اب اِنہیں مدنی تحریک کے دُور رس مُعاملات پر غور کرنے اور بہتر سے بہتر حِکمتِ عملی اپنانے اور جو مدنی کام ہمارے سِپُرد ہیں ، اُن کی کارکردگی کابَغور جائزہ لیکر اِن میں مزید بہتری پیدا کرنے یا کمزوریوں کو دور کرنے نیز مدنی مرکز کے جدول پر کما حَقُّہٗ عمل کرنے کا خاطر خواہ وقت نہیں ملتا۔ہمیں چاہئے کہ ہم اس عظیم افرادی قوت کو کام میں لائیں ، اِن کی مدنی تربیت کریں ، اِن میں مدنی کام تقسیم کریں ۔ یقینا ہم سب کام خود نہیں کرسکتے البتہ جو کام خود ہی کرنے کے ہیں یا جن کا تقسیم کرنا’’ دعوتِ اسلامی‘‘ کے لئے نقصان کا باعث ہو سکتا ہے وہ خود ہی کرنا ہوں گے تاکہ ہمیں کسی قسم کی تنظیمی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس راہِ تقسیم میں تجربات اورانتخاب میں ناکامی بھی ہو سکتی ہے لہٰذااِس سے دِل برداشتہ نہیں ہونا چاہئے۔ چنانچہ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مکتوب کا اقتباس پیش کرتا ہوں ۔
فرماتے ہیں : ’’ہمارا منصب کام کرکے دِکھانا نہیں ، جُہدِمُسلسل کئے جانا ہے یقیناً ناخنِ تدبیر، گرہِ تقدیر کوکھولنے سے قاصِر ہے، جو مقسوم و مقدرہے وہ ہو کر ہی رہے گا ۔ ‘‘
ہم دیکھتے ہیں کے ایک شخص خوب تفتیش و غور و خوض کے بعد اپنی لختِ جِگر یعنی بیٹی کی شادی کردیتا ہے اگر اس کی بیٹی کو بد قسمتی سے طَلَاق ہو جائے تو وہ گھر بٹھانے کے بجائے دوبارہ بِیاہ دیتا ہے ۔بات صرف سمجھانے کے لئے ہے۔ آئیے! ہم امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ’’سفرِ دعوتِ اسلامی‘‘ پر غور کریں کہ آپ نے کِن کِن اسلامی بھائیوں پر اعتماد کرکے اُن کو مدنی کام تفویض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع