دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Madani Kamon Ki Taqseem Kay Taqazay | مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے

book_icon
مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے

سدا پیرو مُرشِد رہیں مجھ سے راضی

         کبھی بھی نہ ہوں یہ خفا یا الٰہی  ( عَزَّ وَجَلَّ )

(وَاللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمْ  عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّم)

 صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیبْ            صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اَہم ذِمّہ داریاں

        آپ کی اہم ذِمّہ داری کی وجہ سے جن اسلامی بھائیوں کا براہِ راست آپ سے تعلق ہے ، اُن کی فرداً فرداً کارکردگی لینا ، براہِ راست مُعاونت کرنا اور اُن کے سِپُرد کئے گئے مدنی کاموں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے یاد دِہانی اور مُناسب وقفے سے پوچھ گچھ(Follow up)کرنا، آپ کی اہم ذمہ داری ہے، اِس کا تفویض کرنا بھی کسی صورت مناسب نہیں ۔

حَوصلہ شِکنی کی نُحُوسَت

        کسی ماہرِ نفسِیات کا کہنا ہے کہ میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو نہایت شاندار کام سرانجام دے سکتا تھا لیکن وہ زندگی بھر کوئی نمایا ں کام محض اِس وجہ سے نہ کرسکا کہ جب وہ بچہ تھا تو بار بار اُس کی حوصلہ شکنی کی جاتی اور اُسے بے وُقوف ہو ، اَحمق ہو، کی آوازوں سے واسِطہ پڑتا رہتا تھا۔ اُس کا بیان ہے کہ جب کوئی اہم کام اُسے ملتا تواُس کی کمزوری کی تصویر اُس کے ذِہن کے پردے پر کِھنچ جاتی اور یوں وہ محسوس کرتا کہ وہ اِس کی اہلیت و قابلیت نہیں رکھتا ۔اِس طرح حوصلہ شکنی کی نُحُوست کے سبب وہ اپنی زندگی میں کوئی نُمایاں کام نہ کرسکا ۔

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!وہ نادان ذِمّہ داران جو اپنے ماتحتوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔اُن کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ ِاس طرح نہ صرف اِسلامی بھائیوں کی صلاحیتیں ضائِع ہوتیں بلکہ تقسیم کاری کا عمل بھی بے حد متاثر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کسی اسلامی بھائی کی خود اِعتمادی کا چراغ بُجھ جائیگا تو وہ کس طرح آپ کے سِپُرد کئے ہو ئے مدنی کاموں کو بحُسن و خُوبی بر وقت سراَنجام دے سکے گا ۔لِہٰذا اسلامی بھائیوں کی حوصلہ افزائی اس طرح کریں کہ وہ خود اِعْتِمادی پا کر آپ کے دئیے ہو ئے مَدَنی کاموں کو خُوب عُمدگی سے بجا لا سکیں ۔   

خُود اِعْتِمادی کی فضا

        ساحلِ سَمُندرپر ایک جھونپڑا واقع تھا اورغُروبِ آفتاب کا وقت تھا۔ غروب ہوتے ہوئے سُورج نے اندھیرے میں ڈوبتی ہوئی دُنیا سے پوچھا ’’ہے کوئی میری جگہ لے سکے؟‘‘اِس سنّاٹے میں جھونپڑی کے اندر جلتے ہوئے چراغ نے کہا ’’ہاں میں کو شش کرونگا ۔‘‘

        یاد رہے! اگر آپ واقِعی اسلامی بھائیوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھانااور اُن کے اندرخُود اِعتمادی پیدا کرنا چاہتے ہیں تواُن کی شخصیت کو اُجاگَر کرنے اور پوشیدہ صلاحیتو ں کے دروازے کَھٹکھٹانے کی کوشِش کرتے رہیں ۔ اِس سلسلے میں اِن کی عَدَم موجودگی میں بھی اِن کی جائز تعریف کریں ۔کامیاب نگران اپنی نُمایا ں کارکردگی کا سہرا اپنے ماتحت کے سر باندھتا ہے۔

        میرے عظیم قائد، رہنما، رہبر، شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا  َوتیرَہ(وَ۔تی۔رَہ)یعنی شیوہ ہے کہ آپ اِسلامی بھائیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ہر دم تیار رہتے ہیں کوئی اسلامی بھائی کیسی ہی پریشانی لئے حاضر ہو، آپ چند کَلِماتِ حکیمانہ کے ذریعے اُس کو خُود اِعتمادی کا پہاڑ بنادیتے ہیں ۔آپ کا یہ جُملہ بارہا سُنا ہے کہ’’ آپ سمجھدار ہیں ، آپ خود کر لیں گے‘‘بعض اوقات فرماتے ہیں   ’’ آپ خود کرلیں اگر نہ ہو تو میں حاضر ہوں ‘‘اسطرح سُننے والے کو حوصلہ ملتا  اور جب یہ محسوس کرتا ہے کہ میرے بڑوں کو مجھ پر اِعتماد ہے تو وہ اُس مدنی کام کو بہتر انداز پر کرنے کے لئے جان لڑا دیتا ہے ۔

         ایسا بھی ہوا کہ کوئی اسلامی بھائی مَدَنی کام کی اَنجام دَہی میں غَلَطی کرگیا ۔ لیکن میرے آقا، شیخِ طریقت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے وہاں بھی حوصلہ اَفزائی کی ایسی مثالیں قائم فرمائیں کہ ان مَناظِر کو دیکھ کر آنکھیں اشکبار ہوگئیں ۔آپ بارہا فرماتے ہیں ’’جو گاڑی سڑک پر چلتی ہے اُسی کو حادِثہ پیش آتا ہے ‘‘۔

 صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب!         صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

صَلَاحِیتوں کے مُطابِق تقْسیم

   حضرت سَیِّدُنَا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے کام کرنے کا انداز یقیناکامِل و اَکمل تھا ۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دیئے ہو ئے اُصُولوں پر عمل آج بھی جاری ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’کسی ایسے شخص کو کوئی ایسا کام سِپُرد نہ کیاجائے کہ جس کے کرنے کی اُسے رَغبت نہ ہو اور جس کے بارے میں وہ پوری طرح مطمئن نہ ہو (سِوائے مجبوری کے)تاکہ کارکردگی بہتر ہو ۔‘‘

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تقسیم کاری کے عمل کو بہتر بنانے اور اِس سے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے ایک اور اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ صلاحیتوں کے مُطابِق تقسیم کی جائے۔ یعنی اسلامی بھائیوں کی دِلچسپی ، تَجْرِبات اور قابِلیت کے مُطابِق انہیں مَدَنی کام سِپُرد کیا جائے ۔تاکہ مدنی نتائج کی بہتری کے ساتھ ساتھ اُس کی تنظیمی صلاحیتوں کو بھی مدنی نکھار نصیب ہو۔

نہر کا بہاؤ

        ایک نہر تیزی سے بہتے ہوئے قُرب و جوار کی بستیوں میں تباہی مچارہی تھی ۔بستی والوں کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ اگر بہاؤ کا یہی حال رہا تو سب برباد ہو جائیں گے۔ اِس مسئلے کو حل کرنے کے لئے بستی میں تین گروہ ہو گئے ۔پہلے گروہ نے اپنی تمام ترقوت اور اسباب پانی کے بہاؤ کو روکنے میں صرف کر دیئے مگر کامیابی حاصل نہ ہو سکی کیونکہ یہ پانی کو ایک جگہ سے روکتے تو وہ دوسری طرف سے بہہ نکلتا، پریشر کے سبب مزید تباہی بڑھتی۔

        دوسرے گروہ نے یہ طے کیا کہ اس کا سرچشمہ (منبع)تلاش کیا جائے تاکہ اُسے بند کرنے سے اِس نہر کا زور کم ہو اورنُقصان سے محفوظ رہا جاسکے ۔سرچشمہ تو مل گیا مگر ایک سوتا(نکاس) بند کیا جاتا تو دُوسرے سوتے (یعنی نکاس)سے پانی خارج ہونے لگتا اور یوں نہر کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری رہا ۔

        تیسرے گروہ کا مَدَنی ذِہن بنا ہوا تھا، اُس نے دونوں گروہوں سے عبرت حاصل کی، نہر کو روکنے کی کو شش کی نہ سوتے بند کئے بلکہ انہوں نے اُس نہر کے بہاؤ کو  حسبِ منشاء راہ پر لگا کر اُس کا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن