30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مار کر فرماتے : بتا! آج تُو نے ”کیا کيا“ کِيا ہے ؟ [1]یہی نہیں بلکہ ایک روایت میں تو یہاں تک ہے کہ آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس ایک رجسٹر تھا ، جس میں آپ اپنے ہفتہ وار اَعمال لکھا کرتے ، پھر ہر جُمُعَہ کے دِن اپنے اَعمال کا جائزہ لیتے اور جس عَمَل کو ( اپنے گمان میں )رِضائے اِلٰہی کے لئے نہ پاتے تو اپنے آپ کو دُرّہ مارتے اور فرماتے : تم نے یہ کام کیوں کیا ؟ [2]
اللہ پاک کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدْقے ہماری بے حِساب مَغْفِرَت ہو ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرتِ سَیِّدُنا عُمَر فَارُوقِ اَعْظَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا اِس طرح اپنے نَفس کومَلامَت کرنا اور اللہ پاک کا خوف دِلاکر اس کا مُحاسَبَہ کرنا ہماری تعلیم کے لئے تھا ، مُحَاسَبۂ نَفْس یعنی فِکْرِ مدینہ تو ہمارے اسلاف کی عادتِ ثانیہ تھی ۔
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!ہر شخص پر لازِم ہے کہ جب وہ کسی کام کا اِرَادہ یا عملی طورپر کوشش کرنا چاہے تو اپنے اِرَادے اور کوشش سے پہلے اس میں غور و فِکْر کرے اور کچھ دیر توقُّف کرے یہاں تک کہ نُورِ عِلْم کے ذریعے واضِح ہو جائے کہ یہ کام اللہ پاک کے لئے ہے تا کہ اسے کر لیا جائے یا نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ہے تو اس سے بچا جائے اور دل کو اس میں غور و فِکْر کرنے سے بھی روکا جائے کیونکہ باطِل کام میں مُبْتَلا ہونے سے پہلے نَفْس کا اِحْتِساب نہ کیا جائے تو اس میں رَغْبَت بڑھ جاتی ہے اور رَغْبَت اِرَادے کو جَنَم دیتی ہے اور اِرَادہ عَمَل کا سَبَب بنتا ہے اور باطِل عَمَل بر بادی اور خدا تعالیٰ سے دُوری کا سَبَب ہوتا ہے ۔ اس لئے قلبی وسوسوں کو شروع ہی میں جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا چاہئے کیونکہ دِیگر اُمُور اسی کی پَیْرَوِی میں رُونُما ہوتے ہیں ۔ چُنَانْچِہ ،
یاد رکھئے ! فِکْرِ مدینہ میں تین۳طرح کے اُمُور پر غور و فِکْر کرنا چاہیے : (1)وہ جو ہم پہلے کر چکے ہیں(2) جو کر رہے ہیں اور (3) جو آئندہ کرنا چاہتے ہیں ۔ پھر ان میں سے ہر کام نیکی وگناہ پر مَبْنِی ہو گا یا وہ کام مُباح ہوگا ۔ لِہٰذا ہر کام کے بارے میں ہم اپنے نَفْس کا دوطرح سے مُحَاسَبہ کرسکتے ہیں: (1)یہ کام کیوں کیا ؟ یا کیوں کررہے ہیں ؟ (2)یہ کام کس طرح کیا ؟ یا کس طرح کریں گے ؟
مذکورہ تقسیم کے نتیجے میں چونکہ ہمیں بیک وَقْت بَہُت سے اَعمال کا مُحَاسَبہ کرنا ہو گا جو کہ بے حد مُشکِل ہے ۔ چُنَانْچِہ اس بارے میں حضرت سَیِّدُنا اِمام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ہر شخص کے پاس ایک کاپی ہونی چاہیے ، جس پر ہَلاکَت میں ڈالنے والے اُمُور اور نجات دینے والی تمام صِفات مَذْکُور ہوں ، نیز گناہوں اور نیک اَعمال کا بھی تَذْکِرہ ہو اور روزانہ اس کی مَدَد سے اپنا مُحَاسَبہ کرے ۔ [3] لِہٰذا ہمیں اپنے مَطلوبہ اَعمال کی فہرست روزمَرّہ ، ہفتہ وار ، ماہانہ اور سالانہ اِعْتِبَار سے بنا لینی چاہیے پھر اس پر حضرت اِمام غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مشورے کے مُطابِق نشانات لگانے چاہئیں ۔
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!یہ حقیقت ہے کہ ہر کوئی ایسی فہرست بنانے کی صَلَاحِیَّت نہیں رکھتا ، جو اس کی دنیا و آخِرَت کو بہتر بنانے کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع