30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو اِرشَاد فرماتے : اے میرے بھائیو!اللہ پاک کی قسم! اَیّامِ خالیہ ( یعنی زِنْدَگی کے دن ) یہی ہیں ، انہیں کوشِش سے بَسَر کرو اور ہر گز انہیں عِبَادَت سے خالی چھوڑ کر ضائع مت کرو ۔ کیونکہ ان اَیّام میں آخِرَت کے کاموں میں مَشْغُول ( Busy )نہ ہونا مَحْرُومی ہے ۔ [1]
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو!مِنْھَاجُ الْقَاصِدِیْن میں ہے کہ دن رات میں 24 گھنٹے ( Hours ) ہوتے ہیں اور بروزِ قِیامَت بندے کے سامنے ہر دن کے بدلے صَف در صَف 24 الماریاں رکھی جائیں گی ۔ چُنَانْچِہ جب ان میں سے ایک ایسی الماری کھولی جائے گی جو بندے کی نیکیوں کے نور سے بھری ہو گی جو اس نے اس سَاعَت میں کی ہوں گی تو وہ اس قَدْر خوش ہو گا کہ اگر اس کی یہ خوشی تمام جہنمیوں پر تقسیم کر دی جائے تو حیرانی کی وجہ سے انہیں اپنی تکلیف کا اِحْسَاس نہ رہے گا اور اگر صُورَت اس کے برعکس ہوئی ، یعنی بندہ کسی سَاعَت میں نیکیوں کے بجائے گناہوں میں مُبْتَلا رہا تو جب وہ الماری کھولی جائے گی تو نور کی جگہ اس قَدْر اندھیرا اور بدبُو پھیلے گی جسے دیکھ کر بندہ اس قَدْر گھبراہٹ و ذِلَّت مَحْسُوس کرے گا کہ اگر وہ تمام جنّتیوں پر تقسیم کر دی جائے تو ان کی نعمتیں مُکَدَّر( خراب ) ہو جائیں ۔ اسی طرح جب کوئی ایسی الماری کھولی جائے گی جو خالی ہو گی اور اس میں کوئی ایسی شے نہ ہو گی جو بندے کیلئے خوشی یا غمی کا باعِث ہوتی تو حقیقت میں یہ وہ سَاعَت ہو گی جس میں وہ دنیا میں سویا رہا ہو گا یا ( یادِ الٰہی سے )غَفْلَت ( Headlessness )کا شِکار رہا ہو گا یا کوئی بھی نیک کام نہ کر سکا ، لِہٰذا اس الماری کے خالی ( Empty )ہونے پر وہ بَہُت اَفْسَوس کرے گا اور اسے اس شخص کی طرح دُکھ ہو گا جسے بَہُت زیادہ مُنَافَع ( Profit )کمانے کا مَوْقَع ( Opportunity ) ملے مگر وہ اسے ضائع ( Waste ) کر کے اس کثیر مُنافَع ( Profit )سے مَحْرُوم ہو جائے ۔ [2]
غافِل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے مُنادی
قُدرَت نے گھڑی عُمر کی اِک اور گھٹا دی
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارے ڈبل 12گھنٹوں( 24 Hours ) میں سے ہر گھنٹے کے مُقابِل جو الماری ہے وہ نیک اَعمال سے بھری ہوئی ہو اور کوئی ایک الماری بھی خالی نہ رہے ۔ اس لئے سُستی و کاہلی ( Laziness )کا مُظاہَرہ چھوڑ کر ایسے اَعمال بجا لانے ہوں گے کہ بروزِ قِیامَت رُسوائی ( Disgrace )کا سامنا کرنا پڑے نہ حَسْرَت کا شِکار ہوں ۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو جہاں اعلیٰ دَرَجات سے محرومی ہوسکتی ہے ، وَہیں دوسروں کو ان مقامات پر فائز ہوتا دیکھ کر پچھتانا بھی پڑسکتاہے ۔ لِہٰذا اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرتِ سیِّدُنا عُمَر فَارُوقِ اَعْظَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اس فرمان کو حِرْزِ جاں ( یعنی جان سے زیادہ بڑھ کر پیارا ) بنا لیجئے کہ اے لوگو! اپنے اَعمال کا حِساب کر لو اس سے پہلے کہ ( قِیامَت آجائے اور ) ان کا حِساب لیا جائے ۔ [3]
تُو بے حساب بخش دے عطاؔرِ زار کو تجھ کو نبی کا واسطہ یا ربِّ مُصطفیٰ[4]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع