30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سُنّتوں کی مہکتی خوشبوؤں اور نیکی کی دَعْوَت کودُنیا بھرمیں عام کرنے کے مُقَدَّس جذبے کے تحت دربارِ اِلٰہی میں خاکِ مدینہ کا واسِطہ پیش کرتے ہوئے یوں دُعا کرتے ہیں:
میں مُبَلِّغ بنوں سُنّتوں کا،خوب چرچا کروں سُنّتوں کا
یا خُدا دَرْس دوں سُنّتوں کا،ہو کرم بہرِ خاکِ مدینہ[1]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نیکی کی دعوت سُن کر گانا چھوڑ دیا
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بُرائی دیکھ کر خاموشی سے گزر نہ جاتے بلکہ مُمکِن ہوتا تو نیکی کی دَعْوَت ضَرور دیتے۔ جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بِن مَسْعُود رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک روز کُوفے کے قریب کسی مَقام سے گزَر رہے تھے، ایک گھر کے پاس زَاذان نامی مشہور گَوَیّا(یعنی گلوکار، Singer)نِہایت ہی سُرِیلی آواز میں گا رہا تھا اور کچھ اَوباش لوگ شراب کے نَشے میں مَسْت گانے باجے کی دُھنوں پر جُھوم رہے تھے۔حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بِن مَسْعُود رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: کتنی پیاری آواز ہے! کاش یہقِراءَتِ قرآنِ کریم کے لیے اِسْتِعمال ہوتی تو کچھ اور بات ہوتی! یہ فرما کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی چادَر سر پر ڈالی اور تشریف لے گئے۔زَاذان نے لوگوں سے پوچھا: یہ کون صاحِب تھے؟ لوگوں نے بتایا: مشہور صَحابی حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بِن مَسْعُود رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ۔پوچھا: اُنہوں نے کیا فرمایا؟کہا: فرما رہے تھے: کتنی پیاری آواز ہے! کاش یہ قِراءَتِ قرآنِ کریم کے لیے اِسْتِعمال ہوتی تو کچھ اور بات ہوتی! یہ سُن کر اُس پر رِقّت طاری ہو گئی وہ اُٹھا اور اپنا باجا زور سے زمین پر دے مارا،باجے کے پَرَخچے اُڑ گئے،پھر روتا ہوا حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ بِن مَسْعُود رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خِدْمَت میں حاضِر ہو گیا،آپ نے اُسے گلے سے لگا لیا اور خود بھی رونے لگے،پھر آپ نے فرمایا: جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مَحَبَّت کی میں اُس سے کیوں مَحَبَّت نہ کروں! چُنَانْچِہ زاذان نے گانے باجے سے توبہ کر کے حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ بِن مَسْعُود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صُحْبَت اِخْتِیار کر لی اور قرآنِ پاک کی تعلیم حاصِل کر کے عُلُومِ اِسلامیّہ میں ایسا کمال حاصِل کیا کہ بَہُت بڑے اِمام بن گئے۔[2] اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحْمَت ہو اور ان کے صَدْقے ہماری بے حِساب مَغْفِرَت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
میں گانے باجوں اور فلموں ڈِراموں کے گُنہ چھوڑوں
پڑھوں نعتیں کروں اکثر تِلاوَت یا رسولَ اللہ[3]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سَیِّدُنا مُصعب بن عُمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور نیکی کی دعوت
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! مَشْہُور مُفسِّرِ قرآن، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان مِرْاٰۃُ الْمَناجیح میں فرماتے ہیں: حضرت مُصْعَب ابنِ عُمیر(رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)جلیلُ القدر صحابی ہیں،اِسْلام سے پہلے بڑے نازو نِعَم میں پَرْوَرِش پاتے رہے،حُضُور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے عَقَبۂ اُولیٰ کی بَـیْعَت کے بعد انہیں مدینۂ مُنَوَّرہ تبلیغ کے لیے بھیج دیا تھا آپ لوگوں کے گھروں میں جا کر تَبْلِیغ کرتے ہر دَورہ میں ایک دو۲مسلمان کر لیتے تھے حتّٰی کہ وہاں ایک جَمَاعَت مومن ہوگئی۔[4]
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی طر ح ہمارے بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُالْمُبِین بھی نیکی کی دَعوت دینے کا کوئی موقَع ہاتھ سے نہ جانے دیتے،اگر راہ چلتے بلکہ دورانِ سَفَر بھی مَوْقَع ملتا تو نیکی کی دَعْوت اِرشَاد فرماتے۔ مَثَلًا حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن بَشّار رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سَیِّدُنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع