30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر اس طرح کہیں: مَدَنی دورے میں شِرْکَت کی سَعَادَت پانے والے اِسْلَامی بھائی میری سیدھی جانِب تشریف لے آئیں۔ جب کچھ اِسْلَامی بھائی سیدھی جانِب آجائیں تو بیان کرنے والا اِسْلَامی بھائی بقیہ اِسْلَامی بھائیوں سے اس طرح کہے: میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! قریب قریب تشریف لے آیئے۔اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ یہاں مَسْجِد میں بھی بیان جاری رہے گا۔مَسْجِد میں بیٹھنے سے ڈھیروں نیکیاں حاصِل ہوتی ہیں۔ چُنَانْچِہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حَبیب، حَبیبِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: جو قوم کِتابُ اللہ کی تِلاوَت کے لیے اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جَمْع ہو اور ایک دوسرے کے ساتھ دَرْس کی تکرار کرے تو ان پر سکینہ(اطمینان و سکون) نازِل ہوتا ہے، رَحْمَتِ الٰہی انہیں ڈھانپ لیتی ہے،فرشتے انہیں گھیر لیتےہیں،اور الله تعالیٰ ان کا ذِکْر فرشتوں کے سامنے فرماتا ہے۔[1]
پھر دُعا کے فوراً بعد عَصْر تا مَغْرِب مَسْجِد میں بيان کرنے کیلئے مُقَرَّر کردہ اِسْلَامی بھائی بیٹھ کر اِسْلَامی بھائیوں کو مزید قریب کرکے بیان شروع کر دے۔ اگر پہلے سے ذِمَّہ داریاں تقسیم نہ ہوں تو جس اِسْلَامی بھائی کی مَدَنی دورہ کروانے کی ذِمَّہ داری ہے وہ سیدھی جانِب آنے والے اِسْلَامی بھائیوں میں ذِمّہ داریاں تقسیم کرے اور مَدَنی دورے کے فضائل و آداب بتائے۔[2]
پھر مَدَنی دورہ میں شِرْکَت کرنے والے اِسْلَامی بھائیوں کونگران، مَدَنی دورے کے آداب سمجھائے اور مَسْجِد کے دروازے پر دُعا مانگ کر نگاہیں نیچی کئے راستے کے کنارے دو،۲دو۲ اِسْلَامی بھائی قطارمیں چلیں،راہ نُما آگے بڑھ کر سلام کرے اور یوں کہے ہم مَسْجِد سے حاضِر ہوئے ہیں کچھ عَرْض کریں گےآپ سُن لیجیے۔اب داعِی(ممکن ہو تو رو رو کر) نیکی کی دَعْوَت پیش کرے۔
٭…مَسْجِد سے باہَر دُعاکے بعد اِسْلَامی بھائی دو۲، دو۲کی قطار میں چلیں۔
٭… داعِی اور راہ نُما آگے آگے رہیں۔
٭…آپَس میں بات چیت نہ کریں۔
٭…کوشِش کرکے راستے کے ایک طرف چلیں۔
٭…حَتَّی الْاِمْکَان نگاہیں نیچی کرکے چلیں اور اِدھر اُدھر دیکھنے سے اِجْتِنَاب کریں۔
٭… مُنْتَشِر ہونے کی بجائے سار ے اِسْلَامی بھائی اکٹھے ہی رہیں۔
٭…ہاتھوں میں تسبیح اور لبوں پر دُرُودو سلام جاری رکھیں دُرُودِ پاک کی بَرَکَت سے نیکی کی دَعْوَت میں تاثیر پیدا ہوجائے گی۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
٭… اگر کسی کو اس کا شناسا (یعنی جاننے والا) مل جائے تو وہ اِسْلَامی بھائی اس سے سلام و مُصَافَحہ کرکے چل پڑے یا اسے بھی اپنے ساتھ لے لے۔
٭… جب کسی کے مکان پر دَستک دیں تو گھر کے مَردوں کو بُلاکر ایک طرف کھڑے ہو کر نیکی کی دَعْوَت دیں۔
٭… جب کسی کو نیکی کی دَعْوَت پیش کی جائے تو کوئی اِسْلَامی بھائی درمیا ن میں نہ بولے بلکہ تمام اِسْلَامی بھائی خاموشی کے ساتھ نگاہیں نیچی کئے سنیں۔
٭… واپَسی پر اِسْتِغْفار پڑھتے ہوئے آئیں۔
٭…مَغْرِب کی اَذَان سے 10منٹ قَبْل واپَس آکرمَسْجِد میں جاری درس میں شِرْکَت کریں۔[3]
آداب بیان کرنے کے بعد تمام اِسْلَامی بھائی مَدَنی دورے کے لیے روانہ ہوجائیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع