سُوال : کیا اسلامی بہنیں تراویح سے پہلے وتر پڑھ سکتی ہیں؟ (سائل : عبد الحفیظ ، کورنگی)
جواب : ترتیب یہ ہے کہ تراویح کے بعد وتر پڑھی جائے ، لہٰذا تراویح کے بعد ہی پڑھنی چاہئے۔ اگر کسی نے عشا کے فرض کے بعد اور تراویح سے پہلے بھی پڑھ لی تو گناہ گار نہیں ہوگا نمازِ وتر ہو جائے گی۔ ( )
سُوال : عبادت پر استقامت کیسے ملے؟
جواب : عبادت کرتے رہیں اِنْ شَآءَ اللّٰہ استقامت مل جائے گی۔ ایک بزرگ سے منقول ہے کہ میں 20سال تک عبادت کرتا رہا دل نہیں لگتا تھا ، پھر 20 سال میں نفع اٹھایا یعنی پھر مجھے 20 سال ایسے ملے کہ مجھے عبادت کا ذوق مل گیا۔ ( ) یوں نہ ہوکہ دل نہ لگنے کی وجہ سے چند دنوں میں ہی ہمت ہار جائے ، مسلسل کوشش کرتا رہے ، دل نہ بھی لگے ثواب تو ملے گا۔
سُوال : آقائے دو جہاں صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے مدینہ پاک ہی ہجرت کیوں فرمائی؟
جواب : جہاں ہجرت کرنے کا اللہ پاک نے حکم فرمایا پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے وہاں کا رُخ کیا اور جب حکم ہوا تب ہی ہجرت فرمائی ، ورنہ آپ سے پہلے صحابَۂ کرام روانہ ہو چکے تھے ، پہنچ بھی گئے تھے ، لیکن سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم مکۂ مکرمہ میں ہی تھے ، پھر اللہ پاک نے حکم فرمایا تو آپ بھی مدینۂ منورہ تشریف لے گئے ( )۔ ( )
سُوال : اگر نابالغ کے روزے قضا ہو جائیں تو کیا اس پر ان روزوں کی قضا لازم ہے؟
جواب : نابالغ پر روزے فرض نہیں ، نہ اس کی قضا کرنا ضروری ہے۔ نیز اگر کوئی نابالغ سے پوچھے کہ کتنے روزے رکھے ہیں؟ تو اسے اتنے ہی بتانے چاہئیں جتنے روزے رکھے ہیں ، اپنی تعریف کروانے کے لئے زیادہ نہ بتائے ، والدین کو چاہئے کہ بچوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ ریاکاری کے لئے نہیں ، بلکہ اللہ پاک کی رضا کے لئے روزے رکھیں ، بعض والدین بچوں کے روزوں کا اعلان کرتے ان کی تصاویر بناتے اور خوب چرچا کرتے ہیں ، ان کو غور کرنا چاہئے کہ اگرچہ بچے کو ریا کاری کا گناہ نہیں ملے گا ، لیکن اس طرح بچے کی عادت خراب ہو سکتی ہے اور بڑے ہو کر اس کا ریا کاری والا ذہن بن سکتا ہے ، اگرچہ اپنے عمل کا اظہار کرنا بہر صورت ریا کاری نہیں ہے ، لیکن خطرہ ضرور ہے کہ ریاکاری میں پڑ جائے ، ریا کاری یہ ہے کہ اپنی عبادت دوسرے پر اس لئے ظاہر کی جائے تاکہ اس کے دل میں عزت یا مقام بنے ، یا اس کے ذریعے مال ملے۔ ( ) ریا کاری حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
سُوال : کیا روزے کی حالت میں سُرمہ لگا سکتے ہیں؟
جواب : جی ہاں؟ لگا سکتے ہیں اگرچہ تھوک میں اس کا اثر ظاہر ہو۔ ( )
سُوال : کیا مکروہ اوقات میں سجدۂ شکر ادا کرنا بھی منع ہے؟
جواب : سجدۂ شکر کرنا ان اوقات میں مکروہ ہے جن میں نماز مکروہ ہے ، اس کے علاوہ مکروہ نہیں۔ ( )
سُوال : سیّدی ضیاء الدین احمد مدنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو “ قطبِ مدینہ “ کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب : “ قطب “ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی ایک قسم ہے ، علما آپ کو “ قطبِ مدینہ “ کہتے ہیں۔
سُوال : اگر کسی سے رمضان میں کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو کیا کفارہ ہوگا؟ (سائل : سلمان عطاری ، اوکاڑہ)
جواب : جیسا گناہ ہو ویسا حکم ہوگا۔ اگر حق العبد تلف کیا ہے تو توبہ کے ساتھ اس کی ادائیگی بھی کرے ، اگر نَعُوْذُ بِاللّٰہ نماز قضا کی ہے تو توبہ کےساتھ اس کی قضا بھی کرے۔
سُوال : قیامت کے دن یاجوج ماجوج نکلیں گے یہ کیسے ہوں گے؟ (سائل : مدثر ، راولپنڈی)
جواب : دیکھے نہیں ہیں کیسے ہوتے ہیں! کتابوں میں پڑھا ہے بہت طاقتور اور قد آور ہوں گے ، قربِ قیامت میں وہ نکلیں گے۔ اللہ کریم ہمیں ان کی شرارتوں سے محفوظ فرمائے! ( )
سُوال : کسی سے اس کی مادری زبان میں بات کریں تو وہ اپنائیت محسوس کرتا ہے۔ ہم اندرونِ سندھ مدنی قافلے میں گئے تو وہاں لوگ ہوٹلوں میں فلمیں ڈرامے دیکھتے ، نیکی کی دعوت کا سلسلہ ہوتا تو نہیں سنتے ، کسی نے سندھی زبان میں نیکی کی دعوت دی تو بڑی اپنائیت کے ساتھ خوش ہو کر جمع ہوگئے ، کسی نے کہا کہ یہاں سندھی میں بیان ہونا چاہئے ، اس پر ایک اسلامی بھائی نے کہا کہ یہ فلمیں گانے اردو میں ہی دیکھتے سنتے ہیں ، صرف بیان ہی انہیں سمجھ نہیں آتا! تو آپ اس بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ (سائل : حاجی امین عطاری)
جواب : دراصل فلموں میں تو تصویروں کی کشش ہوتی ہے ، انگریزی نہیں آتی ، لیکن انگریزی فلمیں دیکھتے ہیں! لڑائی جھگڑے کے مناظر دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں مَعَاذَ اللّٰہ۔ بہر حال یہ حقیقت ہے کہ قدرتی طور پر انسان کو اپنی مادری زبان سے اُنسیت ہوتی ہے۔ اگر دو بندے اپنی زبان میں بات کر رہے ہوں تیسرے کو وہ زبان نہ آتی ہو تو وہ پریشان ہوگا ، لہٰذا ایسی زبان بولنی چاہئےجو سب کو آتی ہو ، پاکستان میں اردو تقریباً سب کو آتی ہے اس لئے اردو میں بات کی جائے!
کتنا علم ضروی ہے؟
سُوال : علمِ دین کتنا آنا چاہئے؟ (سائل : محمد عابد)
جواب : سب سے پہلے تو اپنے عقائد سے واقف ہونا ضروری ہے ، نیز جس پر نماز فرض ہے اس کے لئے نماز کے ضروری مسائل جاننا ، جس پر روزہ فرض ہو اس کے لئے روزے کے مسائل سیکھنا ضروری ہے ، یوں ہی نکاح ، تجارت اور ملازمت وغیرہ جن کی ضرورت پڑے ان کے مسائل سیکھنا بھی فرض ہے۔ اس کے علاوہ گناہوں کی معلومات ہونا فرض ہے ، باطنی بیماریاں مثلاً تکبر حسد ریا وغیرہ جن کو “ مہلکات “ کہا جاتا ہے ان کی معلومات ہونا بھی فرض ہے ۔ اس کے لئے “ باطنی بیماریوں کی معلومات “ اور “ نجات دلانے والے اعمال کی معلومات “ یہ دونوں کتابیں مکتبۃ المدینہ سے حاصل کر کے پڑھنا بہت ضروری ہے۔
مرغی کی نرم ہڈی چبانا کیسا؟
سُوال : مرغی کے گوشت میں جو نرم ہڈی ہوتی ہے اس کو چبانا کیسا؟
جواب : اس کو چبنی ہڈی بولتے ہیں ، یہ سفید ہڈی بکرے وغیرہ میں بھی ہوتی ہے۔ حلال ہے ، لہٰذا اس کا کھانا جائز ہے۔ لوگ پھینک دیتے ہیں ، پھینکنا نہیں چاہئے۔
کیا مذاق میں کسی کی چیز چھپانا چوری ہے؟
سُوال : کیا مذاق میں کسی کی چیز چھپا دینا بھی چوری ہے؟ (محمد ارشاد رضا عطاری)
جواب : یہ چوری نہیں کہلائے گی۔ چوری یہ ہے کہ کسی نے اپنا مال چھپا کر یا حفاظت سے رکھا تھا اس کو ناحق چھپ کر لے لیا جائے ، ( ) جبکہ ایسے مال کو چھیننا غصب کہلاتا ہے۔ ( ) جیسی چیز ہوگی اس کے چھپانے کا ویسا ہی اثرہوگا ، مثلاً کسی کا موبائل چھپا دیا تو اس کی تکلیف زیادہ ہوگی۔ 1997ء کا واقعہ ہے ، ہم ہند کے شہر بمبئی کے سفر پر تھے ، ہمارے ساتھ محافظ (Guard) تھا جس کے پاس ہتھیار تھا ، جب ہم کھانا کھانے لگے تو وہ بھی اپنا ہتھیار پیچھے رکھ کر ہمارے ساتھ کھانے بیٹھ گیا ، حالانکہ محافظ کی ذمہ داری حفاظت کرنا ہے ، اس کے لئے ہتھیار چھوڑنا قانوناً جرم ہے ، کھانا کھاتے ہوئے کوئی بھی ہتھیار اٹھا کر نقصان پہنچا سکتا تھا ، اتفاق سے کسی نے اس کا ہتھیار چھپا دیا! اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی ، وہ بہت غصہ ہوا ، اس جرم پر قانون اس کو پھانسی پر بھی چڑھا سکتا تھا! بہرحال اس کو آئندہ کے لئے نصیحت ہوگئی ہوگی ، پھر ایسا نہیں کرے گا۔
***
ماخذ و مراجع
قرآن مجید کلام الٰہی ***
نام کتاب مصنف / مؤلف / متوفیٰ مطبوعات
خازن علاؤ الدین علی بن محمدبغدادی ، متوفی ۷۴۱ھ دار الکتب العلمیہ
بخاری امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری ، متوفی۲۵۶ ھ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۹
مسلم امام ابو الحسین مسلم بن الحجاج القشیری ، متوفی ۲۶۱ھ دار الکتب العربی ، ۱۴۲۷
ترمذی امام ابو عیسٰی محمد بن عیسٰی ترمذی ، متوفی ۲۷۹ ھ دار الفکر بیروت ۱۹۹۴
ابن ماجه امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ ، متوفی ۲۷۳ھ دار المعرفۃ بیروت
معجم اوسط امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد الطبرانی ، متوفی ۳۶۰ ھ دار الکتب العلمیۃ ۱۹۹۹
الاستیعاب ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمدابن عبد البر القرطبی ، متوفی ۴۶۳ ھ دار الکتب العلمیۃ ۲۰۰۲
طبقات ابن سعد ابو عبد اللہ محمد بن سعد بن منیع الہاشمی ، متوفی ۲۳۰ھ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۹۹۷
المواھب اللدنية الشیخ احمد بن محمد القسطلانی ، متوفی ۹۲۳ھ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۹۹۶
شرح الزرقانی محمد بن عبد الباقی بن یوسف زرقانی ، متوفی۱۱۲۲ھ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۷
دلیل الفالحین محمد بن علان صدیقی المکی الاشعری الشافعی ، متوفی ۱۰۵۷ھ دار المعرفۃ بیروت ۲۰۰۴
مدارج النبوة شیخ عبد الحق محدث دہلوی ، متوفی ۱۰۵۲ ھ ضیاء القرآن ۲۰۰۴
نور الابصار مؤمن بن حسن مؤمن الشبلنجی ، متوفی۱۳۰۸ھ مطبعة مصطفی البانی بمصر ۱۳۶۷ھ
الزواجر شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجرالمکی الہیتمی الشافعی ، متوفی ۹۷۴ھ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۱۹ھ
الحدیقة الندیة علامہ عبد الغنی نابلسی حنفی ، متوفی۱۱۴۳ھ مکتبہ فاروقیہ پشاور ۲۰۲۰
کیمیائے سعادت امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی ، متوفی ۵۰۵ھ برادران علمی
صفة الصفوة جمال الدین ابو الفرج عبد الرحمن ابن الجوزی ، متوفی ۵۹۷ھ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۲۰۰۲
فتاوی ھندیة شیخ نظام الدین وجماعت علمائے ہند دار الفکر ، بیروت۱۴۰۲ھ
جوهرة النیرة علامہ ابوبکر بن علی حداد ، متوفی ٨٠٠ ھ کراچی
رد المحتار علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی ، متوفی ۱۲۵۲ھ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۲۰ھ
در مختار علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی ، متوفی ۱۰۸۸ھ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۲۰ھ
غنیة المتملی شیخ ابراہیم حلبی حنفی ، متوفی۹۵۶ھ سہیل اکیڈمی لاہور
فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان ، متوفی ۱۳۴۰ھ رضا فاؤنڈیشن ، لاہور
مراٰۃ المناجیح حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی ، متوفی۱۳۹۱ھ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور
فتاویٰ امجدیہ مفتی امجد علی اعظمی ، متوفی ۱۳۶۷ مکتبہ رضویہ لاہور
سیرت رسول عربی حضرت علامہ محمد نور بخش توکلی ، متوفی ۱۳۶۷ ھ مکتبۃ المدینہ کراچی
سيرتِ مصطفیٰ شیح الحدیث عبد المصطفٰی اعظمی ، متوفی۱۴۰۶ھ مکتبۃ المدینہ کراچی