30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭…٭…٭…٭…٭…٭
سیدناامام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ’’عفان، حماد بن سلمہ سے ، وہ عبدالملک ابو جعفر سے ، وہ ابو نضرہ سے اور وہ حضرت سیدنا سعد بن اطول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں کہ ان کابھائی ترکے میں تین سو درہم اور اہل وعیال چھوڑکر دنیا سے چل بسا،پس مَیں نے وہ رقم اس کے گھروالوں پر خرچ کرنے کاارادہ کیاتونور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تیرابھائی قرض میں گرفتارتھا لہذا اس کی طرف سے قرض اداکرو۔‘‘(قرض اداکرنے کے بعد)انہوں نے عرض کی :’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !میں نے اس کی طرف سے سارا قرض ادا کردیاہے سوائے ان دو دیناروں کے جن کا دعویٰ ایک عورت کرتی ہے حالانکہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ۔‘‘توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’اسے دے دو ،وہ سچ کہتی ہے۔‘‘(سنن ابن ماجہ،کتاب الصدقات،باب اداء دین…الخ،الحدیث:۲۴۳۳،ج۳،ص ۱۵۵، ’’محبوس‘‘بدلہ’’ محتبس‘‘)
علامہ حافظ زین الدین عراقی علیہ رحمۃ اللہ الباقی (806-725ھ) کتاب ’’قُرَّۃُ الْعَیْنِ بِالْمَسَرَّۃِبِوَفَاءَ الدَّیْنِ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ’’ یہ حدیث حسن ہے۔‘‘
یہ حدیثِ پاک باطنی فیصلہ کے باب سے ہے ۔اس قسم کے معاملات میں ظاہری طورپر شریعت کا حکم یہ ہے کہ ایسی صورت میں گواہی کاقیام اور قَسم کاپایاجانا واجب ہوتاہے کیونکہ یہ میّت کے خلاف دعویٰ ہے خصوصاًجب ورثاء نابالغ ہوں لیکن باطن اور حقیقت پر مطلع ہونے کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قرض کی ادائیگی کا فیصلہ صادرفرمایا۔
امام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ(676-631ھ)’’اَلْاَذْکَار ([1]) ‘‘میں فرماتے ہیں :’’وہ انسان جو کسی گناہ سے متصف ہومثلاًیہودی،نصرانی، ظالم ، زانی،مصوِّر،چوریا سودخور ہوتواسے معین کرکے لعنت کرناظاہرِحدیث کے مطابق حرام نہیں ۔‘‘(الاذکار للنووی،باب النہی عن اللعن،فصل فی جواز اللعن…الخ،تحت الحدیث:۷ ۰ ۰ ۱،ص۲۸۲)
جبکہ امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی ([2])(505-450ھ)نے لعنت کے حرام ہونے کی طرف اشارہ فرمایاہے البتہ !اس پر لعنت کرناجائزہے جس کی موت کفرپرہونا ثابت ہوجیسے ابولہب ، ابوجہل،فرعون،ہامان،قارون اوران کی مثل دیگرلوگ۔(المرجع السابق )
امام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس کی وجہ بیان فرماتے ہیں :’’لعنت کا معنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے دور کرناہے اورہم نہیں جانتے کہ اس فاسق یاکافرکا خاتمہ کیسا ہوگا ۔ اور وہ لوگ جن پر سرکارِدوعالم، نورِ مجسَّم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے لعنت فرمائی یہ اس لئے تھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کاکفرپر مرنامعلوم تھا۔‘‘(المرجع السابق)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
دھوکے بازعورت کا ہاتھ کٹوا دیا
امام عبدالرزاق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ(211-126ھ)’’اَلْمُصَنَّف‘‘میں فرماتے ہیں :’’ابن جریج ([3])، عکرمہ بن خالد سے اور وہ حضرت ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث
[1]۔۔۔ حلیۃالابرار وشعار الاخیار فی تلخیص الدعوات والاذکار فی الحدیث ،للامام محی الدین ابی ذکریا یحییٰ بن شرف الدین بن مری النووی، الشافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیْیہ اذکار نووی کے نام مشہور ہے ،اس کی ایک جلدہے جو ۳۵۵ ابواب پر مشتمل ہے۔ )کشف الظنون،ج۱،ص۶۸۸)
[2]۔۔۔ الصوفی ، الاصولی ، الحکیم ،زین الدین، حجۃ الاسلام ،ابوحامد محمد بن محمد بن محمدبن احمد الطوسی، الشافعی ، المعروف بالغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی آپ خراساں کے قصبہ طوس کے علاقہ طابران میں پیدا ہوئے طابران میں ہی وصال ہوا ، آپ کی چند مشہور کتب یہ ہیں ، احیاء علوم الدین ، منہاج العابدین ، ایھا الولد ، ، میزان العمل وغیرہ۔(معجم المؤلفین،ج۳،ص۶۷۱، الاعلام للزرکلی،ج۷،ص۲۲)
[3]۔۔۔ الحافظ ، المحدث ، المفسر، الفقیہہ ، ابو الولید عبدالملک بن عبد العزیز بن جریج الاموی ، المکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوی آپ علیہ الرحمہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ، آپ کے آثار میں سے ،السنن ،مناسک حج ، تفسیر قرآن وغیرہ ہیں ۔(معجم المؤلفین،ج۲،ص۳۱۸،الاعلام للزرکلی،ج۴،ص۱۶۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع