30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حاصل کی ہے ، ہاں! فتاویٰ رضویہ ہم نہیں چھاپ سکے یہ چَھپا ہوا مل جاتا ہے ۔
جو رقم گِن کر نہ رکھی جائے کیا اسے شیطان لے جاتاہے ؟
سُوال : کہتے ہیں ”پیسے گِن کر رکھے جائیں ورنہ شیطان اٹھا کر لے جاتا ہے “ کیا یہ بات صحیح ہے ؟
جواب : پیسے ضرور گننے چاہئیں تاکہ زکوٰۃ وغیرہ کے حساب میں آسانی رہے ۔ رہی بات شیطان سے بچانے کے لیے گننا تو یہ کسی نے ایسے ہی مشہور کردیا ہے ۔
جس نے جُمُعہ کا خطبہ نہیں سنا کیا اس کی نمازِ جُمُعہ ہوجاتی ہے ؟
سُوال : جو لوگ جُمُعہ کی نماز کے لیے دیر سے آتے ہیں اور خطبہ نہیں سنتے کیا ان کی جُمُعہ کی نماز ہوجاتی ہے یا ان کو ظہر کی نماز پڑھنا پڑھے گی؟
جواب : جب جُمُعہ کا خطبہ شروع ہوتا ہے تو چند لوگ موجود ہوتے ہیں جو خطبہ سن لیتے ہیں ۔ اگر کوئی تاخیر سے آتا ہے اور اس کو جماعت مل جاتی ہے بلکہ قَعْدَۂ اَخیرہ بھی مل جاتا ہے تو یہ جُمُعہ پڑھنے والا ہی کہلائے گا کیونکہ جمعہ کے لیے جماعت شرط تھی لیکن اس کو اتنی تاخیر نہیں کرنی چاہیے ۔
سُوال : اگر دورانِ نماز خود بخود رونا آجائے اور آنسو نکل آئیں تو کیا یہ جائز ہے ؟
جواب : اگرخوفِ خدا اور خُشُوع و خُضُوع کی وجہ سے رورہا ہے تو بہت سعادت کی بات ہے اس طرح نماز میں بہتری تو آئے گی مگر کوئی خرابی نہیں آئے گی ۔
کیا خوش اِلحانی کی وجہ سے بہنے والے آنسو بھی باعثِ فضیلت ہیں؟
سُوال : بعض اوقات امام صاحب کی قراءت اور آواز بہت پیاری ہوتی ہے جو دل پر اثر کرتی ہے جیسے نعت خواں کی آواز سے دل پر اثر ہوتا ہے ، ظاہر ہے تلاوت کی اپنی ایک کیفیت ہے مگر آواز کی وجہ سے دل پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے پھر رونا آجاتا ہے تو کیا یہ رونا بھی اسی رونے میں شمار ہوگا جس کی فضیلت بیان کی گئی ہے ؟ (نگرانِ شوریٰ کا سوال)
جواب : اگر امام کی آواز کے خوب صورت ہونے کی وجہ سے رویا تب بھی حرج نہیں ۔ ہاں! اگر اس رونے کی وجہ سے لفظ بن گیا اور حروف ادا ہوگئے تو نماز ٹوٹ جائے گی ۔ اگر خُشُوع و خُضُوع کی وجہ سے رویا جس کی وجہ سے آواز پیدا ہوئی تب بھی حرج نہیں ۔ ([1]) اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اس قدر روتے تھے کہ پچھلی صف میں رونے کی آواز آتی تھی ۔ ([2])
شادی کے موقع پر لُٹائے جانے والے پیسے لوٹنے کا حکم
سُوال : شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں جو پیسے لُٹائے جاتے ہیں کیا یہ پیسے ہر بندہ لُوٹ سکتا ہے ؟
جواب : ظاہر ہے جب لُٹائے جارہے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ جو چاہے لُوٹ لے لیکن یہ ہے بڑا خطرناک معاملہ کیونکہ بعض اوقات لُوٹنے والوں میں سے کئی لوگ زخمی ہوجاتے ہیں پھر کسی نے کوئی رقم پکڑلی تو وہ اس کا مالک ہوجائے گااب اس کے ہاتھ سے لیں گے یا اس سے لوٹیں گے تو یہ غصب اور ڈکیتی کی طرح ہوگا لہٰذا یہ رقم اس کو واپس کرنے کے ساتھ ساتھ توبہ بھی کرنا لازم ہوگی ۔ بہرحال ایسے موقع پر دو چار سکے لوٹنے کے لیے مجمع میں نہ گھسا جائے ۔ پھر اس طرح رقم لُٹانا اگرچہ ناجائز نہیں ہے مگر ایسا کرنا نہیں چاہیے کیونکہ اس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے اور مارا ماری تک نوبت جا پہنچتی ہے ۔
کیا مسجد کے اوپر گھر بناسکتے ہیں؟
سُوال : کیا مسجد کے اوپر گھر بناسکتے ہیں؟ (سوشل میڈیا کا سوال)
جواب : اگر مسجد بن چکی ہے تو یہ تحت السریٰ سے لیکر عرش عُلیٰ تک مسجد ہوگئی یعنی ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اور ان کے درمیان کی ساری فضا مسجد ہے ۔ ([3]) اب اس کے اوپر مکان نہیں بناسکتے ۔ ([4])
چھوٹے پلاٹ والی مسجد کے اوپر گھر بنانے کا حکم
سُوال : بعض اوقات مسجد کا پلاٹ چھوٹا ہوتا ہے تو دو تین منزل کی مسجد بنادیتے ہیں اور اوپر والی منزل پر امام صاحب کی رہائش بنادی جاتی ہے تو یہ دیکھ کر خیال آتا ہے کہ مسجد پر گھر بنا ہوا ہے ، اس کی وضاحت فرمادیجیے ۔ ( رکن شُوریٰ کا سوال)
جواب : اگر مسجد کمپلیٹ ہونے سے پہلے ( نیتِ مسجد کرنے سے پہلے ) گھر بنایا تو درست ہے ورنہ نہیں بناسکتے ۔ جب کبھی اس طرح کا کوئی کام کرنا ہو بلکہ مسجد میں کیل بھی ٹھوکنی ہو تو علمائے کرام اور مفتی صاحبان سے راہ نمائی ضرور لے لی جائے کیونکہ وقف کے مسائل دیگر مسائل کے مقابلے میں بہت سخت ہیں ۔
”اللہ میاں بارش دو، سو برس کی نانی دو“ کہنا کیسا؟
[1] امام کا پڑھنا پسند آیا اس پر رونے لگا اور ارے ، نعم، ہاں، زبان سے نکلا کوئی حرج نہیں کہ یہ خشوع کے باعث ہے اور اگر خوش گلوئی کے سبب کہا، تو نماز جاتی رہی ۔ (بہار شریعت، ۱/۶۰۸، حصہ : ۳)
[2] موسوعة ابن ابی دنیا، کتاب الرقة و البکاء، ۳/۲۵۳، حدیث : ۴۱۶المکتبة العصریة بیروت-حلیة الاولیاء، عمر بن خطاب، ۱/۸۸، رقم : ۱۳۴ دار الکتب العلمیة بیروت
[3] فتاوی رضویہ، ۸/۸۵
[4] فتاوی رضویہ، ۸/۵۰۴ماخوذاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع