دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Machli Ko Zibah Kyun Nahi Kia Jata | مچلھی کوذبح کیوں نہیں کیا جاتا؟

book_icon
مچلھی کوذبح کیوں نہیں کیا جاتا؟

سُوال : کوئی شخص گناہوں میں مبتلا ہو تو کیا اس کا ذہن بنانے کے لیے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ”آہستہ آہستہ گناہ چھوڑ دینا“؟

جواب : یہ خطرناک جملہ ہے لہذا ایسا  نہ کہا جائے کیونکہ اس میں گناہ کرنے کی اجازت پائی جارہی ہے یعنی گناہ کرتے رہوآہستہ آہستہ چھوڑنا مثلاً ابھی داڑھی نہ رکھو بعد میں رکھ لینا ۔

مظلوم سے معافی مانگنے کی کوئی صورت نہ ہوتو کیا کریں؟

سُوال : اگر کسی نے مدنی ماحول میں آنے سے پہلے کسی بے قصور کو مارا پیٹا اب اس شخص کا معلوم نہیں ہے کہ وہ شخص کہاں ہے ؟ زندہ ہے یا دنیا سے رخصت ہوچکا ہے ؟ یہ اس سے معافی کس طرح مانگے تاکہ بروز قیامت اس کی پکڑ نہ ہو؟

جواب : بندے کی حق تلفی کرنا بہت سخت بات ہے ۔ ایسی صورت میں اللہ پاک سے توبہ کرے اور اس شخص کے لیے دعائے مغفرت کرتا رہے اور اللہ پاک سے امید رکھے کہ وہ اس بندے سے اس کی صلح کروا دے گا  یعنی صرف مَغْفِرَت کی دعا کرنے سے معافی نہیں ہوگی بلکہ قیامت کے دن اللہ پاک نے چاہا تو صلح کروادے گا ۔ ([1])

کیا ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیانی بال داڑھی کا حصہ ہیں؟

سُوال : ٹھوڑی کے اوپر اورہونٹ کے نیچے جو بال ہوتے ہیں وہ کٹوانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب : ہونٹ کے نیچے کے بال داڑھی میں شامل ہیں لہٰذا ان کو کٹوانا منع ہے  ۔ ([2]) آج کل یہ بال کٹوانے کا رواج بن گیا ہے ، ٹھوڑی کے نیچے سفیدی چمک رہی ہوتی ہے حالانکہ ایسا کرنا منع ہے بلکہ بہارِ شریعت میں اس کو بدعت لکھا ہے  ۔ ([3]) بدعت دو طرح کی ہوتی ہے : ایک بدعتِ اِعْتِقادی اور دوسری بدعتِ عملی ۔ ([4]) بدعتِ اِعْتِقادی زیادہ خطرناک ہوتی ہے مگر یہ بال کاٹنا بدعتِ عملی ہے اور یہ بھی جائز نہیں ۔  اگر کسی کے قدرتی  یہ بال نہ ہوں تو الگ بات ہے لیکن کسی کے یہ بال تھے اور صاف کروائے تو اسے توبہ کرنا ہوگی البتہ دوچار بال جن کے منہ میں آنے کی وجہ سے پریشانی ہوتی ہو تو انہیں کٹوا سکتے ہیں  ۔ ([5]) اَلْحَمْدُلِلّٰہ  میں ٹھوڑی کے نیچے کے بالوں کو نہیں کاٹتا ۔

تصنیف اور تالیف میں کیافرق ہے ؟

سُوال : تصنیف اور تالیف میں کیافرق ہے ؟ (SMS کے ذریعے سوال)

جواب : تصنیف وہ ہوتی ہے جسے رائٹر یعنی مصنف خود اپنے قلم سے لکھے ، تالیف اسے کہا جاتا ہے جو دیگر کتابوں سے مواد نکال کر ایک جگہ جمع کردیا گیا ہو ۔  عام طور پر لکھی جانے والی کتب تالیف ہوتی ہیں تصنیف کم ہی ہوتی ہیں ۔  پھر اسلامی کتابوں میں تو ضرورت ہوتی ہے کہ دوسری کتابوں سے مواد لیا جائے ۔ صاحبِ بہارِ شریعت مفتی امجد علی اعظمی  رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  کو علمائے کِرام نے ”مصنفِ بہارِ شریعت “لکھا ہے حالانکہ انہوں نے بہارِ شریعت میں کوئی بھی مسئلہ اپنی طرف سے نہیں لکھا بلکہ فقہ کی کتابوں سے جزئیات و مسائل کا اردو میں ترجمہ کیا ہے البتہ بعض مقامات پر اپنی فقاہت اور علمی صلاحیت کی بنا پر وضاحتیں کی ہیں شاید اس وجہ سے ان کو مصنف کہا جاتا ہے ۔ بعض اوقات تصنیف وتالیف کا لفظ بلاتفریق مطلقاً بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ بہرحال یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے  ۔

ایمان شکن تصنیفات وتالیفات سے بچیے

      آج کل جو تالیفات یا تصنیفات کی جارہی ہیں یہ بعض اوقات ایمان لیوا ہوتی ہیں ۔  جان لیوا ہوتیں تو کم نقصان تھا  ایمان لیوا ہونا زیادہ خطرناک ہے کیونکہ جو بھی دنیا میں آیا ہے اس کو ایک نہ ایک دن جان لیوا کیفیت درپیش ہوگی آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں اس کو مرنا ہی پڑے گا، مگر ایمان کی موت نہیں ہونی چاہیے اس کو ہمیشہ زندہ رکھنا ضروری ہے لہٰذا ایسی بے تکی کتابیں پڑھنے سے بچنا ضروری ہے ۔ صرف اور صرف مستند علمائے کرام  کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی کتب پڑھی جائیں، مستند کا مطلب ہے سند یافتہ  اور وہ ایسی  سند والے  نہ ہو جو گھر بیٹھے حاصل کی جاتی ہے ۔ یعنی علم کا عالم ہو اور خوفِ خدا رکھتا ہو ساتھ ساتھ اس کا علم ایسا ہو جو قابلِ اعتبار ہو ۔  عموماً  عوام ان چیزوں کی جانچ نہیں کرپاتے ، کس کو کتنا علم ہے اس کا اندازہ صرف علمائے کرام ہی کرسکتے ہیں ۔

پڑھنے کے لیے کِن کُتُب کا اِنتخاب کریں؟

            کوئی بھی کتاب پڑھنے کے لیے کسی اچھے عالمِ دین سے مشورہ کرلیا جائے کہ میں کونسی کتاب پڑھوں ۔  مَکْتَبۃُ الْمدینہ سے شائع ہونے والی کُتُب قدیم علمائے کرام کی تحریر کردہ ہوتی ہیں یا پھر دعوتِ اسلامی کے علمی و تحقیقی شعبے اَلْمَدِینَۃُ الْعِلْمِیَۃ کی کتابیں ہوتی ہیں ان کا مطالعہ کیا جائے ، بہارِ شریعت کا مطالعہ کیا جائے ، فتاویٰ رضویہ کا مطالعہ کیا جائے اس کے علاوہ اعلیٰ حضرت ، امام اہل سنت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی دیگر کُتُب کا بھی  مطالعہ کیا جائے اور ان پر آنکھیں بند کرلی جائیں بلکہ دماغ کی آنکھیں بھی بند کرلی جائیں اور سر کی آنکھیں بھی بند کرلی جائیں ۔  اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی کسی بات پر کچھ سوچنا نہیں ہے بلکہ صرف ماننے والا بننا ہے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ! مَکْتَبۃُ الْمدینہ نے بہارِ شریعت تخریج کے ساتھ شائع کرنے کی سعادت



[1]   اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ حُقوقُ العباد کی معافی کی صورت بیان فرماتے ہیں کہ جس کامال دبایاہے فرض ہے کہ اُتنا مال اسے دے ، وہ نہ رہا ہواس کے وارث کو دے ، وہ نہ ہوں فقیرکودے ، بے اس کے سبکدوش نہیں ہوسکتا، اور جسے علاوہ مال کچھ ایذادی ہو یابراکہاہو اس سے معافی مانگے یہاں تک کہ وہ معاف کردے ، جس طرح ممکن ہومعافی لے ، وہ نہ رہا ہواور تھامسلمان تو اس کے لئے صدقہ وتلاوت ونوافل کاثواب پہنچاتا رہے ، اورکافر تھا تو کوئی علاج نہیں سوا اس کے کہ اپنے رب کی طرف رجوع اورتوبہ واستغفار کرتا رہے وہ مالک وقادرہے  ۔ (فتاویٰ رضویہ، ۲۴/۳۷۹)

[2]   فتاویٰ رضویہ، ۲۲/۵۹۸-۵۹۹ ملخصاً

[3]   بَچِّی کے اغل بغل کے بال مونڈانا بدعت ہے ۔ (بہارِ شریعت، ۳/۵۸۵، حصہ : ۱۶)

[4]   جاء الحق، ص۱۷۷ قادری پبلشرز مرکز الاولیا لاہور

[5]   جیساکہ اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  اگر یہاں بال اس قدر طویل واَنْبوہ (لمبے اور کثیر) ہوں کہ کھانا کھانے ، پانی پینے ، کلی کرنے میں مزاحمت کریں تو ان کا قینچی سے بقدرِ حاجت کم کردینا روا  (جائز ) ہے  ۔ (فتاویٰ رضویہ، ۲۲/۵۹۹)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن