30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال : گرمى سے حفاظت کے کچھ مدنی پھول اِرشاد فرما دیجیے ۔
جواب : مکتبۃ المدینہ کا اىک رسالہ ہے ”گرمى سے حفاظت کے مدنى پھول “اس مىں گرمى سے بچنے کے لىے رنگ برنگے 25 مدنى پھول دیے گئے ہیں جن مىں سے چند پىش خدمت ہیں ۔ (۱) ... جتنا ہو سکے اپنى بھنویں (ىعنى ابرو Eyebrow) پانى سے تر رکھىے ۔ (اِنْ شَآءَ اللّٰہ اس سے لو ، گرمى ، پىاس کى شدت ، ٹىنشن ، ڈپرىشن اور سَر درد سے حفاظت ہو گى ۔ ) (۲) ...چولھے وغىرہ کا استعمال کم کر دىجئے ۔ (۳) ... سفىد ىا ہلکے رنگ کا سوتى (Cotton کا) ڈھىلا لباس پہنئے ۔ ( زہے نصىب !اسلامى بھائى سنتوں بھرا سفىد لباس زىبِ تن فرمائىں ۔ ) جو لباس سنتوں بھرا ہو گا وہ ڈھىلا ہو گا ورنہ ٹائٹ ، ٹیڈی اور فىنسى لباس بھى ہمارے ىہاں پہنے جاتے ہىں ۔ (۴) ...ہر وقت چھوٹا سا تولىہ ساتھ رکھىے تاکہ گرمى محسوس ہونے پر ٹھنڈے پانى مىں گىلا کر کے سر پر رکھا جا سکے ۔ (۵) ...مشقت والے کام یعنی محنت کے کام سے بچنا بہتر ہے کہ بىمارى مجبورى کا لحاظ نہىں کرتى ۔ اىسے موقع پر جب سخت گرمىاں ہوں دن مىں دو مرتبہ غسل کرنا مفىد تر ہے ۔ (۶) ...دھوپ مىں نکلتے وقت سن گلاسز کا استعمال آنکھوں کو گرمى سے متأثر ہونے سے بچاتا ہے ۔ (۷) ...گھر سے باہر نکلنے کى صورت مىں پىاز کا ٹکڑا ہاتھ ىا جىب مىں رکھیے ، بچوں کے گلے مىں ڈال دىجئے اِنْ شَآءَ اللّٰہ لو ىعنى سن اسٹروك سے حفاظت ہو گى ۔ (۸) ...براہِ راست ىعنى ڈائرىکٹ دھوپ نہ پڑے اس کا خىال رکھىے ۔ خصوصاً دن کے گرم ترىن اوقات 11سے 3 بجے تک سائے مىں وقت گزارئىے اور ڈائرىکٹ دھوپ مىں نہ آئىے ۔ نماز ظہر کے لىے دھوپ مىں نکلنے والے اسلامى بھائى سر اور گردن ڈھانپ کر اور ہوسکے تو چھترى کے ساتھ نکلىں ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عمامہ شرىف کى سنت ادا کرنے والوں کا سر ڈھک جاتا ہے اور گردن بھى چھپ سکتى ہے ، سر پر سفىد چادر ہو تو فوائد مزىد بڑھ سکتے ہىں ۔ (۹) ...لوڈ شىڈنگ کے دوران سر پر گىلا تولىہ رکھىے ، ہاتھ کا پنکھا استعمال کىجئے اور بدن پر پانى ڈالتے رہىے ۔ (۱۰) ...پىاس لگے ىا نہ لگے روزانہ کم از کم 12 بلکہ ہوسکے تو 14 گلاس پانى پی لیجیے ۔ اس حوالے سے مختلف تعداد بتائی جاتی ہے کچھ لوگ آٹھ گلاس بھى بتاتے ہىں تو جىسا جس کا کام ہے وہ اس حساب سے پئے مثلاً جس کو پسىنا زىادہ آتا ہے تو اسے پانی آٹھ گلاس سے بڑھانا چاہىے ۔ اس مقدار مىں غذاؤں کے اندر موجود پانى بھى شامل ہے مثلاً پھلوں اور سبزىوں کے ذرىعے ىا سالن ہے تو اس کے شوربے میں بھى پانى ہوتا ہے تو یوں تھوڑا تھوڑا مل کر 8 یا 12 گلاس پانی کے ہو جائىں ۔ ”گرمی سے حفاظت کے مدنی پھول“نامی رسالے میں اس طرح کے اور بھى بہت سارے مدنى پھول ہىں ۔ 18صفحات پر مشتمل یہ مختصر رِسالہ مَکْتَبَۃُ الْمدینہ سے حاصل کرکے مطالعہ کیجئے ۔ نیز یہ رسالہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے وہاں سے بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں ۔
ىاالٰہی! گرمىِ محشر سے جب بھڑکیں بدن
دامنِ محبوب کی ٹھنڈی ہوا کا ساتھ ہو (حدائقِ بخشش)
گرمی میں کون سی دُعا پڑھنی چاہیے ؟
سُوال : گرمی میں کون سی دُعا پڑھنی چاہیے ؟ ([1])
جواب : حدىث ِپاک مىں ہے کہ ”جب سخت گرمى ہوتی ہے تو بندہ کہتا ہے : لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ آج تو بڑى گرمى ہے !”اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنْ حَرِّ جَھَنَّمَ یعنی اے اللہ!مجھے جہنم کى گرمى سے پناہ دے ۔ “تو اللہ پاک جہنم سے فرماتا ہے کہ مىرا بندہ تىرى گرمى سے پناہ مانگتا ہے ، تو گواہ رہنا مىں نے اس کو تىرى گرمى سے پناہ دى ۔ “([2]) اگر کسی کو عربى دُعا ىاد نہىں ہے تو کوئى بات نہىں اُردو مىں بھی کہہ سکتے ہیں مثلاً ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ، یَااللہ!آج بڑی گرمی ہے مجھے جہنم کی گرمی سے بچا لے ۔ “بلکہ یہ الفاظ اپنی مادری زبان میں بھی کہہ سکتے ہیں ۔
دنیاوی علوم کا شوق اور دینی علوم کا ذوق کتنا؟
سُوال : موجودہ دور میں لوگوں میں دینی یا دنیوی علوم کا شوق آپ نے کتنا پایا؟ ([3])
جواب : دورانِ مدنی مذاکرہ مسجد میں A.C چل رہا ہوتا ہے اور یوں علمِ دین سیکھنے کے لیے سہولت دی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بہت تھوڑے لوگ آتے ہیں اور اگر اس کی جگہ کوچنگ سینٹر ، ٹیوٹر یا دنیاوی تعلیم کا کوئی ادارہ ہوتا اور وہاں کسی نامی گرامی پروفیسر نے لیکچر دینا ہوتا تو بہت سے لوگ جمع ہو جاتے بلکہ لوگ پیسے دے کر ایسوں کے لیکچر سنتے ہیں ۔ اىسے اىسے لیکچرار بھی ہىں جن کے لیکچروں کا انعقاد ہوٹلوں میں ہوتا ہے اور سینکڑوں نہیں ہزاروں روپے کا ایک آدمی کا ٹکٹ ہوتا ہے لیکن پھر بھی لوگ پیسے دے کر ان کا لیکچر سُنتے ہیں جبکہ علمِ دین مفت اور سہولتوں کے ساتھ سکھایا جاتا ہے بلکہ بعض جگہ پر تو کھانا بھی کھلایا جاتا ہے مگر افسوس پھر بھی ہمارا اس طرف رجحان کم ہے ۔ تىن دن کے مدنى قافلے میں سفر کے لىے بہت منتىں کرنا پڑتى ہىں اور ہاتھ پاؤں جوڑنے پڑتے ہىں اوراگر تىن دن کى پکنک کا معاملہ ہوتو اپنے پلے سے پىسے دے کر جاتے ہیں ۔ گرمیوں میں کتنے ہی افراد اپنے خرچے پر درىاؤں، نہروں اور سمندر کی طرف پکنک کے لیے جاتے ہیں اور بعض بے چارے ڈوب کر موت کا شکار بھی ہو جاتے ہیں ۔ پکنک کے لیے ایسا تصور نہىں ہوتا کہ ہمیں کو ئی مفت مىں لے جائے جبکہ اللہ پاک کا دىن سىکھنے کے لىے ہمیں مفت میں کھانا پینا اور رہائش چاہىے ہوتی ہے اور پھر اس کے باوجود ہمارے ہزار نخرے ہوتے ہیں ۔ اللہ پاک ہمىں اپنے دىن کا علم حاصل کرنے کا شوق اور جذبہ عطا فرمائے ۔
[1]……یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہل سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[2] البدور السافرة، باب وقود جهنم و شدة حرھا...الخ، ص۴۱۸، حدیث۱۳۹۵ مؤسسة الکتب الثقافیة بیروت
[3]……یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہل سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع