30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) …شریعت کے مطابق میراث تقسیم نہ کرنا اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی اور ا س کی حدوں کو توڑناہے اور ایسے شخص کے لئے قرآنِ مجید میں جہنم کے عذاب کی وعید بیان کی گئی ہے۔
(2) …وارث کے مال پر قبضہ جمانے والے سے قیامت کے انتہائی خوفناک دن میں ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا اورہر حق دار کو اس کا حق ضرور دلایا جائے گا۔
(3) …اسلامی اصولوں کے مطابق میراث تقسیم نہ کرنا اور وارثوں کو ان کے حق سے محروم کرنا اسلامی طریقے سے ہٹنا اورکفار کے طریقے پر چلناہے جو ہر گز مسلمان کے شایانِ شان نہیں ۔
(4) …میراث کے حق داروں کا مال کھا نے والا، ظالم اور کئی صورتوں میں غاصب ہے اور ایسا شخص ظلم و غصب کی بنا پرجہنم کا مستحق ہے۔
(5) …دوسرے کی میراث پر قبضے کا مال ’’ مالِ حرام ‘‘ ہے، اور حرام مال سے کیا گیا صدقہ مردود ہے اور ایسے شخص کی دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔
(6) …دوسروں کی میراث کا مال کھانے سے کمزور لوگوں کی بد دعائیں ملتی ہیں اور مظلوم کی بد دعا بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہے۔
(7) …میراث کا مال نہ دینے سے دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں اورایسا شخص لوگوں کی نظر میں ذلت و رسوائی کا شکار ہوتا ہے۔
مالِ وراثت کے تعلق سے ہونے والے 5 بڑے گناہ
مالِ وراثت کے حوالے سے لوگوں میں پائے جانے والے بڑے بڑے گناہ یہ ہیں ۔ اے کاش کہ ہمارا ذہن ایسا ہوجائے کہ ان گناہوں کوجانتے اور ان کی وعیدیں پڑھتے ساتھ ہی ہمارا توبہ و اِجتناب کا ذہن بنتا جائے اور ہم بھی ان لوگوں کے گروہ میں شامل ہوجائیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ (۱۸) ([1] )
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو کان لگا کر بات سنتے ہیں پھر اس کی بہتربات کی پیروی کرتے ہیں ۔ یہ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقلمند ہیں ۔
پہلا گناہ، وصیت کے ذریعے وارثوں کو محروم کرنا:
مرنے والے کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ اپنے مال سے متعلق وصیت کر جائے اور اسلامی حکم کے مطابق اپنے مال کے ایک تہائی حصے تک وصیت کی اجازت ہے، مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں میراث سے محروم کرنے کی یہ صورت بھی عام ہے کہ دُنْیَوی رنجشوں اور ناراضیوں کی بنا پر بہت سے لوگ یہ وصیت کر کے مرتے ہیں کہ میرے مال میں سے فلاں کو ایک پائی تک نہ دی جائے، حالانکہ شرعی طورپر وہ اس کے مال کا حق دار ہوتا ہے، ایسے افراد کے لئے درج ذیل دو اَحادیث میں بڑی عبرت ہے:
پہلی وعید، وصیت کے ذریعے وارث کو نقصان پہنچانے والا نارِ جہنم کا مستحق ہے:
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ مردو عورت ساٹھ سال (یعنی بہت لمبے عرصے) تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے رہیں ، پھر ان کی موت کا وقت قریب آجائے اوروہ وصیّت میں (کسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع