30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت عبدالرحمن بن مہدی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ جب میرے چچا کا انتقال ہوا تو میرے والد بے ہوش ہوگئے، ہوش آنے پر فرمایا کہ چٹائی کو ورثاء کے ترکہ میں داخل کردو (اور اسے اب استعمال نہ کرو کیونکہ اس میں ورثاء کا حق شامل ہوگیا ہے۔)
مالِ وراثت کی چٹائی استعمال کرنے والے کو تنبیہ:
حضرت ابنِ ابی خالد رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں حضرت ابو العباس خطاب رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ساتھ تھا، آپ ایک ایسے شخص کی تعزیت کیلئے حاضرہوئے کہ جس کی بیوی کا انتقال ہوگیا تھا،آپ نے گھر میں ایک چٹائی بچھی ہوئی دیکھی تو گھر کے دروازے پر ہی کھڑے ہوگئے اور اس شخص سے فرمایا : کیا تیرے علاوہ بھی کوئی وارث ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: تیرا اُس چیز پر بیٹھنا کیسا ہے جس کا تو مالک نہیں ۔تو وہ شخص (اس تنبیہ کے بعد) اُس چٹائی سے اُٹھ گیا۔ ([1] )
میں نے اپنی اولاد کو دوسروں کا حق نہیں دیا:
یہ تو کسی کے انتقال کے بعد ا س کے مال سے متعلق بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا حال تھا جبکہ اپنے مال اور اس کے ہونے والے ورثاء کے حوالے سے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کس قدر محتاط تھے، اس کی جھلک بھی ملاحظہ ہو۔
چنانچہ مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے وصال کے وقت مسلمہ بن عبدالملک ان کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: اے امیرالمؤمنین! آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ سے پہلے کسی نے نہیں کیا،وہ یہ کہ آپ نے اولاد تو چھوڑی ہے لیکن ان کے لئے مال نہیں چھوڑا (کیونکہ آپ عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کے پاس مال تھاہی نہیں بلکہ وہ تنگدستی کی زندگی گزار رہے تھے) ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: مجھے بٹھادو۔چنانچہ آپ کو بٹھادیا گیا،پھرآپ نے فرمایا: تم نے جو یہ کہا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے مال نہیں چھوڑا،اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں نے ان کا حق ماردیا ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ میں نے انہیں دوسروں کا حق نہیں دیا اور میری اولاد کی دو میں سے کوئی ایک حالت ہو گی:
(1) …وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں گے۔اس صورت میں اللہ تعالیٰ انہیں کافی ہو گا کیونکہ وہ نیکوں کا والی ہے۔
(2) …وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کریں گے۔اس صورت میں مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا (کیونکہ وہ اپنے اعمال کے خود جواب دہ ہیں ۔)
اپنے مال سے متعلق ایک شرعی حکم:
مذکورہ بالا حکایات کو سامنے رکھتے ہوئے ہر شخص اپنے حال پر غور کر سکتا ہے کہ اسے مالِ وراثت سے متعلق کس قدر احتیاط کرنے کی ضرورت ہے، یہاں اس حکایت کی مناسبت سے ایک شرعی حکم یاد رکھیں کہ اپنا تمام مال راہِ خدا میں خرچ کردینا اور اپنے ورثاء کو محتاج چھوڑنا درست نہیں ، لہٰذا اگر اپنے مال کونیک کاموں میں خرچ کرنے کی وصیت کرنی بھی ہو تو ایک تہائی سے کم اور زیادہ سے زیادہ ایک تہائی تک وصیت کرنے کی اجازت ہے اوربقیہ دو تہائی مال ورثاء کیلئے چھوڑا جائے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’ اِنَّکَ اِنْ تَرَکْتَ وَلَدَکَ اَغْنِیَائَ خَیْرٌ مِّنْ اَنْ
[1] اتحاف السادۃ المتقین، کتاب الحلال والحرام، الباب الاول، امثلۃ الدرجات الاربع فی الورع وشواہدہا، ۶ / ۴۸۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع