30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرے تو اللہ اسے جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی (تمام) حدوں سے گزر جائے تواللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں (وہ) ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے رُسوا کُن عذاب ہے۔
وراثت میں ہر وارث کو اس کا حق دینا کتنا ضروری ہے اس کا اندازہ اِس رکوع میں بیان کردہ چیزوں سے لگائیں :
(1) …شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں وراثت تقسیم کرنے کا حکم دیتا ہے۔
(2) …رکوع کے آخر میں فرمایاکہ وراثت کے احکام اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جنہیں توڑنے کی اجازت نہیں ۔
(3) …جو وراثت کو کَماحَقُّہٗ تقسیم کرکے اطاعت ِالٰہی کرے گا اور حدودِ الٰہی کی پاسداری کرے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جنت کے باغوں میں داخل ہوگا۔
(4) …جو وراثت میں دوسرے کا حق مارے گا اور حدودِ الٰہی کو توڑے گا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نافرمان ہے۔
(5) …ایسا شخص جہنم کی بھڑکتی آگ میں داخل ہوگا۔
(6) …اور جو شخص وراثت کے ان احکام کو مانتا ہی نہیں اور اس وجہ سے عمل بھی نہیں کرتا وہ تو ہمیشہ کیلئے جہنم میں جائے گا اور اس کیلئے رسوا کن عذاب ہے۔
میراث سے متعلق بزرگانِ دین کی احتیاطیں :
اے کاش کہ مذکورہ بالا وعیدوں کو پڑھ کر ہر مسلمان اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دئیے ہوئے احکامات کے مطابق ہی میراث کو تقسیم کرے اور ان کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی سخت گرفت اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کے رسوا کن عذاب میں مبتلا ہونے سے ڈرے۔ تقسیمِ میراث کی اسی اہمیت کے پیش ِنظر ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اس معاملے میں کس قدر احتیاط فرماتے تھے یہاں ا س کی کچھ جھلک ملاحظہ ہو۔
مروی ہے کہ ایک بزرگ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کسی قریبُ الْمرگ شخص کےپاس موجود تھے رات میں جس وقت وہ فوت ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ چراغ بجھا دو کہ اب اس کے تیل میں ورثاء کا حق شامل ہوگیا ہے۔ ([1])
مالِ وراثت کی چٹائی استعمال کرنے سے منع کر دیا:
[1] احیاء علوم الدین، کتاب الحلال والحرام، الباب الاول، امثلۃ الدرجات الاربع فی الورع وشواہدہا، ۲ / ۱۲۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع