30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔
تقسیمِ میراث اور فی زمانہ مسلمانوں کا حال:
خوف ِ خدا اور فکر ِآخرت رکھنے والے مسلمان کے لئے اوپر بیان کردہ احکامِ قرآنیہ ہی نصیحت کیلئے کافی ہیں لیکن نہایت افسوس ہے کہ مسلمانوں میں کثرت سے دیگر مالی معاملات کی طرح وراثت کی تقسیم کے حکمِ قرآنی میں بھی بڑی کوتاہیاں واقع ہو رہی ہیں ، گویا میراث کی تقسیم میں جو ظلم اور اِفراط و تفریط دین ِاسلام سے پہلے دنیا میں پایا جاتا تھا وہی آج مختلف صورتوں میں مسلمانوں کے اندر بھی پایا جارہا ہے، جیسے لاعلمی کی بنا پر عاق شدہ اولاد یا بیٹیوں کو وراثت نہیں دی جاتی، یونہی بہت جگہ ان بیوہ عورتوں کو شوہر کی وراثت سے محروم کردیا جاتا ہے جو دوسری شادی کر لیں ، جبکہ بہت سی جگہوں پر بطورِ ظلم یتیم بچوں کا مالِ وراثت چچا، تایا وغیرہ کے ظلم و ستم کا شکارہوجاتا ہے۔
اس سنگین صورتِ حال کے پیش ِنظر اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وراثت کے متعلق دئیے ہوئے احکامات پر عمل کی طرف راغب کرنے اور اِن احکام کی خلاف ورزی کرنے پر عذابِ الٰہی سے ڈرانے کے لئے یہ اہم رسالہ مرتب کیا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ اس مختصر رسالے کو مسلمانوں کے لئے نفع بخش بنائے اور اس کا مطالعہ کر کے انہیں اپنی اصلاح کی کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
میراث کی تقسیم چونکہ ایک اہم معاملہ ہے اور اس میں ظلم و ستم، حق تلفی، مالی بددیانتی اور آپس میں لڑائی فساد کا بہت اندیشہ ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ’’ میراث ‘‘ کے اکثر اَحکام قرآنِ پاک میں بڑی وضاحت سے بیان فرمائے ہیں اور اِن پر عمل کرنے کو متعدد انداز میں تاکید کے ساتھ بیان فرمایا جیسے شروع میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تمہیں حکم دیتاہے اور یہ حکم بیان کرکے میراث کی تقسیم کا طریقہ بیان فرمایا،
یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ-وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ-فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُۚ-فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ- ([1])
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے، بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے پھر اگر صرف لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کے لئے ترکے کا دو تہائی حصہ ہوگااور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا حصہ ہے اوراگر میت کی اولاد ہوتو میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے ترکے سے چھٹا حصہ ہوگا پھر اگرمیت کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کے لئے تہا ئی حصہ ہے پھر اگر اس (میت) کے کئی بہن بھا ئی ہو ں تو ماں کا چھٹا حصہ ہوگا، (یہ سب احکام) اس وصیت (کو پورا کرنے) کے بعد (ہوں گے) جو وہ (فوت ہونے والا) کر گیا اور قرض (کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع