30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے کچھ مال اسے دیدے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا (۸) ([1] )
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب تقسیم کرتے وقت رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آجائیں تو اس مال میں سے انہیں بھی کچھ دیدو اور ان سے اچھی بات کہو۔
اس حکم پر عمل کرنے میں مسلمانوں میں بہت سستی پائی جاتی ہے بلکہ اس حکم کا علم ہی نہیں ہوتا البتہ یہ یاد رہے کہ نابالغ اور غیر موجود وارث کے حصہ میں سے دینے کی اجازت نہیں۔
سوال: بہت سارے لوگ اپنی نافرمان اولاد کو اپنی جائیداد سے عاق کرنے کی وصیت کرتے ہیں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب: جو شخص کسی شرعی عذر کے بغیر اپنے ماں باپ کاجائزحکم نہ مانے یا مَعَاذَاللہ انہیں اِیذاء پہنچائے وہ در حقیقت عاق اور شدید وعیدوں کا مستحق ہے اگرچہ والدین اسے عاق نہ کریں بلکہ اپنی فرط ِمحبت سے دل میں ناراض بھی نہ ہوں جبکہ جو شخص والدین کی فرمانبرداری میں مصروف رہے لیکن والدین شرعی وجہ کے بغیر ناراض رہیں یا وہ کسی خلافِ شرع بات میں اپنے والدین کا کہا نہ مانے اور اس وجہ سے والدین ناخوش ہوں تو وہ شخص ہرگزعاق نہیں ۔ حکمِ شرعی یہ ہے کہ کوئی شخص عاق ہونے کی وجہ سے ماں باپ کے ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتا اگرچہ والد لاکھ بار اپنے فرمانبردار، خواہ نافرمان بیٹے کو کہے کہ میں نے تجھے عاق کیا یااپنے ترکہ سے محروم کردیا،نہ اس کایہ کہناکوئی نیا اثرپیداکرسکتاہے نہ وہ اس بنا پر کوئی ترکہ سے محروم ہوسکتا ہے۔البتہ اگر اولاد فاسق وفاجر ہے اور گمان یہ ہے کہ انتقال کے بعد وہ اس کے مال کو بدکاری وشراب نوشی وغیرہ بُرائیوں میں خرچ کر ڈالے گی تو اس صورت میں زندگی میں فرمانبردار اولاد کوسارامال دے کر اس پر قبضہ دلادینا یا اس جگہ کو کسی نیک کام کیلئے وقف کردینا جائز ہے کہ یہ حقیقت میں میراث سے محروم کرنا نہیں بلکہ اپنے مال اور اپنی کمائی کو حرام میں خرچ ہونے سے بچانا ہے۔
سوال: بیوی کی موت کے بعد جہیزکا حقدار کون ہوگا؟
جواب: عرفِ عام کے مطابق جہیز کی مالک عورت ہوتی ہے لہٰذا اس کے انتقال کے بعد جہیز کا سامان اس کے ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا جس میں شوہر بھی شامل ہوگا۔
سوال: زندگی میں اگر کسی وارث یا غیر وارث کے نام اپنی کوئی جائیداد کرادی لیکن اس پر قبضہ نہ دلایا اور انتقال ہوگیا تو اب اس جائیداد کا مالک کون؟
جواب: جائیداد کسی کے نام کرنا تحفہ ہے اور شریعت میں تحفہ کیلئے اس پر قبضہ ضروری ہے، لہٰذا بغیر قبضہ کئے تحفہ دینے کا عمل شرعی اعتبار سے مکمل نہیں ہوتا لہٰذا اگر کسی شخص نے اپنی زندگی میں اپنا کوئی مال یا جائیداد زبانی یا تحریری طور پر کسی کے نام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع