دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Maal e Virasat main Khiyanat na Kijiay | مال وراثت میں خیانت نہ کیجئے

book_icon
مال وراثت میں خیانت نہ کیجئے

سوال:                                           لے پالک بچہ اپنے پرورش کرنے والے کا وارث ہوتا ہے یا نہیں ؟

جواب: اسلامی اعتبار سے لے پالک بچہ اپنے حقیقی والدین کا وارث ہوگاجبکہ پرورش کرنے والے کا وارث نہیں  ہوگا۔ امام اہلسنّت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : متبنّٰی  (یعنی کسی کا منہ بولابیٹا)  ہوناشرعاً ترکہ میں  کوئی اِستحقاق پیدا نہیں  کرتا اور اگر یہ مراد ہے کہ اس صورت میں  زیداپنی حقیقی والدہ یا والد کے ترکہ سے حصہ پائے گا یا نہیں ، تو جواب یہ ہے کہ بے شک پائے گا  (کیونکہ)  کسی کا اسے اپنا بیٹا بنالینا اپنےحقیقی والدین کے بیٹے ہونے سے خارج نہیں  کرتا۔ ([1] )

سوال:                    کیا منہ بولا بیٹا،بہن،بھائی وغیرہا بھی وارث ہوتے ہیں ؟

جواب:                 امام اہلسنّت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : منہ بولابیٹانہ ایسے شخص کابیٹاہوتاہے اور نہ ہی اپنے باپ سے بے تعلق ہوتاہے کیونکہ حقیقتوں میں  تغیرنہیں  ہوتا۔ شرعی طورپروہ اپنے باپ کا وارث ہے نہ کہ اس دوسرے شخص کا جس نے اس کو منہ بولا بیٹا بنایا ہے۔ اگردوسرا شخص چاہے تو منہ بولے بیٹے کے حق میں  وصیت کردے تاکہ اس کامال اس کے منہ بولے بیٹے کے ہاتھ میں  آجائے اوریہ وراثت نہ ہوگی، خبردار! وارث کے لئے وصیت نہیں  ہوتی، اور کسی کامنہ بولا بیٹابن جانا اس کے لئے باپ کی میراث سے مانع نہیں  ہوتا۔ ([2] )

 سوال:                       والدین کی زندگی میں  جوبیٹایابیٹی فوت ہوجائے، اس کاحصہ ہوگا یا نہیں ؟

جواب: شرعی اعتبار سے کسی شخص کے انتقال کے وقت اس کے زندہ ورثاء ہی ترکہ کے وارث قرار پاتے ہیں  لہٰذا جو بیٹا یا بیٹی اپنے والدین کی زندگی میں  ہی اس دنیائے فانی سے رخصت ہوجائے تواس کا والدین کے مال میں  کوئی حصہ نہ ہوگا البتہ اگر اپنے والدین کے انتقال کے بعد اور ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے کسی وارث کا انتقال ہوجائے تو اس صورت میں  وہ وارث ہوگا اور اس کا حصہ اس کے ورثاء کے مابین تقسیم ہوگا۔

سوال:                    کیا سوتیلے بہن بھائیوں  کابھی وراثت میں  حصہ ہوتا ہے؟

جواب: اس میں  تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ ایک طرف سے سوتیلے ہیں  جیسے باپ کی طرف سے بہن بھائی ہیں  جو دوسری عورت سے پیدا ہوئے جنہیں   ’’ علاتی ‘‘  کہا جاتا ہے یا صرف ماں  کی طرف سے بہن بھائی ہیں  جو کسی دوسرے شوہر کے ذریعے پیدا ہوئے جنہیں   ’’ اَخیافی ‘‘  کہا جاتا ہے تویہ اپنی شرائط کے ساتھ ورثاء ہوتے ہیں  جبکہ جو دونوں  طرف سے سوتیلے ہوں  کہ نہ باپ کی طرف سے ہوں  اور نہ ماں  کی طرف سے تو وہ بہن بھائی کے رشتے کے اعتبار سے ورثاء نہیں  ہیں ۔

سوال:                     کیا دادا کی جائیداد میں  پوتے کا حصہ ہوتا ہے ؟

جواب:                 اگر کسی شخص کا انتقال ہوا اور اس کی اولاد زندہ نہیں ، پوتا زندہ ہے تو یہی اپنے دادا کی جائیداد کا وارث ہوگا البتہ اگر میت کا بیٹا اور پوتا دونوں  زندہ ہوں  تو اب پوتا اپنے دادا کی جائیداد کا وارث نہ ہوگا۔ایسی صورت میں  وارث کو چاہئے کہ اپنے حصے



[1]     فتاویٰ رضویہ، ۲۶ / ۸۴، ملخصاً۔

[2]     فتاویٰ رضویہ، ۲۶ / ۱۷۹، ملتقطاً۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن