دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Maal e Virasat main Khiyanat na Kijiay | مال وراثت میں خیانت نہ کیجئے

book_icon
مال وراثت میں خیانت نہ کیجئے

جواب:                 جب کسی مسلمان کا انتقال ہو جائے تواس کے مال و اسباب سے متعلق شریعت نے چار احکام دئیے ہیں ،

 (1) …سب سے پہلے میت کے مال سے سنت کے مطابق اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین کی جائے۔

 (2) …پھر جو مال بچ جائے ا س سے میّت کا قرضہ ادا کیا جائے،بیوی کا مہر اَدا نہ کیاہو تو وہ بھی قرض شمار ہوگا۔

 (3) …پھر اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اُسے قرض ادا کرنے کے بعد بچ جانے والے مال کے تیسرے حصے سے پورا کیا جائے گا، ہاں  اگر سب ورثا بالغ ہوں اور سب کے سب تیسرے حصے سے زائدمال سے وصیت پوری کرنے کی اجازت دیں  تو زائد مال سے وصیت پوری کرنا جائز ہے ورنہ جتنے ورثاء اجازت دیں  ان کے حصے کی بقدر وصیت پرعمل ہوسکتا ہے۔

 (4) …وصیت پوری کرنے کے بعدجو مال بچ جائے اسے شرعی حصوں  کے مطابق ورثا میں  تقسیم کیا جائے۔ ([1] )

سوال:                    میت کے چھوڑے ہوئے مال کے وارث کون کون ہیں  اور ہر وارث کا کتنا حصہ ہے ؟

جواب: میت کے چھوڑے ہوئے مال و اسباب کے ورثاء قرآن و حدیث میں  بیان کردئیے گئے ہیں  لیکن ان میں  مختلف افراد کے حصے مختلف ہیں  اور یونہی مختلف افراد دوسروں  پر مقدم ہوتے ہیں  جیسے بہن اور بیٹی کے حصے مختلف ہیں  اور بیٹا پوتے پر مقدم ہے کہ بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتا وراثت کا مستحق نہیں ۔ لہٰذا جب وراثت کا مسئلہ پیش آئے تو علمِ میراث کے ماہر سنی عالم سے باقاعدہ پوچھ کر عمل کیا جائے۔

سوال:                    اگر شوہر نے بیوی کا حق مہر ادا نہیں  کیا اور شوہر کاانتقال ہوگیا تو اب بیوی کا حق مہر کہاں  سے ادا کیا جائے گا ؟اور اگر بیوی کا انتقال ہوگیا تو شوہر یہ حق مہر کسے ادا کرے گا؟

جواب:                 اگر شوہر نے اپنی زندگی میں  بیوی کا حق مہر ادا نہ کیا اورنہ ہی عورت نے اپنی خوشی سے مہر معاف کیا تو اس صورت میں  شوہر کے ترکہ سے بیوی کا حق مہر ادا کیا جائے گا اور چونکہ حق مہر قرض ہے لہٰذاکفن دفن کے اخراجات کے بعد جبکہ وصیت پوری کرنے اورورثاء میں  تقسیم سے پہلے ہی بیوی کا حق مہر ادا کیا جائے گا اور اس معاملہ میں  ہمارے معاشرہ میں  جو یہ طریقہ رائج ہے کہ میت پر ہاتھ رکھ کر عورت سے زبردستی مہر معاف کروایا جاتا ہے یہ بالکل غلط ہے، اس کی نہ تو کوئی شرعی حیثیت اور نہ ہی اس طرح معاف کرانے سے حق مہر معاف ہوتاہے۔رہی یہ بات کہ اگر حق مہر ادا کرنے سے پہلے بیوی کا انتقال ہوجائے تو اس صورت میں  حق مہر کی رقم بیوی کے تمام ورثاء کے درمیان ان کے حصوں  کے مطابق تقسیم ہوگی جس میں  شوہر خود بھی حصہ دارہوگا۔

 سوال:                   وصیت کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور کتنے مال کی وصیت کرنی چاہئے؟

جواب:                 وصیت کرنے کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر مرنے والے کے ذمہ کسی قسم کے  ’’ حُقُوقُ اللہ ‘‘  باقی نہ ہوں  تووصیت کرنا مستحب ہے،اور اگراس پر حُقُوقُ اللہ کی ادائیگی باقی ہوجیسے اس کے ذمے کچھ نمازوں  کا ادا کرنا باقی ہو، یا حج فرض ہونے کے باوجود ادا



[1]     بہارِ شریعت،حصہ بستم، وراثت کا بیان، ۳  /  ۱۱۱۱-۱۱۱۲،ملخصاً۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن