30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے 8غفلتیں ملاحظہ ہوں تاکہ مسلمان ان کی طرف توجہ کر کے اصلاح کی کوشش کر سکیں ۔
پہلی غفلت، یتیم وارث کے مال سے میت کی فاتحہ،نیاز اور سوئم وغیرہ کے اخراجات کرنا:
کسی شخص کا انتقال ہونے پر ا ُسے ثواب پہنچانے کے لئے ورثاء سوئم، دسواں ،چالیسواں ، فاتحہ اور نذر و نیاز کا اہتمام کرتے ہیں ،یہ اچھے اور باعث ِثواب اعمال ہیں لیکن اس میں بعض اوقات یہ غفلت برتی جاتی ہے کہ ان اُمور پر ہونے والے اخراجات میت کے چھوڑے ہوئے مال سے کئے جاتے ہیں اور اس کے وارثوں میں یتیم اور نابالغ بچے بھی ہوتے ہیں اور ان کے حصے سے بھی وہ اخراجات لئے جاتے ہیں ،حالانکہ یتیموں یا دیگر نابالغ ورثاء کے حصے سے یہ کھانے پکا کر لوگوں کو کھلاناناجائز و حرام ہے بلکہ اگر یتیم یا کوئی نابالغ وارث اجازت بھی دیدے تب بھی ان کا مال ان کاموں میں استعمال کرنا جائز نہیں لہٰذا نہایت ضروری ہے کہ اس طرح کے کھانے صرف بالغ ورثاء کی رضامندی سے ان کے حصے سے کئے جائیں ،نیزیہ بھی یاد رکھیں کہ جنازے کے بعد کا کھانا اور سوئم کاکھانا ہمارے ہاں کے عرف و رواج میں دعوتِ میت کے طور پر ہوتا ہے اور یہ کھانا صرف فقیروں کیلئے جائز ہے، مالداروں کیلئے نہیں ، لہٰذا اگر بالغ ورثاء بھی ان کھانوں کا اہتمام کریں تو صرف فقراء کو کھلائیں ۔
نوٹ: ایصالِ ثواب کے ثبوت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کیلئے شیخِ طریقت امیر ِاہلسنّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ ’’ فاتحہ اور ایصالِ ثواب کا طریقہ ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔
دوسری غفلت،یتیم اور نابالغ ورثاء کے حصوں سے بے جا اخراجات کرنا:
یتیم بچوں کو وراثت میں جو حصہ ملتا ہے یا اس کے علاوہ ان کی اپنی کسی جائز کمائی یا تحفہ وغیرہ کے ذریعے جو مال انہیں ملتا ہے اسے خرچ کرنے کے حوالے سے عام گھروں میں بہت سی غفلتیں اور کوتاہیاں پائی جاتی ہیں ،جیسے یتیم اور نابالغ وارثوں کا حصہ جدا نہیں کرتے بلکہ سبھی کے ساتھ مشترک رکھتے ہیں اور اسی مشترکہ مال سے صدقہ و خیرات کیا جا رہاہوتا ہے، رشتہ داروں میں غمی خوشی کے مواقع پر لین دین چل رہا ہوتا ہے، گھر میں آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی ہو رہی ہوتی ہے،بھائی بہن کی شادی میں اور تعلیم وغیرہ میں وہی مال صرف ہو رہا ہوتا ہے۔ اس مشترکہ مال میں یہ سب تصرفات ناجائز و حرام ہیں کیونکہ اس میں یتیم کا مال بھی شامل ہے جسے ان معاملات میں خرچ کرنا جائز نہیں ،لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ یتیم اور نابالغ وارث کا حصہ جدا کر دیا جائے، اس کے بعددیگر بالغ ورثاء باہمی رضامندی سے اِن معاملات میں مالِ وراثت خرچ کر یں ۔یتیم کا مال گھر کے افراد کیلئے مشترکہ پکائے گئے کھانے اور اس سے ملتی جلتی چیزوں میں ملالینا جائز ہے لیکن صدقہ و خیرات، مہمان نوازی اور رشتے داریوں کے لین دین میں دینا ہرگز جائز نہیں ۔
تیسری غفلت،بیٹیوں اور بہنوں کو میراث سے حصہ نہ دینا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع