30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسری وعید،غاصب کے فرائض و نوافل مقبول نہیں :
حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو زمین کے کسی ٹکڑے پرناجائز طریقے سے قابض ہوا تواسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔ ([1] )
تیسری وعید، غاصب قیامت کے دن کوڑھی ہو کر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو گا:
حضرت اشعث بن قیس کندی سے روایت ہے، حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص دوسرے کے مال پر قبضہ کرے گا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے کوڑھی ہوکر ملے گا۔ ([2] )
اللہ تعالیٰ اس بُرے فعل سے بھی ہماری حفاظت فرمائے،اٰمین۔
پانچواں گناہ: یتیم وارثوں کو ان کے حصے سے محروم کر دینا:
وراثت کے مسئلے میں سنگین ترین صورت ِ حال یتیم وارثوں کو ان کے حصے سے محروم کرنا اور انہیں حصہ نہ دینا ہے۔
یتیموں کا مال ناحق کھانے کی4 وعیدیں :
ایسے لوگوں کے لیے درج ذیل آیت اور 3 اَحادیث میں بڑی عبرت ہے، چنانچہ
پہلی وعید،بطورِ ظلم یتیموں کا مال کھانے والے بھڑکتی آگ میں جائیں گے:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ (۱۰) ‘‘ ۔ ([3] )
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بالکل آ گ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے۔
دوسری وعید،مالِ یتیم ناحق کھانے والوں کے منہ سے آگ نکل رہی ہو گی:
حضرت ابو برزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ قیامت کے دن ایک قوم اپنی قبروں سے اس طرح اُٹھائی جائے گی کہ ان کے مونہوں سے آگ نکل رہی ہوگی۔ ‘‘ عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، وہ کون لوگ ہوں گے؟ارشاد فرمایا: ’’ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو نہیں دیکھا ،
’’ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ- ‘‘ ([4] )
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بالکل آ گ بھرتے ہیں ۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع