30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عمل مقبول نہیں :
تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ارشاد فرمایا: ’’ اے سعد ! اپنی غذا پاک کر لو! مُسْتَجَابُ الدَّعْوَات ہو جاؤ گے، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کی جان ہے! بندہ حرام کا لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس کے 40دن کے عمل قبول نہیں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہواس کے لئے آگ زیادہ بہترہے۔ ([1] )
چوتھی وعید،حرام کھانے پینے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی:
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتاہے،اس کے بال پراگندہ اوربدن غبار آلود ہے اور وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر یا رب! یا رب! پکار رہاہے حالانکہ اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اورغذا حرام ہوپھر اس کی دعاکیسے قبول ہو گی!۔ ([2] )
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حرام مال حاصل کرنے سے بچنے اور حلال مال حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
چوتھا گناہ : وارث کا مال غصب کرنا:
کسی کی وراثت کا حصہ دبا لینا، ناحق مال کھانے میں داخل ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ([3] )
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔
اورجب کوئی وارث مالِ وراثت سے اپنے حصہ پر قبضہ کر لے پھر دوسرا وارث اس کے حصے کو چھین لے تو یہ کسی مسلمان کا مال ناحق غصب کرنا ہے۔
مسلمان کا مال ناحق غصب کرنے کی3 وعیدیں :
اَحادیث میں مسلمان کا مال ناحق غصب کرنے پربڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ،یہاں ان میں سے تین اَحادیث ملاحظہ ہوں :
پہلی وعید،غاصب کو بروزِ قیامت سات ز مینوں کا طوق پہنایا جائے گا:
حضرت سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے بالشت کے برابر زمین نا حق لی تو قیامت کے دن اُسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ ([4] )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع