30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کئے جائیں ، اس کے جوابات یہاں نہیں دئیے جاتے۔ بعض اوقات آدمی آٹی مار کر کچھ پُوچھ لیتا ہے اور جا کر کچھ کا کچھ کردیتا ہے ، اس لئے “ دارُالافتا اہلِ سنّت “ فریقین کو بلاتا ہے اور دونوں کی سُن کر پھر طلاق کے تعلق سے فیصلہ دیتا ہے۔
شادی کے بعد شوہر کا نام اپنے نام کے ساتھ لگانا کیسا؟
سُوال : کیامُسلم خواتین شادی کے بعد والد کے نام کے بَجائے شوہر کا نام اپنے نام کے ساتھ لگا سکتی ہیں؟
(SMSکے ذریعے سُوال)
جواب : اِس میں شرعاً حرج نہیں ہے ، لیکن Risk (یعنی خطرہ) بڑا ہےکہ اگر گھر نہ چلا اور شوہر نے “ One Two Three “ کردیا (یعنی طلاق دے دی)تو اب کِس کا نام لگائے گی؟ اِس لئے باپ کا نام لگانے میں ہر صُورت میں عافیت ہے۔ آج کل تو عورت اپنے شوہر کے نام سے ہی پہچانی جاتی ہے کہ یہ مِسِز فُلاں ہے۔ اگر شوہر نے “ One Two Three “ کردیاتو مِسِز کیسے کہے گی؟ بلکہ پھر تو اس کے نام سے نفرت ہوجائے گی جبکہ باپ باپ ہی رہتا ہے اور اس سے نفرت بھی نہیں ہوتی۔
سب گھر والوں کے بَجائے صرف ایک فرد کو دَعوت دینا کیسا؟
سُوال : کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کے ہاں دعوت ہوتی ہے تو وہ سامنے والے کے پُورے گھر کو دعوت پر بُلاتا ہے ، لیکن جب دوسرا کبھی دعوت کرتا ہے تو پہلے شخص کے پُورے گھر کے بَجائے ایک آدھ فرد کو دعوت پر بُلاتا ہےجس سے اعتراضات ہوتے ہیں ، ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
جواب : مشورہ یہ ہے کہ ایسی صورتِ حال میں دل بڑا رکھنا چاہیے ، بعض اوقات پَیسوں کی کمی کی وجہ سے بھی ایسا ہوتا ہوگا کہ جس نے سب کو دعوت دی تھی اس کے پاس مالی طور پر گُنجائش زیادہ ہوتی ہوگی ، جبکہ جس نے سب کو دعوت نہیں دی اور تھوڑے لوگ بُلائے تو اس بے چارے کی مالی مجبوری ہوگی۔ اگر مالی مجبوری نہیں بھی ہے اور دوسرے نے ایسا کیا ہے تب بھی ایسے مُعاملات میں لڑائی جھگڑے کرکے رِشتہ داریاں تو ڑ ڈالنا ٹھیک نہیں ہے۔ جس نے کم لوگوں کو دعوت دی اس کو بھی چاہیے کہ وہ ان چیزوں سے بچے اور ایسا مُعاملہ رکھے کہ کسی کو شِکایت کا مَوقع نہ ملے۔ بہرحال یہ ایسا سبب نہیں ہے جس کی وجہ سے آپس میں لڑائی ہوجائے اور رِشتہ داریاں توڑ ڈالیں۔ دل بڑا رکھئے ، بعض لوگ ایسے مَوقع پر غیبت کا بازار گرم کرتے ہیں اور خوب تنقیدیں کرتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع