30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تحفظات تھے ، لیکن اب میں معذرت چاہتا ہوں۔ (ساہیوال سے ایک اسلامی بھائی کا سُوال)
جواب : اللہ کریم آپ کو استقامت نصیب فرمائے۔ اگر کوئی شرعی غلطیاں کی ہیں تو اللہ پاک کی جناب میں توبہ کریں ، کسی کا دل دُکھایا ہے تو اس سے مُعافی مانگیں۔ اگر کبھی میری ذاتی حق تلفی کی ہے تو میں نے آپ کو مُعاف کیا۔ اللہ کریم ہم سب کو مُعاف فرمائے اور دعوتِ اسلامی میں استقامت نصیب فرمائے ، نیز دعوتِ اسلامی میں ر ہ کر ہمیں دینِ اسلام کی دُرُست اَنداز سے خِدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اَذان کے بعد کی دُعا مِل کر پڑھنا کیسا؟
سُوال : اَذان کے بعد مُؤذِّن جو دُعا پڑھتا ہے وہ ہمیں بھی پڑھنی چاہیے یا صِرف خاموشی کے ساتھ سننی چاہیے؟
(SMSکے ذریعے سُوال)
جواب : اَذان کا جواب بھی دینا چاہیے اور دُعا بھی پڑھنی چاہیے کہ یہ دُعا تلاوت نہیں ہے۔ جب تلاوت کی جارہی ہو تو صِرف سننا ہوتا ہے ، ساتھ میں پڑھنا نہیں ہوتا جیسے بعض لوگ خَتْم شریف کے موقع پر سُورۂ اِخلاص شریف اور دیگر سورتیں مِل کر پڑھ رہے ہوتے ہیں ، یہ طریقہ دُرُست نہیں ہے۔ جب کوئی تلاوت کررہا ہو تو جولوگ سننے کے لئے حاضر ہوئے ہوں اُن پر فرض ہوتا ہے کہ کان لگا کر توجہ کے ساتھ تلاوت سنیں۔ اللہ پاک فرماتا ہے : ( وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴) ) ([1])(ترجمۂ کنزُ الایمان : اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رَحم ہو )۔ جس طرح سب مِل کر نعت شریف پڑھتے ہیں اور اَشعار کی تکرار کرتے ہیں اس طرح قرآن کریم نہیں پڑھ سکتے۔ البتہ اَذا ن کی دُعا مِل کر پڑھ سکتے ہیں ، بلکہ مِل کر پڑھنی چاہیے۔
کیا طلاق کا سوچنے سے طلاق ہوجاتی ہے؟
سُوال : کیا طلاق کے بارے میں سوچنے سے طلاق ہوجاتی ہے؟ (Facebook کے ذریعے عبدُ الرشیدکا سُوال)
جواب : جی نہیں ، طلاق کا سوچنے سے طلاق نہیں ہوتی۔ ([2]) طلاق کے مسائل کے متعلق مَدَنی مذاکرے میں سوالات نہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع