30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بچوں کےفیشن ایبل بال کٹوانا کیسا؟
سُوال : آج کل بچے طرح طرح کے بال کٹواتے ہیں ، کوئی اِدھر سے گنجا ہوتا ہے کوئی اُدھر سے کٹ لگواتا ہے ، اس طرح کے بال کٹوانا کیسا؟ (محمد ریان عطاری کا سُوال)
جواب : بچے کیا کٹوائیں گے ، بچوں کے ابّو یا امّی کٹوا دیتے ہوں گے۔ بڑے لوگ بھی اب اسی طرح کے بال رکھ رہے ہیں ، اِدھر سے گنج ٹائپ کا کرلیتے ہیں اُدھر سے ہلکا کرلیتے ہیں اور بیچ میں بال کا گچھا رکھتے ہیں ، طرح طرح کی کٹیں نکلی ہوئی ہیں۔ حالانکہ سنّت یہ ہے کہ بال آدھے کان تک ہوں یا کان کی لَو تک ہوں یا گردن تک ہوجائیں جو کندھو ں کو چھو لیں۔ ([1]) کندھوں سے نیچے بال رکھنا حرام ہے ، یہ عورتوں کی نَقَّالی ہے۔ ([2]) سنّت یہی ہے کہ کہیں سے بھی بال نہ کاٹیں۔ بعضوں کو پتا نہیں ہوتا ہوگا اور نائی بولتا ہوگا کہ میں ہلکے کردیتا ہوں ، اس کے کہنے میں آکر لوگ ہلکے کروالیتے ہیں اور یوں سنّت ادا نہیں ہوتی۔ آج کل اس سنّت پر بہت کم لوگ عمل کرتے ہیں۔ اس سنّت کو بھی اپنانا چاہیے ، یہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کی سنّت ہے کہ پورے بال رکھیں اور بیچ میں مانگ ہو۔ اللہ کرے کہ مسلمانوں میں سنّت بال رائج ہوجائیں۔ جو لوگ طرح طرح کی تراش خراش کے بال رکھتے ہیں وہ فلم ایکٹروں کی نقل کرتے ہیں ، حدیث پاک میں ہے : “ اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ “ یعنی جو جس سے محبت کرے گا اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ ([3]) ہمیں فلم ایکٹروں ، کھلاڑیوں ، فنکاروں اور گلوکاروں کے ساتھ نہیں اٹھنا ، بلکہ اللہ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کے قدموں میں رہنا ہے ، صحابۂ کرام ، اہل بیت اور اولیائے کرام کے گروہ کے ساتھ اٹھنا ہے ، اس لئے اللہ پاک کے نیک بندوں کی نقل کریں اور فیشن ترک کردیں۔
میں نے جو ابھی عرض کیا اس کو اتنی حد تک ہی رکھا جائے ، اگر مبلغین اس طرح بولنا شروع کردیں گے تو اکثر یا ایک تعداد جو اس طرح کے بال رکھتی ہے ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کو سننا چھوڑ دے۔ سختی نہیں کرنی اور نہ ہی ان کو پکڑ کر ٹوکنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع