30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نماز کے دوران اِتنی آواز سے تلاوت کرنا کہ دوسروں کو آواز پہنچے کیسا؟
سُوال : نماز کے دوران برابر میں نماز پڑھنے والوں کی تلاوت یا تسبیح کی آواز سے نماز میں خلل ہوتا ہے ، یہ ارشاد فرمائیے کہ کتنی آواز سے پڑھنا چاہیے؟ (سید فیصل کا سُوال)
جواب : اِتنی آواز سے پڑھنا ضروری ہے کہ خود اپنے کان سُن سکیں۔ ([1]) رہی بات دوسروں کو آواز پہنچنے کی تو اس کے مسائل ہیں۔ اگرسِرِّی نماز جیسے عصر کی نماز میں (امام نے) اتنی بلند آواز سے قر اءت کی جو پچھلی صف کے لوگوں نے سُن لی تو یہ واجب ترک ہوا ، اس صورت میں نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی۔ ([2]) اگر اتنی آوازنہیں ہے ، لیکن اطراف میں لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے تو آہستہ پڑھنا چاہیے۔ اَلتَّحِیَّاتْ وغیرہ بھی آہستہ پڑھنا سنت ہے۔ ([3]) آہستہ آواز سے پڑھنے کی مشق کرنی چاہیے تاکہ دوسروں تک آواز نہ پہنچے۔
خانۂ کعبہ کا چکر گھڑی کے چکر کے اُلَٹ کیوں؟
سُوال : ہم لوگ خانہ کعبہ کے طواف میں اُلٹا چکّر کیوں لگاتے ہیں ، جس طرح گھڑی کی سُوئیاں گھومتی ہیں اس رُخ پر سیدھا طواف کیوں نہیں کرتے؟
جواب : کعبے کے گرد چکّر لگانا عبادت ہے ، جبکہ گھڑی کا دوسرے رُخ پر چلنا لوگوں کی ایجاد ہے۔ شریعت نے ہمیں طواف کا طریقہ یہ بتایاہے کہ کعبہ ہمارے دل کی جانب ہویہی سیدھا ہے ، چاہے وہ گھڑی کے اُلَٹ ہی ہو۔ ([4]) یہ ہمیں اللہ اور رسول نے حکم دیا ہے۔ نماز میں پہلا سلام سیدھے ہاتھ کی طرف پھرتا ہے۔ ([5]) جو حکمِ شریعت ہے اس پر ہم عمل کرتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع