سُوال: کیا عصر کے بعد سجدۂ تلاوت کر سکتے ہىں؟
جواب:کر سکتے ہىں۔( )
سُوال:کىا عورت قبرستان جا سکتى ہے؟
جواب: عورت کو قبرستان جانے کی اجازت نہیں ۔آج کل عورتیں تدفىن کے لىے جنازے کے ساتھ جارہی ہیں۔ یہ بھی منع ہے۔( )
سُوال: رات کے کسى حصے مىں اپنے گھر کی خواتین کو باپَردہ مزارات پر لے جانے کی اِجازت ہے ىا نہىں؟
جواب: نہىں!عُلَما نے اِس سے منع فرماىا ہے۔عورتوں کو زیارتِ قبور سے روکنے کا مقصد یہ ہےکہ یہ جَزع فَزع (یعنی رونا پیٹنا) کریں گی،اس لئے علما نے انہیں منع کىا ہے۔ ( )
سُوال: پىر کى شَرائط کىا ہىں؟ نیزپىر کىسا ہونا چاہىے؟
جواب:اعلىٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے پیر کی جو چار شَرائط بىان کى ہىں ان کا خلاصہ یہ ہے:(1) وہ سُنّى صحىح العقىدہ ہو یعنی پکا سنى ہو،اس کے عقىدے مىں کوئى گڑ بڑ نہ ہو ۔اگر مَعَاذَ اللّٰہ کسی صحابی کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ صحىح نہىں تھے تو ایسے کى گلى سے بھى نہیں گزرنا چاہیےکیونکہ یہ اس کا مِصداق ہیں کہ مىں تو جہنم کى طر ف دوڑ لگا رہا ہوں تم بھی مىرا دامن پکڑ لو دونوں جہنم میں چلىں گے ۔ایسے لوگوں سےبچنا مشکل ہے۔ بہرحال وہ تمام صحابہ و اہلِ بىت کو مانتا ہو، ان میں سے کسى پر بھی نہ تنقىد کرتا اور نہ کسى کى بھولىں نکالتا ہو۔ بعضوں کى عادت ہوتى ہے کہ وہ تارىخ پڑھ کر کنفیوز ہو جاتے ہىں اور بک بک کرنا شروع کر دىتے ہىں۔یاد رَکھیے !قرآنِ پاک نے تمام صحابہ کو جنتى قرار دىا ہے،اب اس پر بات ختم ہو جاتی ہے (2) عالِم ہو کہ ضَرورت کے مَسائل جانتا ہو اورضَرورتاً بغیر کسی کی مدد سے کتابوں سے نکالنے کی صَلاحیت بھى رکھتا ہو(3)فاسقِ معلن ىعنى عَلَى الْاِعْلَان فسق نہ کرتا ہو ،اگر عَلَى الْاِعْلَان جھوٹ بولتا ہو، غىبتىں کرتا ہو ، بے پردہ عورتوں سے ہاتھ چمواتا ہو ، داڑھى منڈاتا ىا اىک مٹھى سے زىادہ گھٹاتا ہو، نمازیں نہ پڑھتا ہواور بغیر شرعی عذر کے جماعت ترک کرتا ہو تو ایسے لوگ فاسق ہوتے ہىں ان کى بىعت بھی جائز نہىں ہوتی ۔(4) طریقت میں پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم سے سلسلہ ملتا ہو ،سىد ہونا شرط نہیں بس طریقت کا سلسلہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم سے جا ملے ، کوئى جعلى پىر ہے تو وىسے ہى اس کی خلافت نہىں ہوتی،اس کا سلسلہ کٹا ہوتا ہے اگر ایسا جعلی پیر پىرى مُرىدى کا سلسلہ شروع کرتا ہے تو ہرگز ایسے کی بیعت دُرُست نہ ہو گى۔( )
سُوال:کسی اىسى کتاب کے بارے میں بتا دیجئے جس مىں جنَّت کى نعمتوں اور جہنم کى ہولناکىوں کا ذِکر ہو۔
جواب:جنَّت کی نعمتوں کی معلومات کے بارے میں’’جنَّت مىں لے جانے والے اَعمال،بہشت کی کنجیاں“اور جہنم کی ہولناکیوں کی معلومات کے بارے میں”جہنم مىں لے جانے والے اَعمال،76 کبىرہ گناہ ،جہنم کے خطرات“نیز”نىکىوں کی جزائىں اور گناہوں کى سزائىں“ىہ کتابیں اور ان کے علاوہ دِیگر کتابیں مکتبۃ المدینہ سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یہ کتابىں دعوتِ اسلامى کى وىب سائٹ پر بھى موجود ہیں وہاں سے اپلوڈ کی جا سکتی ہیں ۔
سُوال: تحدیثِ نعمت اور دِکھاوے مىں کىا فرق ہے؟
جواب: تحدىثِ نعمت میں اللہ پاک کی نعمت کے اِظہار کی نیت ہوتی ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ مجھے اللہ پاک نے ىہ نعمت دى ہے،جیسےاللہ پاک کی دی ہوئی توفیق سے آج میں نے اىک قرآنِ کرىم ختم کر لىا ہے ۔اس میں اگر واقعى اللہ پاک کى نعمت کے اِظہار کى نىت ہے کہ اللہ پاک نے مجھے توفىق دى ہے تو اس طرح کہنے میں کوئی حرج نہىں ہے۔ہاں اگر کوئی تحدىثِ نعمت کہہ کر یہ چاہتا ہے کہ سامنے والے کے دِل مىں مىرے لىے عزت بڑھے کہ ىار اتنا عاشقِ قرآن ہے کہ پورا رَمَضان ہوا نہىں اور اس نے مکمل قرآنِ پاک کی تلاوت کر لی ۔ بڑا نیک آدمی ہے تو یہ رِىا ہے اور رِىا حرام ہے۔ ( ) ایسا شخص رِیا کو تحدىثِ نعمت کہہ رہا ہے جبکہ اس کا اصل مقصد کچھ اور ہے اور ىہ دوسرا گناہ ہے کہ جھوٹ بول رہا ہے اور دھوکا دے رہا ہے ۔