دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kya Mureed Hona Zaroori Hai? | کیا مرید ہونا ضروری ہے؟

Kya Mureed Hona Zaroori Hai

book_icon
کیا مرید ہونا ضروری ہے؟
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ 
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

کیا مرید ہونا ضروری ہے؟ ( )

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۱۳صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے  اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا۔

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم: جس نے کتاب میں مجھ پر دُرُود پاک لکھا جب تک میرا نام اس میں رہے گا فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہیں گے۔( )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلیٰ مُحَمَّد

کیا مرید ہونا ضروری ہے؟

سُوال: بعض لوگوں کو مرید بننا سمجھ نہیں آتا، وہ سوچتے ہیں کہ کیا ضرورت ہے کسی کا مرید بننے کی؟ آزاد زندگی گزاریں، ایسے لوگوں کو کس طرح سمجھایا جائے؟ (نگرانِ شوریٰ کا سُوال)
جواب: دراصل سب سے بڑے پِیر پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم ہیں اور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فتاویٰ رضویہ میں پیری مریدی کو سُنَّت لکھا ہے۔( )  یاد رہے! مرید ہونا سُنَّتِ قولی ہے نہ کہ سُنَّتِ فعلی،  کیونکہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کسی کے مرید نہیں ہوسکتے، ہاں! مرید ہونا صحابہ کرام کی سُنَّتِ فعلی ہے، کیونکہ حضور نے صحابہ کرام سے مختلف مقامات پر بیعت لی ہے، جن میں سے بیعتِ رضوان بہت مشہور ہے، اگرچہ اس دور میں لفظ ”پِیر و مرید“  کی اصطلاح نہیں تھی، لیکن پیری مریدی کی اصل سُنَّت سے ثابت ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی ارشادِ ربّانی ہے: ( وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ)( )ترجمۂ کنز الایمان: ”اور اللہ کى طرف وسىلہ ڈھونڈو۔“  لہٰذا ہم نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کو وسیلہ بنایا اور انہیں اپنا شیخ اور مرشد تسلیم کرلیا ، ان کے وسیلے سے ہی ہمیں اللہ پاک کی پہچان ہوئی اور ہم اللہ پر ایمان لائے، نَعُوْذُ بِاللّٰہ اگر کوئی سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم ہی کو نہ پہچانے تو وہ اللہ پاک کوماننے کا لاکھ دعویٰ کرے زندیق اور کھلا کافر ہے، ( ) کبھی جنت میں نہیں جائے گا۔ بہر حال پیری مریدی نیکی کا کام ہے اور ہر نیکی سے عمر بڑھتی ہے،( ) لہٰذا اس سے بھی عمر بڑھتی ہے، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پیری مریدی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے کئی مشکلیں آسان ہو چکی ہوتی ہیں، کتنی مصیبتیں آنے سے پہلے ٹل چکی ہوتی ہیں، بندے کو پتا بھی نہیں ہوتا، یا سخت بیماری سے بندہ بچ جاتا ہے، یا نَعُوْذُ بِاللّٰہ  گمراہ ہونے والا تھا، مرید ہونے کی برکت سے سُنِّیت پر قائم رہتا ہے، اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے دامن  سے وا  بستہ رہتا ہے، بہر حال بہت سے فوائد ایسے ہوتے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے اور ضروری نہیں کہ جو نظر نہ آئے اس کا انکار کر دیا جائے، مثلاً نیکی اور بدی لکھنے والے فرشتے نظر نہیں آتے، لیکن ان کا انکار کوئی نہیں کرتا۔  اور  پھر پیری مریدی کا انکار کیونکر کیا جائے؟ جبکہ اس میں نقصان کا کوئی شائبہ بھی نہیں، نہ ہی کوئی پیسے لگتے ہیں، مرید ہونے کا فائدہ ہی فائدہ ہے، جتنے بھی اولیائے کرام اور بزرگانِ دین گزرے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ملے گا جو کسی کا مرید نہ ہو، تو کیا تمام اولیائے کرام خطاکار ٹھہرے!

اعلیٰ حضرت کی ایک عبارت کی وضاحت!

سُوال:  اعلیٰ حضرت کا پیری مریدی کے تعلق سے ایک فرمان ہے: صحتِ عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیحہ متصلہ میں اگر انتساب باقی رہا تو نظر والے اس کے برکات ابھی دیکھتے ہیں، جنہیں نظر نہیں وہ نزع میں قبر میں حشر میں اس کے فوائد دیکھیں گے۔( ) اس عبارت کی وضاحت درکار ہے۔(نگرانِ شوریٰ کا سُوال)
جواب: اس کا مفہوم یہ سمجھ آتا ہے کہ صحیح اور جامع شرائط پیر کا مرید اگر صاحبِ نظر ہو تو جاگتی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ مرید بننے کی کیا برکتیں مل رہی ہیں! اور اگر صاحبِ نظر نہ بھی ہو تو کوئی مایوسی نہیں، مرنے کے بعد، قبر اور محشر میں اس کی برکتیں دیکھ لے گا۔
ندا دے گا منادی حشر میں یوں قادریوں کو
کہاں ہے قادری کر لیں نظارہ غوثِ اعظم کا (قبالۂ بخشش)

”غوثِ اعظم کا بندہ“کہنا کیسا؟

سُوال: ”غوثِ اعظم کا بندہ“          کہنا کیسا؟ جبکہ بندہ تو اللہ کا ہی ہوتا ہے۔(نگرانِ شوریٰ کا سُوال)
جواب: کوئی حرج نہیں! بندہ کے کئی معنیٰ ہیں، مثلاً خادم، غلام، آدمی۔ نیز پنجابی میں بھی آدمی کو بندہ  کہتے ہیں، لیکن اعتراض صرف ”غوث کا بندہ“ کہنے پر ہی کیوں؟ 
(اِس موقع پر مفتی صاحب نے فرمایا:) مستدرک للحاکم کے حوالے سے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے حدیثِ مبارکہ نقل فرمائی ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ فرماتے ہیں: میں حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی مبارک زندگی میں آپ کا خادم اور آپ کا بندہ تھا۔( ) 

پِیر بنانے کا مقصد

سُوال: پِیر بنانے کا مقصد کیا ہوتا ہے، نیز بیعت کے وقت پِیر اور مرید کیا کیا نیتیں کریں؟ (مفتی صاحب کا سُوال)
جواب: پیر بننے اور بنانے میں آخرت کا فائدہ مقصود ہونا چاہیے، کیونکہ اصل بیعت آخرت کے لئے ہی ہوتی ہے، بیعت و ارادت دنیاوی اغراض و مقاصد سے پاک ہونی چاہئیں، ہاں! ضمناً دنیاوی برکتیں بھی حاصل ہوجاتی ہیں، لیکن دنیاوی مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے پیر سے بدظن ہوجانا اور پیر پر اعتراض کرنا کہ پیر میری بات نہیں سنتا، میرے کام نہیں بناتا! بہت بڑی نادانی ہے، سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم سے ایسی بیعت کے بارے میں کہیں نہیں پڑھا جس میں حضور نے فرمایا ہو کہ بیعت کر لو مالدار ہو جاؤگے! یا یہ فرمایا ہو کہ میری بیعت کر لو تمہارا قرضہ اتر جائےگا! مگر فی زمانہ بعض لوگ دنیاوی مسائل حل کرنے کے لئے پیر بناتے ہیں۔ بہت پرانا واقعہ ہے: ایک صاحب نے مجھے کہا کہ میرا ایک کام کافی عرصے سے رُکا ہوا ہے پیر صاحب توجہ نہیں فرما رہے میرا کام نہیں ہو رہا، آپ مجھے اپنا مرید بنا لیجیے! میں نے کہا کہ کام تو میں بھی نہیں کروں گا، کام  بنانے کے لئے تھوڑی مرید ہوا جاتا ہے۔ بہرحال انہوں نے اپنے پِیر سے بیعت توڑ دی تھی میرے حلقَۂ ارادت میں شامل ہوگئے۔ کافی سال پہلے ان کا انتقال ہوگیا۔ الغرض دنیاوی مقاصد کے لئے پیر نہیں بنانا چاہیے، مقامِ غور ہے کہ ہم اللہ پاک سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے بھی تو دُعا کرتے ہیں، اگر مقصد پورا نہ ہو تو      کیا خدا بدل دیتے ہیں؟ ہر گز نہیں! پھر کام پورا نہ ہونے کی وجہ سے پِیر بدل دینا کون سی عقل مندی ہے؟ لہٰذا ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ نیز پِیر کو بھی ثواب کی نیت سے مرید بنانا چاہیے کہ میں اس کی آخرت سنوارنے اور اس کو نماز اور سنتوں کا پابند بنانے کے لئے مرید کرتا ہوں! یہ مقصد ہرگز نہ ہو کہ میرے مریدوں کی تعداد بڑھے اور میں سب کے سامنے کہہ سکوں : ” میرے مرید سب سے زیادہ ہیں!“  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  میں نے کبھی اس طرح کا دعویٰ نہیں کیا، اگرچہ لوگ کہتے ہیں کہ لاکھوں کروڑوں مرید ہیں، لیکن حقیقتِ حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے، بس اللہ پاک مجھ سے راضی ہو جائے! پیری مریدی نیکی کی دعوت کا بہترین ذریعہ ہے، کیونکہ مرید پیر کی بات مانتا ہے، عام آدمی کی نیکی کی دعوت کا اثر اتنا نہیں ہوتا جتنا پیر کی نیکی کی دعوت کا ہوتاہے۔ یاد رہے! ہر کوئی پیر نہیں بن سکتا، اس کے لئے چاروں شرائط کا جامع ہونا ضروری ہے۔

عیدی دینے کا انداز!

سُوال: عیدی دینے کا کیا انداز ہونا چاہیے؟
جواب: عیدی دینے کا کوئی مخصوص طریقہ نہیں ہے، البتہ! مسلمان کا دل خوش کرنے کی نیت سے عیدی دی جاسکتی ہے، نیز جس کو عیدی دی جا رہی ہے وہ اگر رشتہ دار ہو تو صلہ رحمی (یعنی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک)کی نیت بھی کر لی جائے، یوں ہی جن بچوں کو عیدی دینے سے ان کے والدین خوش ہوتے ہوں تو عیدی دیتے ہوئے ان کے والدین کو خوش کرنے کی نیت بھی کی جا سکتی ہے۔ یاد رکھیے! یہ ضروری نہیں کہ ہر بچے کو عیدی دینے سے اس کے والدین خوش ہوں، لہٰذا موقع    کا لحاظ رکھا جائے۔

کیا عیدی لفافے میں دینی چاہیے؟

سُوال: عیدی لفافے میں دینا بہتر ہے یا بغیر لفافے کے ؟ (سائل: سلمان عطاری)
جواب: بچوں کو بغیر لفافے کے عیدی دینا بہتر ہے، کیونکہ نئے اور کڑک نوٹ دیکھ کر بچے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ ہاں! عُلما اور مشائخ                             کو احتراماً لفافے میں پیسے دیے جائیں  تاکہ دوسروں پر ظاہر نہ ہو۔

مٹھی بند کر کے نذرانہ دینا کیسا؟

سُوال: بعض لوگ مٹھی بند کر کے نذرانہ یا چندہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو لگتا ہے کہ بہت پیسے دئیے ہوں گے، حالانکہ دس بیس یا سو روپے ہی دئیے ہوتے ہیں۔ اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ (سائل: سلمان عطاری)
جواب: مٹھی بند کر کے نذرانہ دینا تو پھر بھی سمجھ آتا ہے، لیکن مجھے لوگوں نے کئی بار دعا کی پرچی اس طرح دی ہے  بندہ شرم سے پانی پانی ہوجائے، کیونکہ دیکھنے والے تو یہی سمجھتے ہوں  گے کہ ”مولانا کو بڑے نذرانے مل رہے ہیں!“ شاید لوگ مٹھی بند کر کے اہتمام کے ساتھ دینے کو ہی نذرانہ سمجھتے ہیں، جبکہ حدیث پاک میں ہے:  اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَات یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔( ) جس نے دس روپے چُھپا کر جھولی میں ڈالے ہیں اس کے بارے میں حسنِ ظن ہوسکتا ہے، ممکن ہے اس نے جھولی پھیلانے والے کی حوصلہ افزائی کی نیت سے جھولی میں پیسے ڈالے ہوں کہ اگر کوئی بھی کچھ نہ دے تو جھولی پھیلانے والے کا دل ٹوٹے گا، یا یہ سوچ کر دئیے ہوں گے  کہ بعد میں بھول نہ جائے یا ارادہ نہ بدل جائے، نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ غریب ہو اور شرم کی وجہ سے کسی کو دکھانا نہ چاہتا ہو، بہرحال  غریب کے لئے تو دس روپے بھی بہت ہوتے ہیں۔

قرآن کریم کو کیسے سمجھیں؟

سُوال: قرآن کریم  کو سمجھنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟
جواب: کسی اچھے استاد سے قرآن پڑھنا سیکھیں، اس کے لئے مدرسۃ المدینہ بالغان میں داخلہ لے سکتے ہیں اور اگر قرآن  کریم کو سمجھنا ہو تو مکتبۃ المدینہ کی 10 جلدوں پر مشتمل تفسیر ”صراط الجنان“    ( )                   کا مطالعہ فرمائیں، ہر جلد میں تین پاروں کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔ آپ اس تفسیر کو عشقِ رسول سے لبریز اور عقائد و اعمال کی اصلاح کرتا پائیں گے۔ تفسیر ”صراط الجنان“ ہر گھر میں ہونی چاہیے، اس کو پڑھیں اِنْ شَآءَ اللّٰہ  بہت ساری معلومات حاصل ہوں گی۔

کیا میاں بیوی کے بات نہ کرنے سے نکاح ٹوٹ جائے گا؟

سُوال: میاں بیوی سال بھر بات نہ کریں تو                     کیا نکاح ٹوٹ جائے گا؟ (سائل: محسن عطاری، ملتان)
جواب:  جب تک شوہر طلاق نہ دے یا نکاح کو فاسد کرنے والا کوئی کام نہ کرے تب تک نکاح نہیں ٹوٹے گا، اگرچہ میاں بیوی سو سال تک بات نہ کریں۔

 …… یہ رِسالہ ۲۶رَمَضانُ المبارَک(بعد نمازِ عشا)                ؁۱۴۴۱ھ مطابق 19مئی 2020 ء کو ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کے شعبے ’’ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سُنَّت‘‘نے مُرتَّب کیا ہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سُنَّت) 
 …… معجم اوسط، باب الالف من اسمه احمد، ۱/۴۹۷، حدیث: ۱۸۳۵۔
 …… فتاویٰ رضویہ ، ۲۶ / ۵۸۶  ۔
 …… پ۶،المائدة:۳۵۔
 ……  شفا،القسم الثانی فیما یجب علی الانام من حقوقه، الباب الاول فی فرض الایمان به...الخ، ۲/۲۔
 …… ترمذی ،  کتاب القدر ،  باب ما جاء لا یرد القدر الا الدعاء ،  ۴ / ۵۴ ،  حدیث: ۲۱۴۶۔
 …… فتاویٰ رضویہ ، ۲۶ / ۵۷۰ ۔
 …… مستدرک للحاکم،کتاب العلم،  خطبة عمر بعد ما ولی علی  الناس،۱/۳۳۲، حدیث: ۴۴۳۔فتاویٰ رضویہ، ۲۴/۶۶۷۔
 …… بخاری، کتاب الایمان، باب ما جاء ان الاعمال بالنیة والحِسبة... الخ، ۱ / ۳۴، حدیث: ۵۴۔
 …… ”صراط الجنان فی تفسیر القرآن“ یہ تفسیر شیخ الحدیث والتفسیر   مفتی محمد قاسم عطاری مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی  کی تحریر کردہ ہے جو 10 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس تفسیر میں دیگر تفاسیر اور علومِ اسلامیہ پر مشتمل کتب سے   کلام شامل کیا گیا ہے۔ حسب موقع اعمال کی اصلاح اور معاشرتی برائیوں سے متعلق مفید مضامین بھی شامل کئے گئے ہیں۔ مختلف مقامات پرعقائدِ اہلِ سُنَّت اور معمولاتِ اہلِ سُنَّت کی دلائل کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سُنَّت)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن