دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Kya Mureed Hona Zaroori Hai? | کیا مرید ہونا ضروری ہے؟

Dua Karen Zid Nahi

book_icon
کیا مرید ہونا ضروری ہے؟

دُعا کریں، ضد نہیں!

  یاد رکھیے! دُعا میں ضد   نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اللہ پاک کی بارگاہ میں اس طرح عرض کرنا چاہیے کہ ”یا اللہ اگر میرے حق میں بہتر ہو تو حاجت پوری فرما! “  یوں ہی اگر مال و دولت میں اضافے کی دُعا کرنی ہو تو یوں دُعا کریں کہ ”اگر میرے حق میں بہتر ہو تو میں مال دار ہو جاؤں!“  ورنہ ہو سکتا ہے کہ بندہ مال دار تو ہو جائے، لیکن اس مال کی وجہ سے تکبر کی آفت یا دیگر گناہوں میں مبتلا ہو جائے، کیونکہ مال دار کے لئے گناہ کرنا آسان ہوتا ہے، بلکہ کئی گناہ ایسے ہوتے ہیں جو مال داری میں ہی کیے جا سکتے ہیں، غربت میں نہیں کیے جا سکتے، لہٰذا ہمیشہ اللہ پاک سے یہی دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہماری بہتری پر نظر فرمائے اور جو ہمارے حق میں بہتر ہو وہ عطا کرے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:  ( وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْۚ-وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠(۲۱۶))( ) ترجمۂ کنز الایمان: ” اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ “ بعض مائیں اپنی اولاد کو بد دعائیں دیتی ہیں کہ تو پھٹ پڑے، تیری ٹانگ ٹوٹ جائے وغیرہ، اگر ان بد دعاؤں کا اثر ظاہر ہو جائے اور اولاد واقعی پھٹ پڑے یا اس کی ٹانگ ٹوٹ جائے یا آنکھیں پھوٹ جائیں تو رونا بھی ان ماؤں کو ہی پڑے گا۔ اللہ پاک کا ان بد دُعاؤں کو قبول نہ کرنا بھی اس کا کرم ہی ہے، وہ بہتری پر نظر فرماتا ہے۔ بہر حال بددعائیں نہیں  دینی چاہئیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ قبولیت کی گھڑی ہو اور بددُعا پوری ہو جائے۔
زمخشری معتزلی ایک رائٹر گزرا ہے جو علما میں بہت معروف ہے، امام غزالی سے بھی پہلے کا ہے، اس کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک بار یہ بچپن میں کھیل رہا تھا، ایک چڑیا جس کی ٹانگ میں اس نے دھاگا باندھ رکھا تھا دیوار کے سوراخ میں گھس گئی، اس نے دھاگا کھینچا تو ٹانگ ٹوٹ کر دھاگے کے ساتھ آگئی، زمخشری کی ماں جو یہ منظر دیکھ رہی تھی اُس کا دل بھر آیا اور اس نے جذبات میں یہ کہہ دیا ”اللہ تجھے اس سے پہلے موت نہ دے جب تک تیری ٹانگ نہ ٹوٹے!“ وقت گزر گیا، ایک بار یہ سفر پر روانہ ہوا تو راستے میں ایسا حادثہ پیش آیا کہ اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی، بالآخر اس کو ٹانگ کٹوانی پڑی اور وہ لنگڑا ہو گیا۔( ) غور کریں! زمخشری اتنا ذہین تھا، اس نے اپنے شعبے میں بڑی ترقی کی، لیکن ماں کی بددعا نے اسے لنگڑا کردیا۔

”راہِ سلوک کے مسافر“سے کون مراد ہیں؟

سُوال: کتابوں میں لکھا ہوتا ہے ”راہِ سلوک کے مسافر“ اس سے کون مراد ہیں؟ (نگرانِ شوریٰ کا سُوال)
جواب: یہ طریقت کی اصطلاح ہے، سلوک کا معنیٰ ”چلنا“ ہے اور تصوف میں سالک سے مراد تصوف کی راہ پر چلنے والا۔ 

طریقت شریعت سے جُدا نہیں!

سُوال: بعض لوگ طریقت کو شریعت سے جُدا مانتے ہیں اور وہ صرف طریقت اور فقیری کی ہی بات کرتے ہیں، آپ یہ  ارشاد فرمائیے   کیا واقعی شریعت و طریقت الگ الگ ہیں یا دونوں ایک ہی ہیں؟ (نگرانِ شوریٰ کا سُوال)
جواب: میرے آقااعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: شریعت ، طریقت، حقیقت، معرفت میں باہم (یعنی آپس میں)اصلاً کوئی تخالف (اختلاف)نہیں، اس کا مدعی(یعنی یہ کہنے والا کہ ان میں ٹکراؤ ہے) اگر بے سمجھے کہے تونرا جاہل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ بددین، شریعت حضور اقدس سید عالم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے اقوال ہیں، اور طریقت حضور کے افعال  اور حقیقت حضور کے احوال  اور معرفت حضور کے علومِ بے مثال۔( ) ہمارے معاشرے میں ایسا طبقہ بھی ہے جو خود کو دین سے آزاد سمجھتا ہے اور   کہتا ہے ”مولوی اور فقیر کی بنتی نہیں ہے، ہم فقیر لوگ ہیں“ یہ جاہل لوگ شریعت کی تحقیر کرتے اور شریعت کی باتوں کو ”مولویوں کی باتیں“ کہتے ہیں، بعض اوقات   کفر  یات تک بکنے سے بھی گریز نہیں کرتے، مزارات پر بیٹھ کر  نشے کر رہے ہوتے ہیں، جب مزارات پر عرس ہوتے ہیں تو ملنگوں کی ایک تعداد جمع ہو کر رنگ رلیاں منا رہی ہوتی ہے، یوں ہی بعض جاہل پیر جو حقیقت میں پیر تو      کیا  مرید بننے کے لائق بھی نہیں ہوتے،  یہ لوگ ہاتھوں میں کڑے پہنے،  عورتوں کی طرح لمبے لمبے بال رکھےبیٹھ کر نعرے مار رہے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ہم فقیر لوگ پہنچے ہوئے ہیں! بالکل یہ لوگ پہنچے ہوتے ہیں، لیکن شیطان تک، کیونکہ رحمٰن تک پہنچنے والا وہی ہوتا ہے جو عالمِ دین ہو اور اپنے کامل پیر کی ہدایات کے مطابق راہِ سلوک کی منزلیں طے کرتاہو، یاد رکھیے! پیر کے لئے عالم ہونا شرط ہے ورنہ پیر نہیں بن سکتا۔(2) جو شریعت کے مطابق ہر قدم رکھتا ہو حقیقت میں رب تک وہی پہنچے گا، ورنہ اس طرح کے زندیق و بدبخت لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں شریعت کا علم نہیں ہوتا اور نہ جانے وہ کیا کیا بک رہے ہوتے ہیں! چرس اور بھنگ پی کر شیطان کے قدموں تک پہنچتے اور اس سے لپٹے ہوتے ہیں، تصوف کی بعض باتیں کتابوں سے رٹ کر لوگوں کے سامنے بول کر بیوقوف بناتے ہیں، ان کی باتیں سننا تو دور کی بات ہے، ایسوں کو دیکھنا بھی نہیں چاہیے کہ ان کے چنگل میں آجائیں، ہم اچھے، ہمارے علما اچھے اور ہماری سنیت اچھی، میرے آقااعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اپنے دور کے بہت بڑے عالم تھے، ہم نے   ان کا ہی دامن پکڑا ہے اور اللہ پاک کی رحمت سے امید ہے کہ یہ ہمیں سرکار غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے قدموں سے ہوتے ہوئے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم تک پہنچا دیں گے اور ہم جنت میں آقا کے پیچھے پیچھے چلے جائیں گے۔

حاجتیں پوری ہونے کا وظیفہ

سُوال: جائز حاجتیں پوری ہونے کا وظیفہ ارشاد فرما دیجیے۔
جواب: اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کرتے رہیں۔ نیز جمعہ کو عصر کی نماز کے بعد جس جگہ نماز پڑھی ہے وہیں  بیٹھ کر ”یَا اَللہُ  یَا رَحْمٰنُ یَارَحِیْمُ“پڑھتے رہیں، درمیان میں اوّل آخر درود شریف بھی پڑھ لیں، جب سورج ڈوبنے کا یقین ہوجائے تو اپنی جائز حاجت پوری ہونے کی دعا مانگیں، جمعہ کے علاوہ دیگر ایام میں بھی یہ وظیفہ کر سکتے ہیں، البتہ! جمعہ کے دن کرنا زیادہ اچھا ہے۔ یوں ہی حدیثِ پاک میں ”صلاۃ الحاجات“ بیان فرمائی گئی ہے جس کا طریقہ ”مدنی پنج سورہ“ میں موجود ہے،( ) وہ بھی ادا کرسکتے ہیں،   آپ کے حق میں بہتر ہوا تو حاجت پوری ہو جائے گی۔

بے پِیروں کی عیّاری!

سُوال: آپ نے جعلی پِیروں کی مذمت فرمائی جو دین و شریعت سے خود کو آزاد سمجھتے اور اپنے آپ کو مجذوب و فقیر بتاتے پھرتے ہیں۔ ہمارے گرد و پیش ایسا طبقہ بھی ہے جو طریقت و بیعت کا مخالف ہے اور وہ ”بے پِیر“طبقہ جعلی پیروں کی گندی حرکتوں کو دلیل بنا کر لوگوں کو پیرانِ عظام اور طریقت و بیعت سے بد ظن کرنے کے در پے ہے، ایسے لوگوں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ (مفتی صاحب کا سُوال)
جواب: سُوال میں مجذوب کا ذکر ہوا۔ مجذوب ولایت کی ایک قسم ہے، البتہ! اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ  عَلَیْہِ نے فرمایا ہے: مجذوب سے سلسلہ آگے نہیں چلتا۔( ) بعض لوگ مجذوب جیسا ڈھونگ رچاتے، ہر وقت فضا میں گھورتے رہتے، جھٹکے مارتے اور نعرے لگاتے رہتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ بہت پہنچا ہوا مجذوب ہے! لیکن حقیقت میں وہ مجذوب نہیں ہوتے، ان کے دامِ فریب میں نہیں پھنسنا چاہیے، یاد رہے! حقیقی مجذوب کی پہچان کرنا بہت مشکل ہے۔ رہی بات اُن لوگوں کی جو اِن جعلی پیروں کےکالے کرتوتوں کو دلیل بنا کر مردانِ حق کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں، حالانکہ جعلی پیروں کا جتنا رَد ہم کرتے ہیں اتنا  شاید ہی کوئی  اور کرتا ہو! ہم خود کہتے ہیں کہ ایسے پیروں فقیروں کا سُنِّیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ  خود بھی ڈوبتے ہیں، دوسروں کو بھی ڈبو دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ”بے پِیر“ لوگ ان جاہلوں کو ہماری فہرست میں ڈالتے ہیں جن کو ہم نے اپنی فہرست سے نکالا ہوا ہے، حتّٰی کہ معاشرے میں ایک ایسا ٹولا بھی پایا جاتا ہے جس نے باقاعدہ ویب سائٹ کھولی ہوئی ہے اور اسے علما و مشائخِ اہلِ سُنَّت کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے، ایسے خائنین (خیانت کرنے والوں) سے بھی بچنا چاہیے۔ دراصل ان کو تکلیف جاہل پِیروں سے نہیں، بلکہ اہلِ حق سے ہے، کیونکہ چرسیوں، موالیوں اور بھنگڑے باز ملنگوں سے کوئی متاثر نہیں ہوتا، جبکہ علمِ دین اور حق کو بیان کرنے والے علما و مشائخِ اہلِ سُنَّت دینِ اسلام کے سَپُوت اور اسے پھیلانے والے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مخالفین کو ان سے چِڑ ہوتی ہے، لہٰذا ان (مخالفین)کی باتیں اور دلائل نہیں سننے چاہئیں،  یہ ایسے ظالم لوگ ہیں کہ ہمارے جشنِ ولادت میں جھومنے کا بھی مذاق بناتے ہیں!  مجھے کسی نے بتایا تھا کہ یہ لوگ میری جشنِ ولادت میں جھومنے والی ویڈیو اپنی ویب سائٹ پر میوزک کے ساتھ چڑھاتے ہیں، تاکہ لوگ سمجھیں کہ الیاس قادری ناچ رہا ہے!  بہر حال یہ لوگ جلتے ہیں اور جلتے ہی رہیں گے۔
منکر کے لئے نارِ جہنم ہے مناسب
جو آپ سے جلتا ہے وہ جل جائے تو اچھا
جو سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی عظمتوں سے جلتا ہے اسے جل ہی جانا چاہیے، یہ لوگ ہم سے نہیں، بلکہ سرکار کی عظمتوں سے جلتے  ہیں! کیونکہ ہم تو عظمتِ مصطفےٰ کو بیان کرتے ہیں، ورنہ ہم نے کون سا ان کی جائیداد چھینی ہے! اللہ کریم ایسے لوگوں کو ہدایت دے اور سچی توبہ نصیب فرمائے۔

کیا میت کے گھر والے عید نہیں منا سکتے؟

سُوال: گھر میں کسی کا انتقال ہو جائے اور عید قریب ہو تو        کیا گھر والے نئے کپڑے پہن سکتے ہیں؟(نگرانِ شوریٰ کا سُوال)
جواب: میت کا سوگ تین دن  تک ہے۔( ) اگر تین دن گزر چکے ہیں تو عید کی خوشی منائی جائے گی۔ یاد رہے! عید میں نئے کپڑے پہننا ضروری نہیں، ہاں! نئے یا دھلے ہوئے عمدہ کپڑے پہننا مستحب ہے،( )          کیونکہ عید کے دن خوشی ظاہر کرنا سُنَّتِ مستحبہ ہے۔( ) البتہ! بیوی کے لئے اس کے شوہر کا سوگ چار مہینے دس دن ہے،( ) لہٰذا اس دوران اگر عید آگئی تو یہ عمدہ کپڑے نہیں پہن سکتی، نہ زیور پہن سکتی ہے۔

میت کی موجودگی میں چولہا جلانا کیسا؟

سُوال: کیا میت کی موجودگی میں کھانا بنانے کے لئے گھر کا چولہا جلانا جائز ہے؟(نگرانِ شوریٰ کا سُوال)
جواب: بالکل جلا سکتے ہیں، کوئی حرج نہیں۔ (5)

گھر والے بیوی سے نا راض ہوں تو شوہر کیا کرے؟

سُوال: میرے گھر والے میری بیوی سے راضی نہیں، وہ مجھے تو گھر آنے دیتے ہیں لیکن کہتے ہیں ”تمہاری بیوی آئی تو اسے بھگا دیں گے“ ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟(نگرانِ شوریٰ کا سُوال)
جواب: ظاہر ہے ماں باپ ہیں ان کے پاس جانا چھوڑ تو نہیں سکتے، ہاں! موقع پا کر ان کو نیکی کی دعوت دینی چاہیے، نیز اگر کوئی مسئلہ ہو جس کی وجہ سے والدین نا راض ہوں تو اسے حل کرنا چاہیے، ممکن ہےبیوی کی بد اخلاقی کی وجہ سے گھر والے ناراض ہوں، بہر حال معافی مانگ کر صلح صفائی کی صورت نکالنی چاہیے۔

بچوں کامَردوں کی صف میں کھڑا ہونا کیسا؟

سُوال:نمازی کے ساتھ نابالغ بچہ نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے تو          کیا اس شخص کی نماز ٹوٹ جائے گی؟
جواب: بچہ برابر میں کھڑا ہوگیا تو اس میں نمازی کا کیا قصور ہے؟ ہاں اگر صفیں قائم ہوتے وقت ایک ہی سمجھ دار بچہ موجود ہو جو نماز کو سمجھتا ہو تو وہ پہلی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے اور اگر ایک سےزائد بچے ہوں تو بہتر یہ ہے کہ ان کی صف پیچھے بنائی جائے،( ) لیکن نماز توڑ کر یا ڈانٹ کر انہیں پیچھے نہ کیا جائے کہ اس طرح ان کی دل آزاری ہوگی۔ بعض لوگ بچوں کو ڈانٹ کر یا گھسیٹ کر پیچھے کر دیتے ہیں، یہ غلط طریقہ ہے، یوں بچے مسجد سے دور ہوں گے اور انہیں مسجد سے وحشت ہوگی، لہٰذا بچوں کو محبت اور شفقت کے ساتھ پیچھے کیا جائے، اور اگر ناسمجھ بچہ صف میں کھڑا ہو جو نماز کو نہ سمجھتا ہو تو اس سے قطعِ صف ( صف کو کاٹنا) لازم آئے گا جو کہ حرام ہے۔( ) 

لوگوں کے کہے بغیر کسی کو ان کا سَلام پہنچانا کیسا؟

سُوال: کوئی کسی سے کہے کہ ”لوگوں نے آپ کو سلام کہا ہے“ حالانکہ ہر فرد نے نہیں کہا ہوتا  تو          کیا یہ جھوٹ ہوگا؟ ( )
جواب: اگر سب نے اسے اپنا وکیل بنایا ہے کہ ”ہمارا سَلام  پہنچادو“ تو ٹھیک ہے، ورنہ درست نہیں۔ لوگ عموماً مجھے کہتے ہیں کہ ”ہمارے سب گھر والوں یا گاؤں والوں نے آپ کو سلام کہا ہے“ اگر واقعی سب نے وکیل بنایا ہو تو حرج نہیں، ورنہ اپنی طرف سے اس طرح نہیں کہنا چاہیے۔ 

ایڈوانس کی رقم پر زکوٰۃ کا حکم

سُوال: جس مکان میں ہم رہتے ہیں ہم نے اس کے ایڈوانس کی رقم چالیس ہزار روپے دی ہے، کیا ان پر زکوٰۃ ہوگی؟
جواب: ایڈوانس کی رقم کے مالک آپ ہی ہیں، لہٰذا دیگر شرائط پائی جانے کی صورت میں اس پر بھی زکوٰۃ ہوگی۔ ( )

چاشت کی نماز کا وقت اور طریقہ

 سُوال: چاشت کی نماز کا وقت کیا ہے؟ نیز اس کی ادائیگی کا طریقہ بھی بیان فرما دیجیے۔(سائل: قدیر احمد، قصور)
جواب: اشراق کے ساتھ ہی چاشت کا وقت بھی شروع ہو جاتا ہے، البتہ! جب سورج گرم ہو جائے اس وقت چاشت کی نماز پڑھنا اچھا ہے، مگر ضحوۂ کبریٰ سے پہلے پڑھے، اگر کسی نے اشراق کے ساتھ ہی چاشت کی دو رکعت بھی پڑھ لیں تو ہو گئی۔  نمازِ چاشت مستحب ہے، کم از کم دو اور زیادہ سےزیادہ بارہ رکعتیں ہیں اور افضل بارہ ہیں۔( ) حدیث پاک میں ہے: جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں اللہ پاک اس کے لئے جنت میں سونے کا محل بنائے گا۔( )


ماخَذ و مَراجع

قرآن پاک

کلامِ الٰہی

 

نام کتاب

مصنف/مؤلف/متوفیٰ

مطبوعات

بخاری

امام محمدبن اسماعیل بخاری،   متوفی۲۵۶ھ

دارالکتب العلمیہ۱۴۱۹ھـ

ابو داود

امام ابوداود سلیمان بن اشعث سجستانی، متوفی ۲۷۵ھ

دار احیاء التراث العربی بیروت۱۴۲۱ھ

مستدرک

امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ حاکم نیشاپوری، متوفی ۴۰۵ھ

دار المعرفۃ  بیروت ۱۴۱۸ھ

ترمذی

امام محمد بن عیسٰی ترمذی،   متوفی۲۷۹ھ

دارالفکربیروت۱۴۱۴ھـ

معجم اوسط

حافظ سلیمان بن احمد طبرانی   ،متوفی۳۶۰ھ

دارالکتب العلمیۃ  بیروت ۱۴۲۰ھ

شفا

القاضی ابو الفضل عیاض مالکی،  متوفی ۵۴۴ھ

مرکز اہلسنت برکات رضا ہند ۱۴۲۳ھ

درمختار

علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی، متوفی ۱۰۸۸ھ

دار المعرفۃ بیروت ۱۴۲۰ھ

رد المحتار

سید محمد امین ابن عابدین شامی، متوفی ۱۲۵۲ھ

دار المعرفۃ بیروت ۱۴۲۰ھ

فتاویٰ ھندية

شیخ نظام الدین وجماعت علمائے ہند

دار الفکر بیروت۱۴۱۱ھ

حیاة الحیوان الکبریٰ

کمال الدین محمد بن موسی الدمیری، متوفی ۸۰۸ھ

دارالکتب العلمیۃ  بیروت

فتاویٰ رضویہ

اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان ،متوفی ۱۳۴۰ھ

رضا فاؤنڈیشن، لاہور

ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت

مفتی اعظم ہند محمد مصطفےٰ رضا خان، متوفی ۱۴۰۲ھ

مکتبۃ المدینہ کراچی

فتاویٰ اہل سُنَّت

مجلسِ افتاء

مکتبۃ المدینہ کراچی


 …… پ۲، البقرة: ۲۱۶۔
 …… حیاة الحیوان الکبریٰ، باب العین المھملة،  ۲/ ۱۶۳۔
 …… فتاویٰ رضویہ، ۲۱/۴۵۹۔2…… فتاویٰ رضویہ، ۲۱/۶۰۳۔
 ……  صدرُ الشریعہ بدرُ الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   نمازِ حاجت کا طریقہ بیان کرتے  ہیں:حضرتِ سیِّدُنا حُذَیفہ رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُ سے روایت ہے: جب حُضُورِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کو کوئی اَہم معاملہ پیش آتا تو نَماز پڑھتے۔ (ابوداود،کتاب التطوع، باب وقت قیام النبی من اللیل،۲/۵۲،حدیث:۱۳۱۹۔) اس کے لیے  دو یا چاررَ کعت پڑھے۔ حدیثِ پاک میں ہے  :    ’’پہلی رَکعت میں سورۂ فاتِحہ اور تین بار آیۃُ الکُرسی پڑھے اور باقی تین رَکعتوں میں سورۂ فاتِحہ اور قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَق اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس ایک ایک بار پڑھے  تو یہ ایسی ہیں جیسے شب ِ قَدر میں چار رکعتیں پڑھیں ۔‘‘ مشائخِ     کرام  فرماتے ہیں  : ہم نے یہ نَماز پڑھی اور ہماری حاجتیں پوری ہوئیں۔ حضرتِ سیِّدُناعبد اللّٰہ   بن اَوفیٰ     رَضِیَ  اللہ   عَنْہُ   سے روایت ہے کہ حُضورِ اقدس  صَلَّی  اللہ  عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں  :    جس کی کوئی حاجت  اللّٰہ پاک کی طرف ہو یا کسی بنی آدم(یعنی انسان) کی طرف تو اچھی طرح وُضو کرے پھر دو رَکعت نماز پڑھ کر اللّٰہ   پاک      کی ثنا کرے اورنبی     صَلَّی  اللہ عَلَیْہِ  وَسَلَّمَ     پر دُرُود بھیجے پھر یہ پڑھے: لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ سُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن اَسْأَ لُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِیْمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَّالسَّلَامَۃَ مِنْ کُلِّ اِثْمٍ لَّا تَدَعْ لِیْ ذَنبًا اِلَّا غَفَرْتَہٗ وَلَا ھَمًّا اِلَّا فَرَّجْتَہٗ وَلَا حَاجَۃً ھِیَ لَکَ رِضًا اِلَّا قَضَیْتَھَا یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔
 (ترمذی، کتاب الوتر، باب ماجاء فی صلاة الحاجة، ۲/۲۱، حدیث: ۴۷۸۔بہار شریعت ، ۱/۶۸۵،حصہ:۴۔)
 …… ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۴۴۴۔
 …… بخاری، کتاب الجنائز، باب حد المراة علی غیرزوجھا، ۱/۴۳۳، حدیث: ۱۲۸۱۔
 …… فتاویٰ ھندية، کتاب الصلاة، الباب السابع عشر  فی صلاة العیدین، ۱/۱۴۹۔ 
 …… فتاویٰ رضویہ، ۲۲/۲۳۷۔
 …… بخاری، کتاب الجنائز، باب حد المراة علی غیرزوجھا، ۱/۴۳۳، حدیث: ۱۲۸۱۔5…… فتاویٰ رضویہ، ۹/ ۹۰۔
 …… اس مسئلے کے ضمن میں فتاویٰ رضویہ جلد  7 صفحہ نمبر 207  سے ایک سُوال جواب پیش خدمت ہے: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک سمجھ وال (سمجھ دار) لڑکا آٹھ نوبرس کاجونمازخوب جانتاہے، اگرتنہاہو تو آیا اسے یہ حکم ہے کہ صف سے دورکھڑا ہویاصف میں بھی کھڑاہوسکتاہے؟ جواب: صورتِ مُسْتَفْسَرَہ (یعنی پوچھی گئی صورت) میں اسے صف سے دور یعنی بیچ میں فاصلہ چھوڑکرکھڑا کرنا تومنع ہے۔ کیونکہ ممیزبچے (جونماز کوجانتاہو) کی نمازقطعاً صحیح ہے اور حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ    عَلَیْہِ وَ سَلَّم نے صفوف میں خلا نہ چھوڑنے اور متصل رکھنے کاحکم دیا ہے اوراس کے خلاف پرنہی شدید فرمائی ہے۔ اور یہ بھی کوئی ضروری امرنہیں کہ وہ صف کے بائیں ہی ہاتھ کوکھڑا ہو، علماء اسے صف میں آنے اور مردوں کے درمیان کھڑے ہونے کی صاف اجازت دیتے ہیں۔ بعض بے علم جویہ ظلم کرتے ہیں کہ لڑکا پہلے سے داخل نماز ہے اب یہ آئے تواسے نیت بندھا ہوا ہٹاکر کنارے کردیتے اور خود بیچ میں کھڑے ہوجاتے ہیں یہ محض جہالت ہے، اسی طرح یہ خیال کہ لڑکابرابر کھڑا ہوتو مرد کی نماز نہ ہوگی غلط وخطا ہے جس کی کچھ اصل نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، ۷/۲۰۹ ملتقطاً      )
 …… فتاویٰ رضویہ، ۷/۱۵۰۔
 …… یہ سُوال شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اَہلِ سُنَّت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اَہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے۔(شعبہ ملفوظاتِ اَمیرِ اَہلِ سُنَّت)
 …… کرایہ کے مکان پر ایڈوانس کی مد میں دی جانے والی رقم بظاہر امانت ہوتی ہےلیکن حقیقتاً قرض کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ معروف و معھود بین الناس (یعنی لوگوں کے درمیان) یہی (مشہور) ہےکہ مالک مکان اس رقم کو استعمال کرے گااور مکان خالی کرنے پر ادا کرے گااور یہی قرض کا مفہوم ہے۔ قاعدہ مسلمہ ہے”المعروف کالمشروط“ یعنی جو معروف ہے وہ مشروط کی طرح ہے۔لہٰذا اگر کرایہ دار پہلے سے مالک نصاب ہو یا اب ایڈوانس کی رقم تنہا طور پر یا دیگر اموالِ زکوٰۃ سے ملانے پر نصاب مکمل ہو جاتا ہو تو نصاب کا سال پورا ہونے پر حاجتِ اصلیہ اور قرض کو منہا کرنے (یعنی الگ کرنے) کے بعد بقیہ رقم حدِ نصاب کو پہنچتی ہوتو سال کے اختتام پر جو رقم موجود ہو خواہ یہی ایدوانس کی مد میں دی جانے والی رقم اور دیگر اموالِ زکوٰۃ ان سب پر زکوٰۃ  دینا فرض ہوگی۔ ہاں اس ایڈوانس والی رقم پر زکوٰۃ کی ادائیگی کا مطالبہ جب ہوگاجب اسے اس رقم میں سے کم ازکم خمس یعنی پانچواں حصہ وصول ہوجائے گا۔ (فتاویٰ اہل سُنَّت، احکام الزکوٰۃ،ص۲۷۰)
 …… در مختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ۲/ ۵۶۳تا ۵۶۴۔
 …… ترمذی، کتاب الوتر، باب ما جاء فی صلاة الضحی، ۲  /  ۱۷، حدیث: ۴۷۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن