سوال:کیا ختمِ قرآنِ پاک کے بعد بھی تَراویح پڑھنا ضَروری ہوتا ہے؟
جواب:ختمِ قرآنِ پاک کہیں 21 رَمَضان کو ہو جاتا ہے تو کہیں 27 یا 29 رَمَضان کو ہوتا ہے۔تَراویح کی ایک ایک رَکعت پڑھنا ضَروری ہے، کوئی رَکعت مُعاف نہیں ہے۔ رَمَضان ُالمبارک میں پورا مہینا 20 رَکعتیں پڑھنا سُنَّتِ مؤکدہ ہے۔( )
سوال:اگر کوئی مسلمان ہو کر قرآنِ پاک کی آیاتِ مُبارَکہ میں بیان کردہ اَحکامات پر عمل نہ کرے تو کیا اِس کے باوجود وہ مسلمان کہلائے گا؟
جواب:ایسا شخص اگر قرآنِ پاک پر اِیمان رکھتا ہے اور اس کے ایک ایک حَرف کی دِل سے تَصدیق کرتا ہےجسے اللہ پاک نے نازِل فرمایا ہے تو وہ مسلمان ہے۔قرآنِ پاک پر عمل نہ کرنا گناہ ہے لیکن کُفر نہیں ہے۔( ) 99 فیصد لوگ ایسے ہیں جو مسلمان کہلاتے ہیں لیکن نماز نہیں پڑھتے اور نہ ہی روزہ رکھتے ہیں ایسے لوگ گناہ گار ضَرور ہوں گے مگر ان کے بارے میں یہ حکم نہیں لگایا جائے گا کہ وہ اِسلام سے نکل گئے یا کافر ہو گئے۔
سوال:اَولادِ نَریْنہ کسے کہتے ہیں؟
جواب:عوام کی زبان پر نَریْنہ لفظ چڑھا ہوتا ہےلیکن اِس کا مطلب معلوم نہیں ہوتا۔اِس کا مطلب ہوتا ہے لڑکا ۔
سوال:کیا داڑھی رکھنا سنَّت ہے؟نیز جو لوگ داڑھی نہیں رکھتے تو کیا وہ گناہ گار ہوں گے؟
جواب:اِس طرح تو لوگ یوں بھی کہہ دیں گے کہ نماز فرض ہے لیکن اسے رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ادا کیا ہے تو یہ سنَّت ہو گئی۔اصل بات تاکید کی ہوتی ہے۔داڑھی رکھنا بے شک پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی سنَّت ہے لیکن اِس کے رکھنے کی بہت تاکید ہے۔ہم حنفی ہیں اور مذہبِ اَحناف میں داڑھی رکھنا واجب ہے،اسے ایک مٹھی سے کم کرنا یا سرے سے مُنڈا دینا گناہ و حرام ہے۔( )(اِس موقع پر مفتی صاحب نے فرمایا:)داڑھی رکھنا سنَّت ہے،اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ سنَّت سے ثابت ہے۔یوں ہی عید کی نماز کا بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ سنَّت ہے مگر اِس کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ اِس کا ثبوت سنَّت سے ہے لیکن اِن پر تاکید اتنی ہے کہ اِن کا حکم واجب ہو گیالہٰذا یہ دونوں واجب ہیں۔ (2)
سوال:سفر کے دَوران یا کسی محلے سے گزرتے ہوئے لوگ کسی داڑھی یا عمامے والے شخص کو چھیڑتے ہیں اور آوازیں کستے ہیں، اِس پر کیا رَدِ عمل ہونا چاہیے؟
جواب:لوگ ہر داڑھی یا عمامے والے کو نہیں چھیڑتے،اُسی کو تنگ کرتے اور چھیڑتے ہیں جو آگے سے جواب دیتا یا غصہ کرتا ہے۔اَلْحَمْدُ للہ جب سے میری داڑھی آئی ہے اُس وقت سے میں نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور سفر بھی بیشمار کیے ہیں،ہمیں بھی لوگ تنگ کرتے اور پتھر مارتے تھے اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ کوئی شراب کے نشے میں چُور ہوتا تھا لیکن اِس کے باوجود کہہ رہا ہوتا تھا کہ مولانا صاحب دُعا کرنا۔آج کے دور میں بھی کافی تعداد میں ہمدردی کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ بہر حال اِس کا حل یہ ہے کہ جو لوگ چھیڑتے ہیں انہیں جواب نہ دیا جائے۔(اِس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے فرمایا:)جو شخص لوگوں سے فری ہوتا ہے یا مل جُل کر رہتا اور بے تکلّفی والا مزاج رکھتا ہے تو ایسے شخص کو لوگ چھیڑتے ہیں،نئے شخص کو کوئی نہیں چھیڑتا۔
سوال:عذابِ قبر سے بچنے کے لیے کون سے نیک اَعمال کرنے چاہئیں جن کے سبب قبر کے عذاب سے بچا جا سکے؟
جواب:نماز ،روزہ اور دِیگر فرائض و واجبات ادا کرتے رہنے سے بھی بندہ عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ روزانہ پابندی کے ساتھ اگر کوئی سورۂ ملک پڑھے گا تو بھی عذابِ قبر سے اَمن میں رہے گا، سورۂ ملک عذابِ قبر سے بچاتی ہے،اِسی لیے اِس کا ایک نام مُنْجِیَہ بھی ہے۔( )اللہ پاک ہم سب کو عذابِ قبر سے محفوظ فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
سوال:جو لوگ چلتے پھرتے منہ میں مِسواک کرتے رہتے ہیں کیا ان کا ایسا کرنا دُرُست ہے؟
جواب:عرب اَمارات میں دیکھا گیا ہے کہ وہاں پر ڈرائیور اپنی نیند دور کرنے کے لیے منہ میں مسواک رکھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً مسواک کرتے رہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے منع کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
سوال:مندرجہ ذیل شِعرکی وَضاحت فرما دیجئے:
مانندِ شمع تیری طرف لَو لگی رہے دے لطف میری جان کو سوز و گداز کا
جواب:اِس شِعر کا مطلب یہ ہے کہ یَا اللہ میری توجہ تیری طرف ہی لگی رہے کہ بس تیری ہی محبت میں تڑپتا رہوں، جس طرح ایک پَروانے کی توجہ صرف شمع کی طرف لگی رہتی ہے،اِسی طرح میرا دِل تیری محبت میں جلتا رہے۔ (اِس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے فرمایا:) اِس مفہوم کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے:
رہوں مَست و بےخود میں تیری وِلا میں پِلا جام ایسا پِلا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
قرآنِ مجید کلامِ الٰہی ****
کتاب کا نام مصنف/مؤلف/متوفیٰ مطبوعات
ترمذی امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی، متوفی۲۷۹ھ دار الفکر بیروت۱۴۱۴ھ
فردوس الاخبار شیرویہ بن شہردار بن شیرویہ الدیلمی، متوفی ۵۰۹ھ دارالفکربیروت۱۴۱۸ھ
اشعة اللمعات شیخ عبد الحق محدث دہلوی، متوفی ۱۰۵۲ھ کوئٹہ
مراٰة المناجیح حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور
درمختار علاؤالدین محمد بن علی حصکفی،متوفی۱۰۸۸ھ دارالمعرفۃبیروت۱۴۲۰ھ
رد المحتار سید محمد امین ابن عابدین شامی،متوفی۱۲۵۲ھ دارالمعرفۃ بیروت۱۴۲۰ھ
حاشية الطحطاوی علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل طحطاوی ،متوفی۱۲۳۱ھ دارالکتب العلميۃ بیروت
فتاویٰ ھندية ملانظام الدین، متوفی۱۱۶۱،وعلمائے ھند دارالفکربیروت۱۴۱۱ھ
فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ رضا فاؤنڈیشن لاہور۱۴۲۷ھ
بہارِشریعت مفتی محمد امجد علی اعظمی، متوفی۱۳۶۷ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۹ھ