اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
کیا گائے اوربکرى کا جُوٹھا پاک ہے؟ ( )
شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۱۰صَفحات) مکمل پڑھ لیجیےاِنْ شَاءَاللہ معلومات کا اَنمول خزانہ ہاتھ آئے گا۔
فرمان ِمصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم:مسلمان جب تک مجھ پر دُرُود شرىف پڑھتا رہتا ہے فَرِشْتے اس پر رحمتىں بھىجتے رہتے ہىں، اب بندے کى مرضى ہے کم پڑھے ىا زىادہ۔( )
صَلُّو ْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
سُوال:کیا گائے اوربکرى کاجُوٹھا پاک ہے؟
جواب:گائے، بکرى اور اونٹ گھرىلو جانور ہىں اور گھرىلو حلال جانوروں کا جُوٹھا پاک ہے، اس سے وضو اورغسل جائزہے۔ ( ) البتہ! گائے، بکرے اور اونٹ کھانا ہضم کرنے کے لىے معدے کے اندر سے جھاگ نکالتے ہیں اسے جُگالى کہاجاتا ہے، ىہ جھاگ ناپاک ہیں۔( ) اگر پانى کے برتن مىں ىہ جھاگ گر گئے یا ان کے منہ پر جھاگ لگے ہوئے ہوں اور برتن مىں منہ ڈال دیا تو وہ پانى ناپاک ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر بلى نے چوہا کھاىاہواور اس کے منہ پر خون لگا ہو اور اس نے پتىلى مىں منہ ڈال دىا تو اب وہ پانى ناپاک ہوجائے گا، لیکن اگر اس نے زبان سے چاٹ کر بالکل صاف کرلىا اور پھر برتن میں منہ ڈالا تو پانی ناپاک نہىں ہوگا۔( ) نجاستىں کھانے کی عاد ى مرغىوں کا بھی یہی حکم ہے۔ بہر حال احتىاط ضروری ہے۔
(اس موقع پر مفتى صاحب نے فرمایا :)بلى کا جُوٹھا ناپاک نہىں ہے، البتہ! گائے وغىرہ اگر جَلَّالہ ہوں اور ان کے منہ پر نجاست لگى ہوئی ہو تو اِن کا جُوٹھا ناپاک ہے اور اگرنجاستىں کھانے کی عادی ہوں تو ان کا جُوٹھا مکروہ ہے۔( )
سُوال:کیا کَٹّی اور ویڑی کى قربانى کرسکتے ہىں؟ (سائل:محمد ىاسر، اسلام آباد)
جواب: ویڑا وىڑى، کَٹّا کَٹّی یہ نام عموماً پنجابی میں بولے جاتے ہیں۔بھینس کے نر بچےکو ” کَٹّا“ اور مادہ کو” کَٹّى“ کہا جاتا ہے نیز بچھڑے کو”ویڑا“اور بچھڑى کو”وىڑى“ کہا جاتا ہے۔ ان جانوروں کی عمر دو سال ہوجائے تو ان کى قربانى جائز ہے۔( )
سُوال:کیا بکرى کا گوشت کھانا سُنَّت ہے؟
جواب:بکرى کا گوشت سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم سے کئى بارکھانا ثابت ہے۔ (4)
سُوال:نجاست کھانے اور پینے والے جانور کی قربانی کرنا کیسا؟ (5)
جواب:آنڈو بکرے، بىل اوربچھڑے جو صرف پىشاب پىتے ہوں ان کے گوشت مىں بدبو ہوجاتى ہے، جب یہ باہر نکلتے ہیں تو گلى مىں بدبو پھىل جاتی ہےاِن کو ”جَلَّالہ“ کہا جاتا ہے، ایسے جانوروں کى قربانى جائز نہىں اورقربانی کے علاوہ بھی ان کا گوشت کھانا مکروہ ہے۔ (6)البتہ! اگر ان کو باندھ کر رکھا جائے اور کسی طریقے سے اِن کو گندگى کھانے پىنے سے روک کر صرف چارہ ىا غِذا کھلائی جائے، ىہاں تک کہ بدبو ختم ہوجائےتو اب ىہ جَلَّالہ نہىں رہے، لہٰذا ان کى قربانى جائز ہے نیز ان کا گوشت کھانا بھى صحىح ہے۔( )یاد رہے!قربانى کرنے والوں کویہ مسائل سیکھنابہت ضرورى ہىں اور سیکھنے کےبعد ہی قربانى کا جانور خرىدناچاہیے۔
سُوال:اىک بکرے کا کان ایک مٹھی سے کم کٹا ہوا ہے اور کھاتے ہوئے منہ ٹیڑھا کرتا ہے کىا اس کی قربانى جائز ہے نیز کىا ایسےبکرے کو عیب بتائے بغیر بیچنا جائز ہے؟
جواب: جانور کے کان کا تہائی یعنی تىسرا حصہ کٹا ہوا ہو تو قربانى ہوجائے گى، لىکن مکروہ ہوگى اور تہائی سے زىادہ کٹا ہو تو قربانى نہىں ہوگى۔ یاد رہے!شریعت میں مٹھى کا اعتبار نہىں ہے، بعض اوقات کان بہت چھوٹےہوتے ہىں تو مٹھى مىں کیسے آئىں گے ؟ بہتر ىہ ہے کہ جانورمىں معمولی سابھی عیب نہ ہو اگر کان مىں سوراخ ہےیا کان چِرے ہوئے ہىں توقربانى مکروہ تنزیہی یعنی ناپسندىدہ ہوگی۔(2) یاد رہے! بعض لوگ عیب دار جانور کی قربانی کرکے کہتے ہیں”اللہ معاف کرے گا“ اور” سب چلتا ہے“ایسا کہنا بےباکى ہے۔ جن کاموں کو بھى شرىعت نے غلط کہا ہے وہ ہمارے کہنے سے صحیح نہىں ہوجائیں گے۔ ہم اللہ پاک کے بندے ہىں اور بندہ حکم کا پابند ہوتا ہے اپنى چلانے والا نہیں ہوتا، اپنى چلانے والےکو ”سرکش“ اور ”باغى“ کہتے ہىں۔ اللہ اور اس کےرسول کے حکم پر ہماری آنکھىں بند ہىں ۔
جانور کاچھپا ہوا عیب بتانا ضروری ہے، جو عیب نظر آرہا ہواسے بتانے کی حاجت نہىں ہے۔ یاد رکھیے! شىطان ہمارا خیر خواہ نہىں ہے، وہ بىچنے والے کو عیب بتانے سے بہکاتا ہے اور خرىدنے والے کواس طرح بہکاتا ہےکہ اتنى بارىکىاں کىا دىکھنا! اگر ہمیں جانوروں کے عُیُوب کاعِلْم ہو یا کوئى اىسا تجربہ کارشخص ساتھ ہو جسے ان چیزوں کا علم ہو تو جانور خرىدنے مىں آسانی ہوگی ورنہ نقصان کا اندیشہ ہے۔
دینی مسائل کے مشکل ہونے کی وجہ سے کہنے والے کہہ گئے کہ ”ہمارا بس چلتا تو تمہىں علم گھول کر پلا دىتے!“ کاش اىسى کوئى ترکىب بن جائے کہ علم کے جام گھول کر پى لىں۔ لوگوں کی دینی احکام سے ناواقفیت بہت زیادہ ہے، نماز پڑھنا نہیں آتى، حج کرنے جاتے ہىں تو بہت ساری غلطیاں کرتے ہىں، مثلاًعرفات کے باہر ہی رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کاحج نہیں ہوتا حالانکہ اپنے آپ کو حاجى سمجھ رہے ہوتے ہیں! اىک لمحے کے لىے بھى حج کے وقت میں احرام کے ساتھ مىدانِ عرفات میں داخل ہونے سے حج ہوجائے گا لىکن کثیر تعداد باہر ہی رہتی ہے۔ اگر ہمىں خدمت کا موقع ملے تو ہم مُبَلِّغِین کى سب جگہ ذمہ داری لگا دىں گےاور وہ پىار محبت سے مختلف زبانوں میں مسائل سکھاکر حقىقى حاجى بنانے کے لىے مىدانِ عرفات سے باہر رہنے والے لوگوں کو اندر لائیں گے۔ اللہ کرىم اىسے اسباب بنادے کہ دعوتِ اسلامى کو اجازت مل جائے۔
سُوال:کىا جانور فَرِشْتوں کو دىکھ سکتے ہىں؟
جواب:تمام جانوروں کے بارے میں عِلْم نہیں البتہ مُرغ کے بارے میں حدیث شریف ہے:جب وہ فَرِشْتوں کو دىکھتا ہے تو اذان دىتا ہے اس وقت اللّٰہ پاک سے اس کا فضل مانگنا چاہىے۔( )
سُوال:”حُقُوق العباد“ کا کیا مطلب ہے؟
جواب:”عِباد“عبد کی اور ”حُقُوق“ حق کی جمع ہے،عبد کا معنیٰ ہے بندہ ،”حُقُوق العباد“ کا مطلب ہےبندوں کےحقوق۔
سُوال:کىا جنات بھى قربانى کرتے ہىں، نیز کیا ان کے جانور بھی ہمارے جانوروں کی طرح ہوتے ہیں یا کوئی اور جانور ہوتے ہیں؟(سائل:حمزہ عطارى، ہند)
جواب:انسان اور جنات دونوں ہى عبادت کے لىے پىداکئے گئے ہىں، جنات نمازىں پڑھتے، حج کرتے اور مدىنے کى زىارت بھی کرتے ہىں نیز ان کے بغداد میں حاضر ہونےکی حکاىتىں بھی موجود ہیں۔
(اس موقع پر مفتى صاحب نے فرمایا:)انسان کی طرح جنات بھی عبادت کے مُکَلَّف ہىں ىعنى ان پر بھى عبادتىں مقرر ہىں۔( ) قربانى کے لئےان کاکوئى الگ جانور ہوتا ہو تو معلوم نہىں ۔
سُوال:کىا آپ نے مدىنے شرىف مىں سَىِّدِى قُطبِ مدىنہ حضرت مولانا ضیاء الدین احمد مدنی رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کے ساتھ کبھى بارگاہِ رسالت مىں حاضرى دی ہے؟(نگرانِ شورٰی کا سُوال)
جواب:سَىِّدِى قُطبِ مدىنہ حضرت مولانا ضیاء الدین احمد مدنی رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کو مىں نے کبھى اپنے آستانے سے باہر نکلتے ہوئے نہىں دىکھا، ضُعف و کمزورى کی وجہ سے آپ گھر میں تشرىف فرما رہتے تھے، مجھے ىاد نہىں کہ مىں نے انہیں کھڑے ہوئے بھى دىکھا ہو ۔
سَیّدِى قُطبِ مدینہ کی عمر مبارک کتنى تھی؟
سُوال:سَىِّدِى قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کی عمر مبارک کتنى تھی؟(نگرانِ شورٰی کا سُوال)
جواب:سَىِّدِى قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کی عمر مبارک وصال کے وقت 107 سال تھی، اىک سال پہلے مىرى حاضرى ہوئى تھى اس وقت آپ کی عمر 106سال کى تھی مگر آپ کی ذہانت عقل مندوں سے زىادہ تھى، حافظہ بہت مضبوط تھا۔
سَیّدِى قُطبِ مدینہ کے آستانے کی خاص بات!
سُوال: آپ نے سَىِّدِى قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کے آستانےپر کوئى خاص بات دىکھی ہے؟(نگرانِ شورٰی کا سُوال)
جواب: سَىِّدِى قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کے آستانے کا پوسٹ باکس(Post Box) نمبر بھى عشقِ رسول والا تھا ”92“۔ جب مىں مدىنے شرىف سے واپس آیا تھا توآستانے پر خط بھیجتا تھا۔ سَىِّدِى قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کا اىک معمول تھا کہ سارے خُطوط پر لکھے نام اسلامى بھائى سے سنتے اور آپ نام سن کرسب کو پہچان لیتے تھے۔ مىرے خط بہت زیادہ جاتے تھے،اىک بار آپ نے فرماىا : آدھے خط الىاس کے ہوتے ہىں ۔
سَیِّدِی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ بہت اچھی گفتگو کرتے تھے، نصىحتىں کرنا اور آنے والے کو حىثىت کے مطابق عزت دىنا آپ کی عادت تھی مگر کھڑے ہو کر کسی کا اِستقبال فرماتے ہوئے کبھى نہیں دىکھا۔ مىں اس بات پر بہت تعجب کرتا تھا کہ آپ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کىسى عظیم ہستى ہیں کہ دنىا کے بڑے بڑے جىّدعلما اور مشائخ آکر آپ کى قدم بوسى کرتے ہیں!
سَیِّدِی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ بہت زیادہ عاجزى کرنے والے تھے۔ ہماری یہ خواہش ہوتی ہے کہ محفل مىں دعا ہم کروائیں ورنہ ہم ناراض ہوجاتے ہیں! لىکن سَىِّدِی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کا انداز نرالہ تھا، محفل کے بعد کبھى کبھار آپ نےدعا کروائی ، عام طور پر دوسروں سے ہى کرواتے تھے۔آپ جسے دعا کروانے کا حکم دىتے تو وہ کروا دیتا تھا ۔ آپ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ سےکوئى دعا کے لیے عرض کرتا توفرماتے ”دعا گَو بھى ہوں دعاجو بھى ہوں“ یعنی دعا کرتا بھى ہوں اور دعا چاہتا بھى ہوں مىرے لىے بھى دعا کرو۔