سُوال: 92کا کیا مطلب ہے؟(نگرانِ شورٰی کا سُوال)
جواب: 92اىک عدد ہے اور ىہ اس لىے مُقَدَّس اور مُتَبَرَّک ہے کہ عِلْم ُالْاَعْدَاد کے مطابق لفظِ محمد کے 92 عدد بنتے ہىں۔ لفظِ اللہ کے 66 عددبنتے ہىں۔ ہوسکتا ہے سَىِّدِی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ نے درخواست دی ہواور92 نمبر ملا ہو اور اگر اِتفاق سے ملا ہو تو ىہ بھى اىک کمال ہے ۔
سَىِّدِی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ مىرے آقا ومولا ہیں اور آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے صدقے اِنْ شَاءَاللہ قیامت کے دن مىرى شفاعت فرمائىں گے کیونکہ ہر پىر قیامت کے دن اپنے مرىدوں کى شفاعت کرے گا۔( )
سُوال:آپ سىالکوٹ تشریف لے گئے ہیں ، تو کیا کبھى” کِلاس والا“حاضری دی ہے؟(نگرانِ شورٰی کا سُوال)
جواب: مجھے بالکل ىاد نہىں کہ ” کِلاس والا“ مىرى حاضرى ہوئى ہے۔ کتابوں مىں لکھا ہے کہ سَىِّدی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ سىالکوٹ مىں ” کلاس والا“ مىں پىدا ہوئے۔ اس وقت ” کِلاس والا“ کى شہرت نہىں تھى شہرت بعد مىں ہوئى ہے، کىونکہ بڑے شہر کا نام مشہور ہوتا ہے اور مشہور جگہ ہی تعارف میں بیان کی جاتی ہے، مثلاً کسی دوسرے شہر مىں جائىں گے تو بولىں گے کراچى سے آئے ہوئے ہیں، باہر ملک جائىں گے تو کراچى نہىں بولىں گے بلکہ یہ کہیں گے کہ پاکستان سے آئے ہوئے ہىں جىسا کہ مىں جس محلے مىں پىدا ہوا اس کو شہرت نہىں ہے لیکن کراچى مىں پىدا ہوا تو یہ کئی لوگوں کو معلوم ہوگا ۔
سُوال: آپ کو سَىِّدِی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ نے کوئى تحفہ عطا کیا ہے؟(نگرانِ شورٰی کا سُوال)
جواب: حضرت سَىِّدِی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کے گھر مىں چائے کا تھرماس بھرا رہتا تھا جو بھى مہمان آتا اس کى چائے سے مىزبانى کى جاتى تھى، وہ چائے مىں نے کئى بار پى ہے، کىونکہ مىں دن میں عام طور پر آپ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کے گھر دو بار حاضرى دىتا تھا ، اىک شام کو عصر کے بعد، دوسرا عشا کے بعد ، آپ کے گھر بلاناغہ محفل ہوتى تھى۔
سُوال: سَىِّدِی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کی بارگاہ میں حاضرى کے وقت آپ کی کیا نىتىں ہوتى تھیں؟
جواب: اس وقت ہمارا یہ مَدَنی ماحول نہىں تھا،تو کچھ ىاد نہىں ہے۔دن مىں عام طور پر دو مرتبہ سَىِّدِی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کی بارگاہ میں حاضرى ہوتی تھی۔ مىں جَدَّہ شرىف سے مدىنہ شرىف حاضر ہوا تھا پھر مدىنہ شرىف مىں دو یاسَوا دو مہىنے رہا تھا۔ پھر وہىں سے حجِ قِران کا احرام باندھا تھا۔
سُوال: سَىِّدِی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کا ایک اىمان افروز فرمان آپ نے بیان فرمایا تھا کہ ”اِلىاس تم جا نہىں رہے ہو تم آرہے ہو“اس قول کا کیا مطلب ہے ؟(نگرانِ شورٰی کا سُوال)
جواب:مجھےاس وقت کچھ سمجھ نہیں آیا کیونکہ ظاہری معنی بالکل واضح تھا کہ مىں کراچى وطن جارہا ہوں اور ىہ فرمان کہ ”تم جا نہىں رہے ہو آرہے ہو“ اُس وقت مجھےاس کا مطلب سمجھ نہیں آیا، بعد مىں پتا چلا کہ آپ کىا فرمارہے تھے، بڑوں کى باتیں بڑى ہوتى ہىں ۔ان کے بول سے مىرا کام بن گىااور اَلْحَمْدُ للہ بار بار مىرى حاضرى ہوئى۔
سُوال:اَولىائے کِرام کى زبان سے کچھ اىسے کلمات نکلتے ہیں جو زندگى کا حصہ بن جاتے ہىں ىاان کی کہی ہوئی بات پوری ہوتی ہے، اس معاملے مىں آپ کےکیا تجربات ہىں ؟(نگرانِ شورٰی کا سُوال)
جواب:بے شک اللہ پاک اپنے نىک بندوں کے جس بول کو چاہتا ہے اپنے کرم سے پورا کردىتا ہے۔ اس مىں تجربات کىا! ىہ تو حقىقت ہے، کتابوں مىں اس کى بے شمار حکاىتىں موجود ہیں۔
(اس موقع پر مفتى صاحب نے فرمایا:) مسلم شرىف کى رواىت ہے:اللہ کے بندوں مىں سے بہت سے وہ ہىں کہ اگر اللہ پر قسم اٹھالیں تو اللہ اس کو پورا فرمادىتا ہے۔( )
سُوال:سَىِّدِی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کا مزارِ مبارک بقىع شرىف مىں ہے، کیا آپ نے ان کی قبرِ انورپر حاضری دی ہے؟( مفتى صاحب کا سُوال)
جواب: مىں سِن 80 سے کہتا آرہا ہوں کہ جَنَّتُ الْبَقِیْع مىں اىک ہى بار جاؤں گاپھر واپس نہىں آؤں گا۔ جَنَّتُ الْبَقِیْع مىں ہر قدم پر مزارات ہىں، وہاں کم و بىش دس ہزار صحابہ کرام کے مزارات ہىں، نہ جانے کس صحابى، کس ولى، اہلِ بیتِ اطہار کے کس فرد کا مزارکہاں ہو؟کہاں پاؤں لگ جائے؟ قبروں پر پاؤں رکھے بغىر اندر جانا ممکن نہىں ہے، سب جگہ راستے بنے ہوئے ہىں۔ اگر مسلمانوں کی قبر مٹا کر راستہ بنانے کا شک ہو تب بھى اس راستے پر پاؤں نہىں رکھ سکتے۔( ) ىہ عام مسلمانوں کى قبروں کا مسئلہ ہے، جَنَّتُ الْبَقِیْع تو بہت عظیم جگہ ہے، اس پر بندہ کىسے پاؤں رکھنے کى جرأت کرے؟اسی لیےکبھى بھى مىں نے جَنَّتُ الْبَقِیْع مىں داخل ہونے کى جرأت نہىں کى۔ لوگ کسى کى تدفىن کرنے جاتے ہىں تو بڑا خوش ہوکر لوگوں کو بتاتے ہیں کہ ہم بقىع مىں تدفىن کے لىے گئے تھے!
مىں جَنَّتُ الْبَقِیْع کے باہر فٹ پاتھ پر رات میں جا کر بىٹھتا تھا، اىک بار مىں فٹ پاتھ پر بىٹھا ہوا تھا تو مىں نے نوٹ کىا کہ گاڑىوں کے گزرنےکى وجہ سےزمىن تھر تھرا رہی ہے، اس وقت مجھے یوں لگا کہ اہلِ بقىع کو ان گاڑىوں کی آواز سے تکلىف ہورہى ہے ۔ میری خواہش ہے کہ ىہاں سے کوئی گاڑى نہىں گزرنی چاہىے، سارا روڈ بلاک ہونا چاہىے۔
امام مالک رَضِىَ اللہُ عَنْہُ بہت بڑے عاشق رسول تھے، ادب و احترام کی وجہ سے مدىنہ مىں سوارى نہىں کرتے تھے۔( ) مدىنے کى سر زمىن پر پاؤں مىں جوتے بھى نہىں پہنتے تھے پىدل ہى چلتے تھےاور واش روم(Wash Room) کے لىے بھى مدىنے سے باہر جاتے تھے، البتہ مجبورى میں معذور تھے (جیسے حالت مرض میں)۔ (2)
سُوال: آپ سَىِّدِی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ سے کس وجہ سے بىعت ہوئے ؟( مفتى صاحب کا سُوال)
جواب: اعلىٰ حضرت سے مىرى محبت بہت زیادہ ہے، اىک بار حضرت مولانا قارى مصلح الدىن صاحب رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ نے بھى اس محبت کى تعرىف کی تھى۔ اس وقت اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کےبىٹے حضور مفتى اعظم ہند رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ حىات تھے آپ ولى کامل اور بہت بڑے عالم اور اعلىٰ حضرت کے جانشىن بھى تھے، لىکن اعلىٰ حضرت کے مرىد نہیں تھے بلکہ حضرت سَىِّدِ ى احمد نورى رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کے مرىد تھے، اس میں نَعُوْذُ بِاللہ کسى کى توہىن نہىں ہے۔ مىں اعلىٰ حضرت کے سلسلے مىں بىعت ہونا چاہتا تھا، حضرت مولانا قارى مصلح الدىن صاحب نے مىری اس بات پر حوصلہ افزائى فرمائى تھى، سَىِّدِی قُطبِ مدىنہ اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کے مرىد تھے اور مىں ان کا مرىد ہوگیا۔ لہٰذا اعلىٰ حضرت مىرے دادا پىر ہىں۔
سُوال: سَىِّدِی قُطبِ مدىنہ رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ سے مرىد ہونے کے بارے مىں آپ کو کس نے بتاىا؟ (مفتى صاحب کا سُوال)
جواب: میں نے سنا تھا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے اىک خلىفہ مدىنہ مىں رہتے ہىں جن کا نام ”مولانا ضیاءالدین“ ہے، تو مجھے شوق پىدا ہوا کہ مىں ان کا ہی مرىد بنوں، کیونکہ مجھے اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کے بیان کردہ مسائل ہی سمجھ آتے تھے،لہٰذا یہی صحیح لگےاور ان کا مرید ہو گیا۔
سُوال:بُرى صحبت کىا ہےاور اس سے کیسے بچا جائے؟(سَیِّد آصف رضا عطارى، جامعۃالمدینہ)
جواب:کسی کے ساتھ اٹھنےبىٹھنے کوصحبت کہتے ہیں، دَور بہت نازک ہے اس لىے جس کى صحبت بھی اختیار کریں اس کےعقائد و نظرىات دىکھىں کہ اللہ اور اس کے آخرى نبى صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم ، انبىا کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام ، کے بارے مىں اس کے عقائد درست ہو ں، اولىائے کِرام و علمائے کِرام کی توہین نہ کرتا ہو، کسى اىک صحابى پر بھى تنقىد نہ کرتا ہو، اہلِ بىتِ اطہار مىں سے کسى کی شان مىں بھى کمزوربا ت نہ کرتا ہو، دل وجان سےسرکار ِ اعلىٰ حضرت رَحْمَۃُاللّٰہ عَلَیْہِ کو مانتا ہو اور ان کى تعلىمات کوقبول کرتا ہو، اس کا کرداراور عمل بھى اچھا ہوتوایسے شخص کی صحبت اختىار کى جائے۔ اعلىٰ حضرت کے علاوہ بھی بے شمار ایسےعلما ہىں جن کے عقائد بالکل دُرُست ہىں لیکن مىرے پاس اس دورمىں سُنِّىَت کا یہی معىار ہے کہ بندہ اعلىٰ حضرت پر آنکھىں بند رکھنے والا ہو۔
ماخذ و مراجع
نام کتاب مصنف/ مؤلف/متوفیٰ مطبوعات
خازن علاؤ الدین علی بن محمدبغدادی، متوفی ۷۴۱ھ دار الکتب العلمیۃ
بخاری امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری متوفیٰ۲۵۶ ھ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۹
مسلم امام ابو الحسین مسلم بن الحجاج القشیری متوفیٰ۲۶۱ھ دار الکتب العربی، ۱۴۲۷
ابن ماجه امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفیٰ ۲۷۳ھ دار المعرفۃ بیروت
الشمائل المحمدية امام ابو عیسٰی محمد بن عیسٰی ترمذی متوفیٰ۲۷۹ ھ دار احیاء التراث العربی
فتاوی ھندیة شیخ نظام الدین وجماعت علمائے ہند دار الفکر بیروت۱۴۰۲ھ
جوهرة النیرۃ علامہ ابوبکر بن علی حداد، متوفی ٨٠٠ ھ باب المدینہ کراچی
رد المحتار علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی، متوفی ۱۲۵۲ھ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۲۰ھ
در مختار علامہ علاء الدین محمد بن علی حصکفی، متوفی ۱۰۸۸ھ دار المعرفۃ بیروت ۱۴۲۰ھ
فتاویٰ حدیثیه احمد شہاب الدین ابن حجرہیتمی مکی متوفی ۹۷۳ھ دار احیاء التراث العربی
میزان الکبری للشعرانی عبدالوہاب بن احمد بن علی احمدشعرانی، متوفی ۹۷۳ھ مصطفی البابی، مصر
احیاء العلوم امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی ۵۰۵ھ دارصادربيروت
بستان المحدثین شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ۱۲۳۹ھ کراچی