30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پسىنا اور لعاب بھى پاک ہےاور جس کا جوٹھا مکروہ اس کا لعاب اور پسىنا بھى مکروہ ہے ۔ ([1])چونکہ کتے کا تھوک ناپاک ہے تو اس کا جوٹھا بھی ناپاک ہے لہٰذا اگر پتىلى یا کٹورے سے کتے نے پانی پی لیا تو وہ پانى ناپاک ہو جائے گا ۔ اسی طرح کتے کا پسینا بھی ناپاک ہے ۔ ([2])
کتے کے پسینے کی پہچان کیسے ہوگی ؟
سُوال : اگر کسی کے کپڑوں یا بدن سے کتے نے رگڑ کھائی اور اُس کا بدن یا کپڑے گیلے ہو گئے تو اب یہ کیسے طے ہو گا کہ یہ کتے کا پسینا ہے یا کتے کا بدن پانی کے سبب گیلا ہوا تھا؟
جواب : یہ قرینے سے پتہ چلے گا کہ کتے کا بدن پسینے کے سبب گیلا ہوا یا پانی سے مثلاً گرمی کا موسم ہے اور کتا دوڑبھاگ کر آیا ہے یا کتا مالک کے ساتھ ساتھ چل یا دوڑ رہا ہے اور اس کا بدن گیلا ہو گیا تو بظاہر قرینے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ پسینا ہے اور اس کا پسینا ناپاک ہے البتہ اگر بارش ہوئی یا کتا پانی سے گزرا اور اس کا بدن گیلا ہوگیا تو اب بدن سے چھونے کے سبب ناپاک نہیں ہو گا ۔
سُوال : کتوں کی لڑائی کروانا کىسا ہے؟
جواب : کتے لڑانا ناجائز ہے([3])جولوگ کتے لڑاتے ہیں وہ اس سے توبہ کرىں ۔
بلی پالنے اور اس کے لعاب کا شرعی حکم
سُوال : کیا بلی پالنا جائز ہے ؟نیزجس طرح کتے کا لعاب ناپاک ہے تو کىا اسی طرح بلى کا لعاب بھى ناپاک ہے؟(نگرانِ شوریٰ کا سُوال)
جواب : بلى پالنا جائز ہے ۔ صحابیِ رسول حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے چھوٹی سی بلی پالی ہوئی تھی جسے وہ اپنے قمیص کی آستین میں اپنے ساتھ رکھتے تھے اسی لیے اُن کا نام ”ابو ہریرہ “یعنی بلی والے پڑ گیا ۔ ([4]) ان کا اصل نام عَبْدُالرَّحْمٰن ہے اور ابوہریرہ ان کی کنیت ہے تو ان کے بلی پالنے سے بھی پتا چلا کہ بلی پالنا جائز ہے ۔
بلی ایک گھرىلو جانور ہے ۔ ”اگر اس نے پانى مىں منہ ڈالا تو پانى مکروہِ تنزىہی ہو گا ىعنى اس پانى سے بچنا مناسب ہے ناپاک نہىں ہو گا ۔ بلی نے جس پانی میں مُنہ ڈالا اگر اُس پانی سے وضو کیا تو وضو ہو جائے گا اور اس پانی سے وضو کرنا جائز ہے ۔ “([5]) حکمِ شرىعت یہ ہے کہ پھاڑ کھانے والا جو جانور ہوتا ہے جیسے شىر چىتے وغیرہ ان کا لعاب اور تھوک ناپاک ہے ۔ ([6]) بلى بھی چوہے پھاڑ کر کھاتى ہے مگر چونکہ ىہ گھرو ں مىں پالى جاتى ہے اور لوگ اسے گھرىلو جانور بولتے ہىں اس لیے علما نے اس کے جوٹھے کو مکروہ لکھا ہے ۔ ([7])
بلی کے جوٹھے کے پاک ہونے کی وجہ
(اس موقع پر امیرِ اہلسنتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے اِرشاد فرمایا : )حدىثِ پاک مىں ہے کہ ”ىہ تم پر طواف (ىعنى پھىرے لگانے) والى ہے“ ([8]) چونکہ بلی گھر میں آتى جاتى رہتى ہے اور اس سے بچنے مىں مشکلات ہوتى ہىں اس لىے اس کےلعاب کو پاک قرار دىا گىا ۔
سُوال : کتے کو روٹى ڈالنا کىسا ہے؟
جواب : کتا روٹى بھی کھاتا ہے لیکن زیادہ تر ہڈی کھاتا ہے بہرحال جو بھى اس کى غذا ہے وہ تو دىنا پڑے گى بلکہ اگر آپ نے جائز طرىقے پر کتا پالا ہوا ہے تو اسے کھلانا لازم ہے ۔ اگر وہ ستر بار کھاتا ہے تو اُسےستر بار کھلانا پڑے گا یہ ایک مبالغہ ہے یعنی جانور بار بار کھاتے رہتے ہیں ۔ (اس موقع پر امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ
[1] بہار شریعت، ۱ / ۳۴۴، حصہ : ۲
[2] فتاویٰ ھندیة، کتاب الطهارة، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی، ۱ / ۲۴ماخوذاً
[3] مراٰۃ المناجیح، ۵ / ۶۵۹ ملخصاً ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور
[4] اسدالغابة، حرف الھاء، ابو ھریرة، ۶ / ۳۳۷، رقم : ۶۳۱۹دار احیاء التراث العربی بیروت
[5] فتاویٰ ھندیة، کتاب الطھارة، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی، ۱ / ۲۴ ماخوذاً
[6] درمختار مع ردالمحتار، کتاب الطہارة، باب المیاہ، فصل فی البئر، ۱ / ۴۲۵ دار المعرفة بیروت
[7] بہارِ شریعت میں ہے : اچھا پانی ہوتے ہوئے مکروہ پانی سے وُضو و غُسل مکروہ اور اگر اچھا پانی موجود نہیں تو کوئی حَرَج نہیں ۔ (بہارِ شریعت، ۱ / ۳۴۳، حصہ : ۲)
[8] ترمذی، کتاب الطھارة، باب ماجاء فی سور الھرة، ۱ / ۱۵۰، حديث : ۹۲ دار الفکر بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع