30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : مسلمانوں کا کسی کام کو اچھا سمجھنا ہی اس کے اچھا ہونے کی دلیل ہے اگرچہ قرآن واحادیث میں اس کا صراحتاً بیان نہ ہو چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللہ ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : فَمَا رَأَى الْمُسْلِمُوْنَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللهِ حَسَنٌ یعنی جس شے کو مسلمان اچھا سمجھىں وہ اللہ کے ىہاں بھى اچھى ہوتى ہے ۔ ([1])اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنَّت، مُجَدِّدِ دِین ومِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : اہل علم وتقوىٰ ىعنى علما اور متقى پرہىزگار صالحىن لوگ جس چىز کو اچھا سمجھىں وہ اللہ کے نزدىک بھى اچھى ہوتى ہے ۔ ([2]) لہٰذا حضرتِ عبدُاللہ ابنِ مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فرمان میں مسلمانوں سے علما اور صلحا مراد ہیں اگر یہ لوگ کسی چیز کو اچھا سمجھ کر کریں اور وہ شریعت سے نہ ٹکرائے تو وہ اللہ پاک کے نزدیک بھی اچھی ہوگی، ورنہ عوام میں تو داڑھی منڈا نا اور نمازیں نہ پڑھنا بھی رائج ہے کہ اب ایک فیصد مسلمان ہی نماز پڑھتے ہوں گے لہٰذا ان کا کسی کام پر جمع ہونا اس کے اچھے ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا ۔
جھوٹی بات پر قرآن اٹھانا کیسا؟
سُوال : اگر کسى انسان نے تىن مرتبہ جھوٹی بات پر قرآنِ پاک اُٹھاىا تو اس کا کىا گناہ ہے ۔ (بذرىعہ SMS سُوال)
جواب : قرآنِ کرىم کى قسم کھانا قسم ہے البتہ صِرف قرآنِ کرىم اُٹھا کر ىا اس پر ہاتھ رکھ کر کوئى بات کرنا قَسم نہىں فتاوىٰ رضوىہ جلد 13صفحہ 574 پر ہے : جھوٹى بات پر قرآنِ مجىد کى قسم اُٹھانا سخت عظیم گناہ ِکبىرہ ہےاور سچى بات پر قرآنِ عظىم کى قسم کھانے مىں حرج نہىں اور ضرورت ہو تو اُٹھا بھى سکتا ہے مگر ىہ قسم کو بہت سخت کرتا ہے ۔ بلا ضرورتِ خاصہ نہ چاہىے ۔
سُوال : حضورِ غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ عربی تھے یا عجمی؟(ہند سے سُوال)
جواب : حضورِ غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ عجمی تھے ۔ ([3])یاد رہے! جو عربى نہ ہو وہ عجمى کہلاتا ہے جىسا کہ ہم لوگ عجمى ہىں ۔
سُوال : مچھلى کی سِری کھانا کیسا ہے؟
جواب : مچھلى کى سِر ی کھانا حلال ہے اور ىہ آنکھوں کے لىے مفىد ہے ۔ اس حوالے سے اىک مدنى بہار بھی ہے چنانچہ جامعۃُ المدینہ کے ایک طالبِ علم کو نظر کی کمزوری کی وجہ سے ڈھائى ىا ساڑھے تىن نمبر کا چشمہ لگا ہوا تھا ، انہوں نے مکتبۃُ المدینہ کا رسالہ”مچھلی کے عجائبات“([4])پڑھا جس میں مچھلى کی سِری کو اُبال کر اس کا پانی پینے کے فوائد لکھے ہوئے ہىں اس نے بھی مچھلى کی سِری کو اُبال اُبال کر اس کا پانى پىنا شروع کر دیا ، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس کے چشمے کے جو ڈھائى ىا ساڑھے تىن نمبر تھے وہ کم ہوتے ہوتے بالکل ہی ختم ہو گئے اور اُس کی آنکھىں مکمل طور پر درست ہو گئىں ۔ مچھلى کی سِری کھانے سے عقل بھى بڑھتى ہے ۔
ہفتے میں کتنی بار مچھلی کھائی جائے؟
سُوال : ہفتے میں کتنی بار مچھلی کھانی چاہیے ؟([5])
جواب : اگر ہفتے مىں کم ازکم اىک دو بار مچھلی کھائی جائے تو اچھا ہےمگر بعض لوگ مچھلی بالکل نہىں کھاتے حالانکہ اس کے بہت فوائد ہىں ۔ بہت سے لوگ مچھلی تَل کر کھاتے ہیں حالانکہ تَل کر کھانے میں فوائد تو کیا ملیں گے اُلٹا نقصان ہو سکتا ہے کہ جس تیل میں تلتے ہیں وہ بڑا خطرناک ہوتا ہے اور تلتے ہوئے اُس میں فری ریڈیکلز پیدا ہوتے ہیں ۔ اگر مچھلى کھانى ہو تو سب سے بہترىن مچھلى وہ ہے جوکوئلوں پر بھونی جاتی ہے جسے آج کل شاىد گرل فش کہا جاتا ہے، اگرچہ اس پر بھی تھوڑا سا تیل لگانا پڑتا ہے کہ بغیر تىل کے یہ بنتی ہی نہىں ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ تىل اور مصالحہ لگانا اس کے فوائد کو کم کر دے مگر یہ فائدہ مند ہوتی ہےچنانچہ مجھے کسی نے بتاىا تھا کہ جس کو کولىسٹرول ہو اگر وہ کوئلوں پر بھونی ہوئى مچھلى کھالے اور اَبھی وہ اس کے معدےمیں موجود ہو اور وہ اپنا کولیسٹرول چىک کروائے تو اس کا لىول کم آئے گا ۔ مچھلی کے مزید فوائد جاننے کے لیے مکتبۃُ المدینہ سے ”مچھلی کے عجائبات“ نامی مدنی رِسالہ حاصل کر کے اس کا مطالعہ کیجیے ۔
بکرے کی اوجھڑی اور مُرغی کے پنجے کھانا کیسا؟
سُوال : بکرے کی اوجھڑی اور مرغی کے پنجے کھانا کیسا ؟
[1] مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن مسعود، ۲ / ۱۶ حدیث : ۳۶۰۰ دار الفکر بیروت
[2] فتاویٰ رضویہ، ۲۶ / ۵۱۵ماخوذاً رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور
[3] بهجة الاسرار، ذكر فصول من كلامه مرسّع...الخ ، ص ۵۸ماخوذاً دار الکتب العلمیة بیروت
[4] معلومات سے بھرپوریہ رسالہ امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ہی تحریرکردہ ہے ۔ مکتبۃ المدینہ سے اسے حاصل فرما کر مطالعہ کیجئے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[5] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع