30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میرے ہوں گے ۔ ([1])
قرآنِ کریم میں ہر شے کا بیان ہے لیکن...
قرآنِ کریم کی آیتِ کریمہ ہے : )تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ((پ۱۴، النحل : ۸۹) ترجمۂ کنزالایمان : ”ہر چیز کا روشن بیان ہے ۔ “ اگرچہ قرآنِ کریم میں ہرچیز کا بیان ہے لیکن اس کے باوجود ہر ایک اپنے سوال کا جواب قرآنِ کریم سے نہیں نکال سکتا لہٰذا شیطانی وسوسوں میں آئے بغیر سوچنا چاہیے کہ اس طرح کے سوالات کا کیا حاصل ہے؟اس قسم کے سوال کرنے والا ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی قرآنِ کریم سے نماز کا طریقہ نہیں نکال سکے گا ۔ ساری امت عشا کے چار رکعت فرض اداکرتی ہے اس کی قرآنِ کریم میں کہاں صراحت آئی ہے؟ کبھی بھی نہیں بتاسکتا کہ صراحت کے ساتھ عشا کے چار فرض فجر کے دو فرض وغیرہ قرآنِ کریم میں مذکور ہیں بلکہ آج سب ہی اذان دیتے ہیں لیکن یہ اذان قرآنِ کریم میں کہاں ہے؟
نیز دنیاوی لحاظ سے بھی بہت سی باتیں ہیں جن کی قرآنِ کریم میں کوئی صراحت نہیں ہے مگر لوگ وہ کام بڑے شوق سے کرتے ہیں مثلاً بریانی، پراٹھے اور پزوں کا تذکرہ قرآنِ کریم میں کہیں بھی نہیں ملے گا ۔ قرآنِ کریم میں مطلقاً ہے : )كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ-( (پ۸، الاعراف : ۳۱) ترجمۂ کنز الایمان : ”اورکھاؤ اور پیو اورحدسےنہ بڑھو ۔ “ لیکن یہ لذیذ کھانے کھاتے ہوئے کبھی بھی خیا ل نہیں آتا کہ یہ کہاں سے ثابت ہیں؟ بہرحال جو چیزیں حلال ہیں وہ کھائی جائیں گی اور جو حرام ہیں انہیں چھوڑ دیا جائے گا ۔ اسی طرح اصول بنتے ہیں جن کی مدد سے مسائل کو حل کیا جاتا ہے ۔
بعض باتیں احادیث سے ثابت ہوتی ہیں
بعض اوقات کوئی بات قرآنِ كريم میں صراحت کے ساتھ نہیں ہوتی تو وہ احادیث مبارکہ میں مذکورہوتی ہے اور حدیث شریف پر عمل کرنے کا حکم بھی قرآنِ کریم میں ہی ہے :)اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ((پ۷، المائدة : ۹۲) ترجمۂ کنز الایمان : اورحکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا ۔
بعض باتوں کا ثبوت اقوالِ ائمہ سے ہوتا ہے
بعض باتیں احادیثِ مبارکہ میں بھی صراحتاً نہیں ملتیں تو اکابر علما خوب غور و خوض کے بعد وہ مسائل نکالتے ہیں ۔ پھر ہم ان کے بیان کردہ مسئلے پر عمل کرتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں ۔ اپنی عقل کے گھوڑے نہیں دوڑاتے ۔ ہم نے اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا دامن پکڑ لیا ہے ۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ یہ ہمیں آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے ۔
سوشل میڈیا پر شوشے چھوڑنا مہنگا پڑے گا
یاد رکھیے!شرعی احکام کے ثبوت کا ایک پورا سلسلہ اور سسٹم ہے ۔ اسی سسٹم کو امت کے تمام اکابرین علما نے تسلیم کیا ہے لہٰذاجو بھی اس سے باہر نکلے گا وہ غلطی پر ہوگا ۔ اس سسٹم کا ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ اگر یہ نہ ہوتو ہر ایک اٹھ کر کوئی نہ کوئی بات کہے گا کہ ایسا نہیں ایسا ہے ۔ اب تو سوشل میڈیا کا دور ہے اس پر بھی بہت سے لوگ اپنی عقل کے گھوڑے دوڑا رہے ہیں اور ٹھوکریں کھا کھا کرگر رہے ہیں، اس گرنے سے بظاہر چوٹ نہیں لگتی لیکن وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ٹھیک کر رہے ہیں ۔ اس لیے کہ مرنے کے بعد معلوم ہوگا کہ کتنے بیسیوں کے 100 ہوتے ہیں ۔ اس طرح کے سوال ہی نہیں کرنے چاہئیں اور اگر سائل نے اپنی تشفی کے لیے پوچھا تھا تو امید ہے کہ کنفیوزن دور ہوگئی ہوگی ۔
مسلمانوں کا کسی کام کو اچھا سمجھنا
سُوال : اگر کسی بات کا ثبوت قرآن واحادیث سے صراحتاً نہ ملتا ہو تو پھر بھی اسے کرنا کیسا؟([2])
[1] قبر پر اذان دینے کا جواز یقینی ہے کیونکہ شریعتِ مطہر ہ نے اس سے منع نہیں فرمایا اور جس کام سے شرع مطہرہ منع نہ فرما ئے اصلا ً ممنوع نہیں ہوسکتا ۔ نیز احادیث سے ثابت ہے کہ جب مُردے سے منکر نکیر سوالات کرتے ہیں توشیطان مسلمان کو بہکانے کیلئے وہاں بھی آپہنچتا ہے چُنانچہ روایت میں ہے : ’’ جب مُردے سے سوال ہو تاہے کہ تیرا رب کون ہے؟ شیطان اپنی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی میں تیرا رب ہوں ۔ ‘‘ اس لئے حکم آیا کہ میّت کیلئے جواب میں ثابت قدم رہنے کی دعا کریں ۔ اور یہ اَمر بھی احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ اذان دینے سے شیطان بھاگتا ہے چُنانچہ صحیح مسلم میں ہے : ’’ شیطان جب اذان سنتا ہے اتنی دور بھاگتا ہے جیسے روحا ۔ ‘‘ اور روحا مدینہ سے ۳۶ میل کے فاصلہ پر ہے ۔ (بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہل سنت، ص۱۱۵ملخصاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)
شجرہ یا عہد نامہ قبر میں رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میت کے منہ کے سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں بلکہ ’’ درمختار ‘‘ میں کفن میں عہد نامہ لکھنے کو جائز کہا ہے اور فرمایا کہ اس سے مغفرت کی امید ہے ۔ (بہارِشریعت، ۱ / ۸۴۸ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)فتاویٰ رضویہ میں ہے : ’’ (شجرہ طَیِّبَہ) قَبْر میں طاق بناکر( رکھیں) خواہ سرہانے کہ نکیرین پائینتی کی طرف سے آتے ہیں اُن کے پیشِ نظر ہو، خواہ جانبِ قبلہ کہ میّت کے پیش رو (یعنی سامنے)رہے اور اس کے سکون و اطمینان واِعانتِ جواب کا باعث ہو ۔ (علامہ)شاہ عبدالعزیز صاحبرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی رسالہ”فیضِ عام“ میں شجرہ قبر میں رکھنے کو معمولِ بزرگانِ دین بتاکر سرہانے طاق میں رکھنا پسند کیا ۔ ‘‘ (فتاوی رضویہ، ۹ / ۱۳۴)
[2] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع