30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چلناہے ۔ اب میں دعوتِ اسلامی کا بڑا خادم بنا بیٹھا ہوں([1])تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ میں جو چاہوں دعوتِ اسلامی کے اموال میں تصرف کروں؟نہیں ایسا ہرگز نہیں ۔ وقف کی اشیاء کے استعمال میں سب کے لیے ایک دائرہ مقرر ہے اسی میں رہتے ہوئے ہم سب کو چلنا ہے ۔ اللہ پاک ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
آبِِ زم زم کھڑے ہوکر پینے پر وضاحت کرنا
سُوال : کیا آبِ زم زم کھڑےہوکر پینے پر وضاحت کردی جائے تاکہ کوئی بدگمانی نہ کرے؟([2])
جواب : جی ہاں! میں جب ایسا کرتا ہوں تو ضرورتاً یہ وضاحت بھی کردیتا ہوں کہ ”یہ آبِ زم زم تھا اسی وجہ سے کھڑے ہوکر پیا ہے“تاکہ کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ دنیا کو سنتیں بتاتے ہیں اور خود کھڑے کھڑے پانی پیتے ہیں ۔ یاد رہے کہ تہمت کی جگہ سے بچنا واجب ہے([3])البتہ ا ٓبِ زم زم کھڑے ہوکر پینا ضروری نہیں ۔ اس کا ذکر ضمناً کردیا ورنہ سادہ پانی بھی کھڑے کھڑے پینے سے بندہ گناہ گار نہیں ہوگا ۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ اس نے پانی پینے کا ادب چھوڑا اور سنت کو ترک کیا لیکن اس وجہ سے یہ بے عمل نہیں کہلائے گا ۔
کھڑے ہوکر پانی پینے والے سے حسن ِظن رکھنا
اگر کوئی کھڑے ہوکر پانی پیتا بھی ہے تو دیکھنے والے کو چاہیے کہ وہ بد گمانی نہ کرےحسنِ ظن سے کام لے ، ہو سکتا ہے اس کا کوئی عذر ہو مثلاًاس کوبیٹھنےکی جگہ نہ ملی ہویابے چارےکو بیٹھنے میں تکلیف ہوتی ہو ۔ تو ہمیں حسنِ ظن کا جام کھڑے کھڑے اور لیٹے لیٹے دونوں طرح پینے کی اجازت ہے بلکہ تاکید ہے لہٰذا کسی کے بارے میں بھی بدگمانی کرنے کے بجائے حسنِ ظن سے کام لیا جائے خصوصاً اس وقت کہ جب اس بات کے مختلف پہلو نکلتے ہوں کیونکہ مومن کے فعل کو حسنِ ظن پر محمول کرنا واجب ہے یعنی مومن کی بات کے جتنے درست پہلو نکلتے ہوں نکالے جائیں ۔ ہمارے یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے بات سُن کر فوراً بدگمانی شروع کردیتے ہیں ۔
کیا نیاز صرف سفید چیز پر ہی ہوسکتی ہے؟
سُوال : تہوار کے دنوں میں مٹھائی والوں کے پاس لوگ سفید رنگ کی مٹھائی زیادہ مانگتے ہیں ، کیا نیاز صرف سفید رنگ کی چیز پر ہی ہوسکتی ہے؟
جواب : نیاز کے لیے کوئی رنگ مخصوص نہیں بلکہ میں نے یہ بات خود پہلی مرتبہ سنی ہے کہ نیاز سفید چیز پر ہی دی جائے گی ۔ تو یہ ضروری نہیں ہے ۔ نیاز یا فاتحہ سفید کلر کے علاوہ کسی بھی رنگ والی چیز پر بھی دی جاسکتی ہے ۔ آج کل تو سفید چیزوں کا رنگ مزید نکھارنے کے لیے ان میں طرح طرح کی اشیاء شامل کی جارہی ہیں خصوصاً وہ اشیاء جو دودھ میں پکاکر بنائی جاتی ہیں کیونکہ دودھ خوب اچھی طرح پکنے کے بعد سفید نہیں رہتا بلکہ اس کے رنگ میں کچھ نہ کچھ تبدیلی آجاتی ہے اور یہ چاکلیٹی کلر کی طرف مائل ہوجاتا ہے یوں ہی کھویا بھی سفید ہوتا ہے مگر اس کا کلر بھی کچھ نہ کچھ ماند پڑ جاتا ہے، دودھ کی طرح سفید کرنے کے لیے اس میں کلر شامل کرتے ہیں ۔ ان چیزوں سے بچنے کی کوشش بھی کی جائے تو دیگر معاملات میں اُلجھ جائیں گے کیونکہ صرف ایک کلر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہیں مثلاً خالص دودھ ہی کو لیجیے تو اس کا ملنا بھی دشوار ہوگیا ہے اب تو حالات ایسے ہیں کہ عوام ڈبوں میں بھی دودھ خریدے تو اصل دودھ کے بجائے Tea Whitener ملتا ہے ۔ دودھ نہیں ہوتا اگرچہ اس کی کمپنی قانون سے بچنے کے لیے ڈبے پر Tea Whitener لکھ دیتی ہیں مگر عوام اسے دودھ سمجھ کر ہی خرید رہے ہوتے ہیں ۔ جبھی کہا جاتا ہے : اگر جینے کی خواہش ہے تو کچھ پہچان پیدا کر ۔
دعوتِ اسلامی کی پہلی درسی کتاب کون سی ہے؟
سُوال : دعوتِ اسلامی میں جو سب سے پہلا درس ہوا ، وہ مدنی درس حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کی کتاب مُکَاشَفَۃُ الْقُلُوْب سے ہوا تھا اس کی کیا حکمت ہے؟ (حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے مزارِ پر انوار سے ایک زائر کا سوال)
جواب : اللہ پاک حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے مزار پر خوب خوب انوار و تجلیات کی بارش فرمائے ۔ حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہمارے بہت بڑے محسن، پانچویں صدی کے مجدد، عالمِ دین، فقیہ اوراللہ پاک کےبہت بڑے ولی اور صوفی بزرگ تھے ۔ جب دعوتِ اسلامی بنی تو درس کا مرحلہ بھی
[1] شیخِ طریقت، امیرِاہلسنت حضرت علامہ مولانا محمدالیاس عطارقادری رضویدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بانیِ دعوتِ اسلامی ہیں ، اس طرح کے الفاظ آپ نے عاجزی کے طورپر بیان فرمائے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[2] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
[3] حدیث شریف میں ہے : اِتَّقُوْا مَوَاضِعَ التُّهَمِ یعنی تہمت کے مواقع سے بچو ۔ (کشف الخفاء، حرف الھمزة، ۱ / ۳۷، حدیث : ۸۸دار الکتب العلمیة بیروت ) نیز ایک اور روایت میں فرمایا گیا : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقِفَنَّ مَوَاقِفَ التُّهَمِ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتاہے وہ تہمت کے مواقع میں ہرگز نہ کھڑا ہو ۔ (المقاصد الحسنة، حرف الميم، ص۴۲۱، حدیث : ۱۱۳۳ دار الکتاب العربی بیروت )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع