30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔ بہرحال تقدىر کى قسمىں ہىں لیکن بندے کو تقدیر کے متعلق بحث نہیں کرنی چاہیے ۔ ([1]) کہ اس موضوع پر بحث کرنے میں رسک ہوتا ہے ۔
جانور کو غلطی سےماردیا توگناہ گار ہوگا؟
سُوال : گاڑی چلاتے ہوئے اگر اچانک کوئی جانور روڈ پر آجائے اور گاڑی کے نیچے آکر مرجائے تو کیا گاڑی چلانے والا گناہ گار ہوگا ؟(ڈیرہ اسماعیل خان سے سوال)
جواب : (امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا : ) اگر ایسا قصداً نہیں کیا بلکہ اچانک کوئی جانور سامنے آکر مرگیا جیسے بلی اکثر سامنے آجاتی ہے تو اس میں وہ شخص گناہ گار نہیں ہوگا ۔ لیکن جب کبھی ایسا ہوجائے اور دل پریشان ہو کہ یہ مجھ سے کیا ہوگیا ؟تو دل کی تسلی کے لیے راہِ خدا میں کچھ نہ کچھ صدقہ و خیرات کردینا چاہیے ۔
اگر جانور مارا گیا تو قانون کے مطابق عمل کیا جائے
(امىرِ اہلسنتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا : )جس ملک میں یہ حادثہ ہوا وہاں کے قانون کے مطابق بھی عمل کیا جائے ۔ دنیا کا ایک ملک ہے جہاں کسی کی گاڑی سے ایکسیڈنٹ میں کوئی اونٹ مارا جائے تو اس کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ شاید بندہ ایکسیڈنٹ میں مارا جائے تو اتنی رقم نہیں ہے جتنی اونٹ مارنے پر ہے حالانکہ یہ بات ظاہر ہے کہ اونٹ کو کوئی بھی گاڑی والا جان بوجھ کر ٹکر نہیں مارے گا کیونکہ اس سے اس کی اپنی گاڑی بھی Damage ہوجائے گی ۔ اسی طرح انسان کو بھی کوئی جان بوجھ کر نہیں مارے گا البتہ کسی کے قتل کی سازش ہوتو وہ الگ بات ہے لیکن عام طور پر ایکسیڈنٹ جان بوجھ کر نہیں ہوتے ۔ معمولی لاپرواہی کی وجہ سے ایسا ہوجاتا ہے جبھی اس کی سزائیں مقرر ہیں جیسے قتلِ خطا میں ہوتا ہے کہ جانور کا شکار کرنے کے لیے گولی چلائی اور وہ کسی بندے کو لگ گئی جس سے وہ ہلاک ہوگیا تو اگرچہ اس نے یہ قتل جان بوجھ کر نہیں کیا لیکن اس کے باوجود اس کی سزا مقرر ہے ۔
ایک چکور جب ہماری گاڑی سے ٹکرایا تو...
اگر کوئی جانور غلطی سے بھی مارا جائے تو اس کا صدمہ ضرور ہوتا ہے جیسے ہم ایک بار پنجاب پاکستان کے دورے پر تھے، ہماری گاڑی کسی جنگل سے گزر رہی تھی کہ ایک چکور نامی پرندہ جو پاکستان کا قومی پرندہ ہے اور حلال بھی ہے ۔ ([2]) یہ زیادہ اڑان نہیں بھر سکتا تو یہ پھدکتا ہوا ہماری کار سے ٹکرا گیا ۔ بے چارے کی چونچ پھنس گئی، ہم نے اتر کر دیکھا تو وہ دم توڑ چکا تھا ۔ ظاہر ہے اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں تھا لیکن پھر بھی افسوس ہوا کہ یہ کیا ہوگیا؟ بہرحال روڈوں پر بلی کتے کچلے ہوئے پڑے ہوتے ہیں تو اس حوالے سے خوب احتیاط کرنی چاہیے ۔
شادی شُدہ اسلامی بہنیں بھی درسِ نظامی کر سکتی ہیں
سُوال : کىا شادى شُدہ اسلامى بہن درسِ نظامى کرسکتى ہے؟
جواب : شادى شُدہ اسلامى بہنوں کو بالکل درسِ نظامی کرنا چاہیے ۔ درسِ نظامی کرنے کے لیے شادى شدہ ہونا یا نہ ہونا شرط نہىں ہے ۔
عورتوں کا گرم ٹوپی پہننا کیسا؟
سُوال : سردىوں مىں عورتىں گرم ٹوپى پہنتى ہىں، ان کا گرم ٹوپى پہننا کیسا ہے ؟
جواب : اگر گرم ٹوپی پہننے سے مردو ں سے مشابہت ہو رہى ہو تو پہننے کى اجازت نہىں ہے البتہ اگر لىڈیز ٹوپی ہو تو اُسے پہننا عورتوں کے لیے ٹھىک ہے ۔ (اس موقع پر امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے اِرشاد فرمایا : ) صِرف مشابہت نہىں بلکہ مشابہت کے علاوہ اور چىزىں بھى دىکھى جائىں گى کہ نىک صالح عورت اس طرح کى ٹوپى پہن کر گھر مىں رہے یہ الگ بات ہے اور باہر نکلنے کى الگ صورت ہو گی ۔ مشابہت صرف مَردوں سے ہی نہیں بلکہ فاسقہ فاجرہ عورتوں سے بھى نہىں ہونى چاہىے اور اس ٹوپی کے پہننے سے بے پردگی کی صورت بھی نہ بنے ۔
بے وضو مدنی قاعدہ پڑھنا اور پڑھانا کیسا؟
سُوال : میں مدرسۃُ المدىنہ بالغان کا مُعَلِّم ہوں، مجھے فیکٹریوں اور کارخانوں میں مدرسۃُ المدىنہ بالغان پڑھانے جانا ہوتا ہے اور وہاں وضو کا اہتمام نہىں ہوتا تو کىا اسلامى بھائى بغىر وضو کے مدنى قاعدہ پڑھ سکتے ہىں ۔
جواب : اگر مُعَلِّم کو پڑھاتے ہوئے آىتوں کو نہیں چھونا پڑتا ىا وہ زبانى پڑھاتا ہے تو بے وضو پڑھانے مىں حرج نہىں بلکہ اگر وہ بے وضو قرآنِ پاک حفظ بھى کروا رہا ہے اور اُسے قرآنِ پاک کو ہاتھ لگانے کى ضرورت نہىں پڑتی تو اس کا پڑھانا جائز ہے مگر قرآنِ کریم کو بے وضو چھونا جائز نہىں ۔ حروفِ مفردات جنہیں الفابیٹ
[1] نبیِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ تم تقدیر کے بارے میں گفتگونہ کیا کرو ۔ (تاریخِ بغداد، حرف الحاء، محمدبن الحسن الدوری، ۲ / ۱۸۵، الرقم : ۶۰۸دار الکتب العلمیة بیروت)
[2] حیاة الحیوان الکبریٰ، باب القاف، القبج، ۲ / ۳۲۵ دار الکتب العلمیة بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع