30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پىسے نکلوانے کے لیے بدمعاشوں کا سہارا لینا کیسا ؟
بعض لوگ پھنسی رقم نکلوانے کے لیے بدمعاش قسم کے لوگوں سے رابطے کرتے ہىں کہ بھاگتےچور کى لنگوٹى ہی سہى ۔ ان سے عموماً اس قسم کا معاہدہ کیا جاتا ہے کہ رقم نکلوانے کی صورت میں آدھی تمہاری آدھی ہماری ۔ چنانچہ اب رقم نکلوانے کے لیے ان لوگوں کی طرف سے دھمکىاں دىنا ، بچے اٹھانا، گولىاں چلانا ىہ سب ہتھکنڈے آزمائے جاتے ہوں گے ۔ ظاہر ہے کہ ایسا طرىقہ اختیار کرنا ناجائز ہے ۔
اگر مسجد میں جوتی چوری ہوجائے تو؟
سُوال : اگر مسجد مىں جوتی چورى ہوجائے تو کىا کرنا چاہىے؟
جواب : صبر کرنا چاہىے ۔
مدت گزرنے سے مہر میں اضافہ نہیں ہوگا
سُوال : اگر مہر اىک مدت کے بعد ادا کرے تو جو طے شدہ تھا وہى دے گا ىا اضافہ کرکے دے گا؟
جواب : مہر جو طے شدہ تھا وہى دینا ہوگا ۔ مدت گزرنے کے سبب اس پر سود نہیں بنتا ۔
اگر شوہر بے حِس ہوتو بیوی کیا کرے؟
سُوال : بے حِس شوہر کے دل مىں بىوى کا احساس کىسے پىدا کىا جائے؟
جواب : اگر بىوى اس کو پىار دے تو شوہر کی بے حسی ختم ہوسکتی ہے ۔ ا س لیے کہ بعض اوقات شوہر بے حس نہىں ہوتا بلکہ بىوى دو قدم آگے ہوتى ہے مثلاً جىسے ہی شوہر گھر مىں آئے گا تو بیوی پہلے بچوں کى شکاىت کرے گی، پھر پوچھے گی فلاں چیز لائے یا نہىں؟ اگر نہیں لایا تو اب کوسنے دے گی کہ روز ىاد دلاتى ہوں لیکن آپ کو ىاد ہى نہىں رہتا ۔ اب جواب میں وہ بھی بھڑکے گا اور گھر میں کہرام مچ جائے گا ۔ اس جھگڑے کی بناپر فقط شوہر کو ہی بےحس نہیں کہہ سکتے ۔ بیوی نے بھی بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ لہٰذا بیوی کو چاہیے کہ جب شوہر گھر آئے تو مسکرا کر اس کا استقبال کرے ، چائے پانى ىا جو بھى اس کى ضرورت ہے پىش کرے ۔ اب اس کى حس اور بے حسى کا پتا چلے گا ؟اور اگر واقعی میں وہ بے حس ہی تھا تو بیوی کے اچھے رویے سے باحِس ہوجائے گا ۔
اگر شوہر بےحِس ہے ۔ شرابی کبابی یا جواری ہے ۔ گھر میں لڑائی جھگڑا کرتا ہےتب بھى بیوی کو اس کا خیال نہ رکھنے کى اجازت نہىں ۔ لہٰذا بیوی کو چاہیے کہ شوہر کے حقوق ادا کرتی رہے اور شوہر کا رویہ اچھا ہونے کے لیے دعا بھی کرتی رہے ۔ اگر بیوی اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے گى تو ہی گھر چلے گا ورنہ تو کچھ اور چل جائے گا جو کہ گھر کو برباد کرنے والا ہوتا ہے ۔
سُوال : کیا شوہر کو بیوی کی ہر خواہش پوری کرنا لازمی ہے؟ ([1])
جواب : قرآنِ پاک میں ارشاد ہے : (اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ)(پ۵، النساء : ۳۴) ترجمۂ کنزالایمان : ”مرد افسر ہیں عورتوں پر ۔ “ تو مرد عورت پر حاکم ہے ۔ لہٰذا عورت کو مرد کى اطاعت اور فرمانبردارى کرنی ہے ۔ اس کے بجائے اگر عورت چاہے کہ شوہر مىرى مانے اور مىرا فرمانبردار ہوتو یہ درست نہیں ۔ جائز درخواستىں اور فرمائشىں مثلاً طرح طرح کے کھانوں ، نت نئے ڈیزائن کے کپڑوں وغیرہ وغیرہ کی طلب پوری کرنا شوہر پر واجب نہیں ۔ واجب صرف نان نفقہ وغىرہ ہےالبتہ اگر شوہر دیگر فرمائشیں بھی پوری کرتا ہے تو یہ بیوی پر احسان ہوگا ۔ چونکہ یہ ثواب کا کام ہے لہٰذا شوہر کو حتی الامکان جائز خواہشات پوری کرنی چاہىے ۔
نصیب پر بھروسا کرکے محنت نہ کرنا کیسا؟
سُوال : کىا نصىب مىں لکھا بھى محنت سے ملتا ہے؟
جواب : نصیب کا لکھا ہوا ہی ملتا ہے لیکن اس کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے ۔ مشہور بھی ہے کہ حرکت میں برکت ہے ۔ اگر کوئی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر درخت کے نىچے بىٹھ جائے کہ پھل گرے اور منہ میں چلا جائے تو ایسا نہیں ہوتا ۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کوئی بیٹھتا بھی نہیں ہے، بس یہ باتیں ہی ہیں ۔ سوشل مىڈىا پر لوگ ایسے شوشے چھوڑ دىتے ہىں ۔ اگر بے چارے کسی وسوسے کی بناپر ایسا کریں تو ظاہر ہے کہ سوشل مىڈىا سے وسوسے حل نہىں ہوں گے ۔ اس کے لیے علما سے رجوع کرنا پڑے گا
[1] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع