30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرائض میں سے نماز فرض اوراس سے ملحق (یعنی واجب) اور اَصَح قول پر سنّتِ فجر میں بھی قیام پر قادر شخص کیلئے قیام فرض ہے اور قادر سے مراد وہ شخص ہے کہ جو قیام اور سجدہ دونوں پر قادر ہو لہٰذا اگر کوئی شخص قیام پر تو قادر ہے مگر سجدہ پر قادر نہیں تو اس کے لئے بیٹھ کر اشارے سے نماز ادا کرنا مستحب ہے یونہی وہ شخص کہ سجدہ کرنے کی صورت میں جس کا زخم بہتا ہو (اس کے لئے بھی بیٹھ کر اشارے سے نماز ادا کرنا مستحب ہے) اور کبھی بیٹھ کر نماز ادا کرنا ہی متعین و لازم ہوجاتا ہے جیسا کہ وہ شخص کہ کھڑے ہونے سے جس کا زخم بہتا ہو یا پیشاب کے قطرے آتے ہوں یاکھڑے ہونے کی وجہ سے چوتھائی سَتْر ُکھل جائے گا یا قیام کرنے کی صورت میں قرائَ ت بالکل بھی نہیں کرسکے گا یا رمضان کے روزے نہیں رکھ پائے گا (تو ان صورتوں میں بیٹھ کر ہی نماز پڑھنا لازم ہے) اور اگر جماعت میں جانے کی وجہ سے قیام کرنے میں ضعف پیدا ہوتا ہے (یعنی اگر مسجد میں حصولِ جماعت کے لئے جائے گا تو قیام نہیں کرسکے گا جبکہ یہاں گھر میں پڑھتا ہے تو قیام کے ساتھ نماز ادا کرلے گا) تو اس صورت میں حکم یہ ہے کہ گھر میں کھڑے ہوکر نماز ادا کرے گا اسی پر فتویٰ دیا گیا ہے، اشباہ میں مذکور قول کے بر خلاف۔ ([1])
متن کی عبارت ’’ لقادر علیہ ‘‘ کے تحت علاّمہ شامی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ فرماتےہیں : ’’ فلو عجز عنہ حقیقۃً وھو ظاہر او حکمًا کما لو حصل لہ بہ الم شدید او خاف زیادۃ المرض وکالمسائل الآتیۃ فی قولہ ’’ وقد یتحتم القعود۔۔۔الخ ‘‘ فانہ یسقط وقد یسقط مع القدرۃ علیہ فیما لو عجز عن السجود کما اقتصر علیہ الشارح تبعًا للبحر و یزداد مسالۃ اخری وھی الصلاۃ فی السفینۃ الجاریۃ فانہ یصلی فیھا قاعدًا مع القدرۃ علی القیام عند الامام ‘‘ یعنی اگر کوئی شخص حقیقتاً قیام سے عاجز ہو اور یہ صورت ظاہر ہے یا حکماً عاجز ہو جیسے قیام کی وجہ سے اسے شدید درد ہوگا یا مرض بڑھ جانے کا خوف ہے اسی طرح ’’ دُر ‘‘ کی عبارت ’’ وقد یتحتم ‘‘ میں جو صورتیں آرہی ہیں تو وہ بھی عجز ِحکمی میں داخل ہیں ان صورتوں میں بھی قیام ساقط ہوجائے گا، اور کبھی قیام پر قدرت کے باوجود بھی قیام ساقط ہوجاتا ہے جیسا کہ سجدہ سے عاجز ہونے کی صورت میں قیام ساقط ہوجاتا ہے، شارح عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے ’’ بحر ‘‘ کی اتباع میں صرف اسی پر اقتصار کیا ہے اور اس پر ایک دوسرا مسئلہ اضافہ کیا جائے گا وہ چلتی ہوئی کَشْتی میں نماز ادا کرنے کا ہے کہ اگرچہ قیام پر قادر ہو امام اعظم عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کے نزدیک بیٹھ کر نماز ادا کرسکتا ہے۔
اور ’’ فلو قدر علیہ ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ ای علی القیام وحدہ او مع الرکوع کما فی المنیۃ ‘‘ یعنی صرف قیام پر قادر ہو یا قیام کے ساتھ رکوع پر بھی قادرہو (بہر صورت حکم ایک ہے کہ جب سجدہ سے عاجز ہے تو قیام ساقط ہوجائیگا) جیسے کہ ’’ منیہ ‘‘ میں مذکور ہے۔ ([2])
اسی میں ’’ صَلٰوۃُ الْمَرِیْض ‘‘ کے باب میں ایک مسئلہ کی تحقیق کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’ ان کان الموضوع مما یصح السجود علیہ کحجر مثلًا ولم یزد ارتفاعہ علی قدر لبنۃ اولبنتین فھو سجود حقیقی۔۔۔۔۔۔۔ بل یظہر لی أنہ لو کان قادرًا علی وضع شیٔ علی الأرض مما یصح السجود علیہ أنہ یلزم ذلک ‘‘ کہ اگر وہ زمین پر رکھی چیز ایسی ہے کہ جس پر سجدہ کرنا درست ہے مثلاً پتھر پر کیا اور وہ ایک یا دو اینٹوں سے زیادہ بلند بھی نہیں تو اس پر کیا جانے والا سجدہ حقیقی سجدہ ہے۔۔۔۔۔ بلکہ میرے لئے تو یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ اگر کوئی شخص زمین پر ایسی چیز کہ جس پر سجدہ صحیح ہو رکھ کر سجدہ کرسکتا ہے تو اس پر ایسا کرنا لازم ہے۔ ([3])
امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِرَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ اپنے ایک تحقیقی فتوے میں فرضیت ِقیام میں کوتاہی کرنے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع