30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صورت میں عوامُ الناس کو یہ شبہ لاحق ([1]) ہوتا ہے کہ قیام پر قدرت کے باوجود قیام کیسے ساقط ہورہا ہے اور کَمَا حَقُّہٗ وہ ان مسائل کو سمجھ نہیں پاتے اس لئے دونوں صورتوں میں فرق ملحوظ رکھنا چاہئے۔
کرسی پر یا اس کے علاوہ بیٹھ کر پڑھنے کے حکمِ شرعی کی مزید وضاحت کے لئے دو جامع صورتیں ذکر کی جاتی ہیں اس باب کے مسائل کا لُبِّ لُباب ان سے اچھی طرح ذہن نشین ہوسکتا ہے۔
(1) قیام پر قدرت نہ ہو، بالکل قادر نہ ہو یا کچھ قیام پر قادر ہو پھر قدرت نہ رہے، مگر رکوع و سجدہ پر قادر ہے۔
اس صورت میں مریض جتنا قیام کرسکتا ہے اتنا قیام کرکے باقی نماز بیٹھ کر تو پڑھ سکتا ہے مگر چونکہ رکوع و سجود پر قادر ہے اس لئے درست طریقے سے پیٹھ جھکاکر رکوع کرنا ہوگا اور سجدہ بھی زمین ہی پر کرنا ہو گا زیادہ سے زیادہ بارہ اُنگل اونچی رکھی ہوئی چیز پر بھی سجدہ کرسکے تو اسی پر سجدہ کرنا ضروری ہے رکوع و سجود کی جگہ اشارہ کرنے سے اس کی نماز نہ ہوگی۔
اب اگر تَأَمُّل سے کام لیا جائے تو اس صورت میں اگر بیٹھنے والا زمین پر بیٹھا ہو تو رکوع اور سجدے کرنے میں اسے کوئی دِقَّت نہ ہوگی لیکن اگر کرسی پر بیٹھا ہو تو سجدہ کرنے کے لئے اسے کرسی پر سے اُترنا پڑے گا اور سجدہ زمین پر درستطریقے سے کرنے کے بعد دوبارہ کرسی پر بیٹھنا ہوگا، اس میں چونکہ دِقَّت بھی ہے اور جماعت کے ساتھ پڑھنے والا اس طرح کرے تو بڑا عجیب و غریب منظر دِکھائی دیتا ہے، سجدہ بھی اسے صف سے آگے نکل کر کرنا پڑتا ہے، یوں صف کی درستگی میں بھی خلل آجاتا ہے۔
پھر اہم بات یہ کہ جب وہ سجدہ زمین پر کرنے پر قادر ہے تو قیام کے بعد اسے کرسی پر بیٹھنے کی ضرورت ہی کیا ہے جب بیٹھنا ہی اس کا غیر ضروری لغو وفضول ہے تو اسے ہرگز کرسی پر نہیں بیٹھنا چاہئے، اس طرح بیٹھنے والے یا تو بلاوجہ کی دِقَّتوں میں پڑتے ہیں یا قادر ہونے کے باوجود رکوع و سجود کرسی پر بیٹھے بیٹھے اشاروں سے کرتے ہیں ، یوں اپنی نماز وں کو فاسد کرتے ہیں۔
لہٰذا ایسوں کو زمین ہی پر بیٹھ کر رکوع و سجود درست طریقے سے بآسانی ادا کرکے نماز پڑھنی چاہئے تاکہ فساد اور ہر قسم کے خلل سے ان کی نماز محفوظ رہے۔
(2) رکوع وسجود دونوں پر قدرت نہ ہو یا صرف سجدے پر قادر نہ ہو تو اگرچہ کھڑا ہوسکتا ہواس سے اصلاً قیام ساقط ہوجاتا ہے۔
لہٰذا اس صورت میں مریض بیٹھ کر بھی نماز پڑھ سکتا ہے بلکہ اس کے لئے افضل بیٹھ کر پڑھنا ہے اور ایسا مریض اگر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کی بھی گنجائش ہے کہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے رکوع و سجود بھی اشارہ سے بآسانی کئے جاسکتے ہیں ، یوں پوری نماز بیٹھے بیٹھے ادا ہوجائے گی، پہلی صورت کی طرح بے جا دِقَّتوں اور فسادِ نماز وغیرہ کا اندیشہ اس صورت میں نہیں ہوتا۔
مگرچونکہ حتی الامکان دو زانوں بیٹھنا چاہئے کہ مستحب ہے اس لئے کرسی پر پاؤں لٹکاکر بیٹھنے سے احتراز کرنا چاہئے، جس طرح آسان ہو زمین ہی پر بیٹھ کر نماز ادا کی جائے، دو زانوں بیٹھنا آسان ہو یا دوسری طرح بیٹھنے کے برابر ہو تو دو زانوں بیٹھنا مستحب ہے ورنہ جس میں آسانی ہو چار زانو ں یا اُکڑوں یا ایک پاؤں کھڑا کرکے ایک بچھا کر اسی طرح بیٹھ جائے، ہاں اگر زمین پر بیٹھا ہی نہ جائے تو اس دوسری صورت میں کرسی یااِسٹول یا تخت وغیرہ پر پاؤں لٹکاکر بیٹھ سکتے ہیں مگر بلا وجہ ٹیک لگانے سے پھر بھی احتراز کیا جائے کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے کی جنہیں اجازت ہوتی ہے حتی الامکان انہیں ٹیک لگانے سے احتراز کرنا چاہئے اور ادب و تعظیم اور سنت کے مطابق اَفعال بجا لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع