30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
کیا فرماتے ہیں علماءِ دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ کرسی پر بیٹھ کرنماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ آج کل مساجد میں اس کا بہت رواج ہوگیا ہے لہٰذا وضاحت کے ساتھ اس کاجواب دیں تاکہ عوامُ النّاس کو اس حوالے سے شرعی رہنمائی حاصل ہوجائے ؟نیزکرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا شخص پورا قیام یا بعض صف سے آگے ہوکر کرے تواس کا کیا حکم ہے؟اور مساجد میں معذور افراد کیلئے کرسیاں کہاں رکھنی چاہئیں ؟مزید یہ کہ کرسی کے ساتھ لگے ہوئے تختوں پر بعض لوگ سر رکھ کر سجدہ کرتے ہیں اس کا کیا حکم ہے، یہ کہنا کہ مکروہِ تحریمی و گناہ ہے درست ہے یا نہیں ؟ سائل: محمد عبداللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَاب
فرائض وواجبات اور سنّتِ فجر میں قیام فرض ہے۔ ان نمازوں کو اگر بلاعذرِ شرعی بیٹھ کر پڑھیں گے تو ادا نہ ہوں گی اور اگر خود کھڑے ہوکر نہیں پڑھ سکتے مگر عصایا دیوار یا آدمی کے سہارے کھڑا ہونا ممکن ہو تو جتنی دیر اس طرح سہارے سے کھڑا ہوسکتا ہے اتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے، یہاں تک کے صرف تکبیر ِتحریمہکھڑے ہوکر کہہ سکتا ہے تو اتنا ہی قیام فرض ہے اور اگر اس کی بھی اِستطاعت نہ ہو یعنی نہ خود کھڑا ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی چیز سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوسکتا ہے اگرچہ کچھ دیر کے لئے ہی سہی تو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ یونہی کھڑے ہونے میں پیشاب کا قطرہ آتا ہے یا چوتھائی سَتْر ُکھلتا ہے یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے ایسا لاغر و کمزور ہوچکا ہے کہ کھڑا تو ہوجائے گا مگر قراء ت نہ کر پائے گا تو قیام ساقط ([1]) ہوجائے گا۔مگر اس بات کا خیال رہے کہ ُسستی و کاہلی اور معمولی دِقَّت کو مجبوری بنانے سے قیام ساقط نہیں ہوتا بلکہ اس بات کاگمان غالب ہو کہ قیام کرنے سے مرض میں زیادتی ہوجائے گی یا دیر میں اچھا ہو گا یا ناقابلِ برداشت تکلیف ہو گی تو بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت ملتی ہے۔
اس فرضیت ِقیام کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگالیجئے کہ جماعت سے نماز پڑھنے کے لئے جائے گا تو قیام نہ کرسکے گا، گھر میں پڑھے تو قیام کے ساتھ پڑھ سکتا ہے تو شرعاً حکم یہ ہے کہ گھر میں قیام کے ساتھ نماز پڑھے، اگر گھر میں جماعت میسر آجائے تو فَبِہَا ورنہ تنہا ہی قیام کے ساتھ گھر میں پڑھنے کا حکم ہے۔
الغرض سچی مجبوریوں کی بناء پر قیام ساقط ہوتا ہے، اپنی مَن گھڑت بنائی ہوئی نام کی مجبوریوں کا شرعاً کسی قسم کا کوئی لحاظ نہیں ہوتا۔
تنبیہ: قیام کے ساقط ہونے کی ایک اہم صورت یہ بھی ہے کہ اگرچہ قیام پر قادر ہو مگر سجدہ زمین پر یا زمین پر اتنی اونچی رکھی ہوئی چیز پر کہ جس کی اونچائی بارہ اُنگل سے زیادہ نہ ہو کرنے سے عاجز ہو تو اس سجدۂ حقیقی سے عاجز ہونے کی صورت میں اصلاً قیام ساقط ہوجاتا ہے اسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے ورنہ جبقیام کے اوپر ذکر کئے گئے مسائل بیان کئے جاتے ہیں کہ ’’ اگرچہ تکبیر ِتحریمہ کھڑے ہوکر کہہ سکتا ہے تو اتنا قیام فرض ہے ورنہ نماز نہ ہوگی ‘‘ اور اس قسم کے مسائل جو اوپر ذکر کئے گئے تو ان مسائل کی بناء پر سجدہ نہ کرسکنے کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع